مظفر آباد(صباح نیوز) متحدہ جہاد کو نسل کے چیئرمین اور حزب المجاہدین کے سربراہ سید صلاح الدین احمد نے کہا ہے کہ اہل پاکستان کی طرف سے کشمیریوں سے فقید المثال اظہار یکجہتی سے احساس تنہائی میں کا فی کمی محسوس ہوئی،تاہم عملی اقدامات اٹھاکر ہی ظالم و جابر قو ت کو نوشتہ دیوار پڑھنے کے لیے مجبور کیا جاسکتا ہے۔ان خیالات کا اظہار متحدہ جہاد کو نسل کے سربراہ نے متحدہ جہاد کو نسل کے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کشمیری عوام کی طرف سے پاکستان اور آزاد کشمیر کے عوام کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ 5فروری کے فقید المثال اظہار یکجہتی سے جموں و کشمیر کے حریت پسند عوام کو کسی حد تک احساس تنہائی کا مداوا ہوچکا ہے لیکن یہ تلخ حقیقت تسلیم کیے بغیر بھی کوئی چارہ نہیں کہ عملی اقدامات سے محروم مظاہروں،قراردادوں اور کانفرنسوں سے نہتے کشمیری عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم میں کوئی کمی آئی ہے اور نہ ہی مردہ ضمیر عالمی برادری زبوں حال کشمیریوں کی طرف متوجہ ہوئی ہے۔ سید صلاح الدین نے کہا کہ گزشتہ 18مہینے سے 9لاکھ درندہ صفت بھارتی فوجیوں کے گھیرے میں لاک ڈائونز اور محاصروں میں پھنسی کشمیری قوم مدد کے لیے پکار رہی ہے۔تحریکی قیادت کا بیشتر حصہ اور ہزاروں کارکنان ریاست سے باہر بھارت کے مختلف تعذیب خانوں میں موت و حیات کی کشمکش میں زندگی گزاررہے ہیں۔ مودی سرکار نے 20 لاکھ سے زاید جعلی ڈو میسائل غیر ریاستی باشندوں کو جاری کردیے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ بھارتی سرمایہ کاروں کو سرزمین کشمیر خریدنے کے لیے قانونی جواز اور قانونی تحفظ دینے کا سلسلہ بھی شروع کردیا ہے۔اس طرح فلسطینیوں کی طرح ملت مظلومہ کو اپنی سرزمین اور مالی وسائل سے بے دخل کرنے کا سلسلہ بھی شروع کیا جا چکا ہے۔جہاد کونسل کے سربراہ نے اس بات پر سخت دکھ اور افسوس کا اظہار کیا کہ بد قسمتی سے بیس کیمپ کے ارباب اقتدار اور سیاستدان مسئلہ کشمیر کو جر أت مندانہ اقدامات اٹھانے کے بجائے اسے زیادہ تر اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ان کو چاہیے کہ اپنے گریبان میں جھانک کر کشمیر کے حوالے سے اپنے کردار کا احتساب کریں۔انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے عالمی برادری بالخصوص بڑی طاقتوں کی پالیسیاں عدل و انصاف کے بجائے اپنے معاشی مفادات کے ارد گرد گھومتی ہیں،ان حالات میں مسئلہ کشمیر کے کو ئی منصفانہ اور آبرومندانہ حل کاان سے توقع رکھنا کار لاحاصل اور عبث ہے۔جہاد کو نسل کے سربراہ نے واضح کیا کہ خونی لکیر کے آر پار کشمیری عوام جن پر سوا5 لاکھ شہدا کا مقدس خون قرض ہے اور اس قرض کو چکانے کے لیے ان پر یہ فرض ہے کہ وہ اللہ کی تائید و نصرت سے ایک فیصلہ کن جدوجہد کے ذریعے سے ہی بھارتی جابرانہ قبضہ ختم کرسکتے ہیں۔ایک تیر بہدف مربوط اور منظم مسلح جدوجہد ہی مسئلہ کشمیر کا واحد حل ہے۔اجلاس کے اختتام پر ہفتہ رفتہ کے شہدا کے حق میں بلندی درجات کی دعا کی گئی اور اس یقین کا اظہار کیا گیا کہ کشمیری مجاہدین اور حریت پسند عوام کی جدوجہدضرور رنگ لائے گی اور جارح و قابض کو یہ سرزمین خالی کرنی پڑے گی۔
