English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

بھارت : سرکردہ صحافیوں کیخلاف بغاوت کا مقدمہ

القمر

 

نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارت میں کئی سرکردہ صحافیوں کے خلاف بغاوت کے مقدمات درج کر دیے گئے۔ ان پر کسانوں کو پُرتشدد مظاہروں کی ترغیب دینے کا الزام عائد کیا ہے۔ صحافیوں کی انجمن ایڈیٹرز گلڈ نے اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ریاست اتر پردیش اور مدھیہ پردیش کی پولیس نے 26 جنوری کو مبینہ طور پر لال قلعہ کی فصیل پر سکھ مذہبی پرچم نصب کرنے اور پرتشدد مظاہروں پر اکسانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کانگریس پارٹی کے سرکردہ رہنما ششی تھرور اور ملک کے دیگر 6 سرکردہ صحافیوں کے خلاف بغاوت کے مقدمات درج کیے ہیں۔ ایف آئی آر میں معروف صحافی راج دیپ سر دیسائی، نیشنل ہیرالڈ کے ایڈیٹر مرنال پانڈے، قومی آواز کے مدیر ظفر آغا اور کارواں میگزین سے وابستہ اننت ناتھ اور ونود جوز کے نام بھی شامل ہیں۔ ان افراد پر بغاوت کرنے، مختلف گروہوں کے درمیان افراتفری پیدا کرنے، دانستہ طور پر مذہبی جذبات مجروح کرنے، غلط معلومات پھیلانے اور مجرمانہ سازش میں ملوث ہونے جیسے کئی دیگر الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔ ایسے الزامات کے ثابت ہونے پر ان صحافیوں کو عمر قید تک کی سزا ہو سکتی ہے۔ بھارت میں صحافیوں کی سب اہم انجمن ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا نے پولیس کی اس کارروائی کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے بڑا جھوٹ اور کیا ہو سکتا ہے کہ صحافیوں کی ٹوئٹ کی وجہ سے لال قلعے کی توہین کی گئی۔ ایڈٹرز گلڈ آف انڈیا نے پولیس کی اس کارروائی کو ملک کی جمہوریت پر حملہ قرار دیتے ہوئے میڈیا کو ڈرانے، ہراساں کرنے اور دبانے کی ایک کوشش قرار دیا ہے۔ تنظیم نے اس مقدمے کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ صحافیوں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی ایک اہم وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ ریلی کے دوران ٹریکٹر چلانے والے ایک شخص کی موت حادثے کی وجہ سے ہوئی تھی، تاہم رپورٹ میں بتایا گیا کہ پولیس کی فائرنگ سے ہلاکت ہوئی اور اسی وجہ سے مظاہرین مشتعل ہو کر لال قلعہ میں داخل ہوئے اور تشدد برپا ہوا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے