وفاقی وزیر اسد عمر کی تقریر کے دوران اپوزیشن اور حکومتی ارکان میں ہاتھا پائی ہوئی جبکہ پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی ارکان آپس میں لڑ پڑے۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں وفاقی وزیر ترقی ومنصوبہ بندی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپوزیشن کے دور میں خریدوفروخت کی بولیاں لگیں اور اپوزیشن خود قوم کو گمراہ کر رہی ہے جبکہ ماضی میں ن لیگ، پیپلز پارٹی والے ایک دوسرے پر الزامات لگاتے رہے۔
انہوں نے کہا کہ ان کے لیڈروں کو عوام کی کوئی فکر نہیں، اپوزیشن اراکین کا شور حقائق پر پردہ نہیں ڈال سکتا اور اپوزیشن ہماری جمہوریت پر سیاہ دھبہ ہے۔
وفاقی وزیرترقی ومنصوبہ کا مزید کہنا تھا کہ جہاں ارکان ضمیر بیچ دیں وہاں جمہوریت کیسے مضبوط ہوسکتی ہے؟ سینیٹ الیکشن میں اپوزیشن کیساتھ جو ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔
اپوزیشن اراکین نے اسپیکرڈائس کا گھیراؤ کیا اور گو عمران گو کے نعروں سمیت آٹا مہنگا، چینی چوری اور روٹی مہنگے کے نعرے لگائے گئے۔
اپوزیشن کی ہلڑ بازی کے دوران قومی اسمبلی میں متعدد ارکان دھکم پیل کی وجہ سے گرپڑے جبکہ اپوزیشن ارکان سید قمر نے ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کا مائیک بھی اتار دیا اور وزیرسائنس فواد چوہدری موبائل کے ذریعے وڈیو بناتے رہے۔

