کراچی (رپورٹ: قاضی جاوید) غلط حکومتی فیصلوں نے پیٹرول اور گیس بحران کو مزید سنگین بنا دیا جس سے معیشت، روزگار کو نقصان پہنچا اور نئی سرمایہ کاری کا راستہ بھی بند ہو گیا ہے‘ وزیراعظم تاجر دشمن مشوروں پر عمل کر رہے ہیں ‘ آئی ایم ایف اپنی سخت پالیسیوں کا تسلسل یقینی بنا رہا ہے‘ پیٹرول اور گیس کی قیمتیں بڑھنے سے برآمدات تباہ اور مہنگائی کا طوفان آ گیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر شارق وہرا ، کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین، امریکا پاکستان بزنس ڈیولپمنٹ فورم کے پریذیڈینٹ شیخ امتیاز حسین، سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کے صدر عبدالہادی، یونائیٹڈ بزنس گروپ کے سرپرست اعلیٰ، ایف پی سی سی آئی کے سابق صدر ایس ایم منیر اور سیکرٹری جنرل زبیر طفیل نے جسارت کے اس سوال کے جواب میں کیا کہ ’’پیٹرول اور گیس کے بحران کی وجہ حکومت کی نااہلی ہے یا زمینی حقائق ہیں؟‘‘ شارق وہرا نے کہا کہ اصل حقیقت یہ ہے‘ آج سے30 سال قبل پیٹرول کی قیمت میں اضافے کا جو فارمولا تیا رکیا گیا تھا‘ ہر حکومت اسی فارمولے پر عمل کرتی آ رہی ہے جس کے تحت پیٹرولیم مصنوعات کی فی لیٹر قیمت پر45 سے 50 فیصد تک مختلف ٹیکسز عاید ہیں‘ اس کو حکومت کی نااہلی بھی کہا جا سکتا ہے اور اس سے پوری معیشت کانپ رہی ہے اور برآمدات تباہ ہو رہی ہے‘ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے مہنگائی کا طوفان آگیا ہے‘ گیس کی کمی کی وجہ سے اس کی قیمت میں اضافہ ہو رہاہے‘ دوسری جانب متبادل پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ اور تاپی گیس پائپ لائن منصوبہ معاشی سے زیادہ سیاسی بن چکا ہے اور یہ ایک ناممکن منصوبہ ہے جس میں بھارت اور وسط ایشیائی ممالک بھی شامل ہو گئے تھے۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہ پیٹرول اور گیس بحران حقیقی لیکن غلط فیصلوں سے حکومت کی نااہلی ثابت ہو رہی ہے‘ آئی ایم ایف کے مطالبے پر پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کیا گیا‘ گیس بحران نے جہاں معیشت اور روزگار کو نقصان پہنچایا ہے‘ وہیں مختلف شعبوں میں نئی سرمایہ کاری کا راستہ بھی بند کر دیا ہے‘ سب سے مہنگی گیس خریدنے اور زیادہ ٹیکس ادا کرنے والے سی این جی کو سالہا سال سے نظر انداز کیا جا رہا ہے جبکہ سبسڈی پر سستی گیس لینے والے شعبوں کی سرپرستی کی جا رہی ہے جو حیران کن ہے‘ زمینی حقائق یہ ہیں کہ2012ء میں صرف پنجاب میں 2800 سی این جی ا سٹیشن تھے جو کم ہو کر اب ایک ہزار کے قریب رہ گئے ہیں‘ سی این جی سیکٹر کی کھپت گیس کی کُل پیداوار کا 4 فیصد ہے‘ اس کے باوجود سب سے پہلے اسی سیکٹر کو ہی بند کیا جاتا ہے کیونکہ متعلقہ اداروں میں بعض اہم اہلکار با اثر آئل مافیا کے زیر اثر ہیں جو اس سیکٹر کو مکمل طور پر بند کرنے کے لیے سازشیں کرتے رہتے ہیں‘ سی این جی سیکٹر کو مکمل بند کرنے سے بہتر ہے کہ گیس کی کمی کے دنوں میں اسے چند گھنٹے کے لیے چلنے دیا جائے تاکہ سی این جی اسٹیشنز کی مشینری خراب نہ ہو اورا سٹاف کی تنخواہوں کا سلسلہ جاری بھی رکھا جا سکے جبکہ حکومت کو بھی ٹیکسوں کی مد میںکچھ آمدنی ہوگی کیونکہ اس سے لاکھوں افراد کا روزگار جڑا ہوا ہے۔ شیخ امتیاز حسین نے کہا ہے کہ پیٹرول کی قیمت میں اضافے سے ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافہ ہو رہا ہے‘ کے الیکٹرک نے کراچی کے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے‘ حکمرانوں نے 21 ویں صدی میں بھی عوام کو پتھر کے دور میں دھکیل دیا ہے‘ عوام گھروں میں روشنی کے لیے لالٹین جلا رہے ہیں اور چولہا جلانے کے لیے لکڑیوں کا استعمال کرنے پر مجبور ہیں‘ کراچی کے صنعتی اور رہائشی علاقوں میں بجلی اور گیس کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ بند کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ گھنٹوںکی لوڈشیڈنگ سے صنعتیں شدید متاثر ہیں‘ برآمدات پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں‘ سیاست سے قطع نظر تمام حکمران ہی نا اہل ہیں‘ جن کی نا اہلی کے باعث ملک ترقی کرنے کے بجائے تنزلی کا شکارہے‘ حکومت کے ڈھائی سال چور چور کہتے کہتے گزرگئے اور باقی بھی گزر ہی جائیں گے‘ ناکام حکمرانوں کے منہ سے ریاست مدینہ کا نام لینا اچھا نہیں لگتا۔ شیخ امتیاز حسین نے کہا کہ عوام پر ظلم کرنے والے ریاست مدینہ کا مذاق اڑانا بند کردیں‘ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والے عوام بھوک سے مرجائیں گے۔ ایس ایم منیر اور سیکرٹری جنرل زبیرطفیل نے صنعتوں کے لیے نجی بجلی گھروں کو گیس کی بندش پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے وقت میں جب ملکی برآمدات میں اضافہ ہو رہا ہے اور بیرونی خریدار خطے کے دوسرے ممالک کے بجائے مصنوعات کی خریداری کے لیے پاکستان کا رخ کر رہے ہیں‘ ان حالات میں صنعتی پیداوار کو روکنے کی سازش کی جا رہی ہے‘ وزیراعظم عمران خان کے ایکسپورٹ بڑھنے کے خواب کی تکمیل کے لیے ایکسپورٹرز بے پناہ کوششیں کر رہے ہیں تو وزیراعظم کو بھی چاہیے کہ وہ نجی بجلی گھروں کو گیس کی بندش کا فیصلہ فوری واپس لیں۔ ایس ایم منیر نے کہا کہ نجی بجلی گھروںکو گیس کی بندش سے صنعتی پیداوار، برآمدات کم اور روزگار کے مواقع بھی کم ہو رہے ہیں‘ حکومت کے پٹو پاور پلانٹس کوگیس کی فراہمی بند کر کے صنعتوں کو قومی گرڈ سے منسلک کرنے کے فیصلے پر نظرثانی کرے‘ حکومت اس زمینی حقائق پر نظر رکھنے کے بجائے تاجر دشمن مشوروں پر عمل کر رہے ہیں۔ عبدالہادی کہا کہ پیٹرول اور بجلی نرخوں میں حالیہ اضافے ، یکم فروری سے مقامی صنعتوں اور یکم مارچ سے برآمدی صنعتوں کے گیس کنکشن منقطع کرنے کے حکومتی فیصلے صنعتوں کے لیے تباہ کن ہیں‘ حقیقت یہ عمران خان ایک طرف برآمدات کو فروغ دینے، درآمدات کو کم کرنے اور روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کرنے کی بات کر رہے ہیں تو دوسری طرف صنعت و برآمدات مخالف اقدامات بھی کر رہے ہیں‘ حالیہ فیصلوں سے وزیراعظم عمران خان کا وژن دھرا کا دھرا رہ گیا ہے جو موجودہ حالات میں کبھی پورا نہیں ہوسکتا۔

