اسلام آباد(آن لائن+اے پی پی)وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ این آر او دے دوں تو اپوزیشن کہے گی عمران خان سے زبردست کوئی آدمی نہیں،انہیں جو کرنا ہے کرلیں،لانگ مارچ بھی کرلیں لیکن لوگ کبھی بھی چوروں کے لیے سڑکوں پر نہیں نکلتے، جب تک اپوزیشن کو اپنا جج یا نیب سربراہ نہ ملے یہ لوگ کسی چیز کو نہیں ما نیں گے ،نواز شریف کی واپسی کے لیے کوشش کریں گے، قوانین کے مطابق جو بھی ہوگا کوشش پوری کریں گے، شاید حوالگی کے معاملے میں کچھ وقت لگے گا، مسئلہ کشمیر عالمی معاملہ بن گیا ہے۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بھارت نے 5 اگست کو کشمیریوں کو دبانے کی پوری کوشش کی لیکن وہ ویسے کے ویسے ہی کھڑے ہیں بلکہ مزید پرعزم ہوئے ہیں ، دنیا بھی سمجھ گئی ہے اور معاملہ پوری دنیا میں اٹھ گیا ہے،مجھے امید ہے اب یہ آزادی کی طرف جائے گا،مقبوضہ کشمیر میں اگر فوج نہ ہو تو وہ انہیں آزادی لینے سے کسی صورت نہیں روک سکتے، بھارت ایک بڑا ملک ہے اور اس کی بڑی منڈی ہے جس کی وجہ سے لوگوں کے تجارتی مفادات ہیں لیکن جو یہ سمجھتے تھے پاکستان کو ایف اے ٹی ایف میں دبا دیں گے وہ سب ناکام ہوگئے ،انہوں نے پاکستان کو تنہا کرنے کی کوشش کی لیکن ایسا نہیں ہوا بلکہ اس وقت دنیا میں پاکستان کی بات جس طرح سنی جارہی ہے اس طرح پہلے نہیں سنی جاتی تھی۔ مسئلہ کشمیر پر ثالثی کے حوالے سے نئی امریکی انتظامیہ سے رابطے سے متعلق عمران خان نے کہا کہ ابھی اس بارے میں کچھ کہہ نہیں سکتا کہ ان کی پالیسی کیا ہے تاہم میرے خیال میں دنیا میں ایک شعور پیدا ہوگیا ہے کہ کشمیر میں ظلم ہورہا ہے ،یہ شعور پہلے نہیں تھا، یہ ایک عالمی معاملہ بن گیا ہے، بھارت کے لیے مشکل ہوگیا ہے کہ اگر وہ ظلم کرے گا تو دنیا دیکھ رہی ہے اور ان کے لیے آگے جانے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہم نے پھر سے بھارت سے کہا ہے کہ ہم سے بات کریں اور آرٹیکل 370 کو بحال کریں ۔ وزیر اعظم نے اپوزیشن اور ان کے لانگ مارچ سے متعلق کہا کہ اگر انہیں آج این آر او دے دیں تو یہ کہیں گے کہ عمران خان سے زبردست کوئی آدمی نہیں،صرف این آر او کی دیر ہے، انہیں جو کرنا ہے کرلیں، لانگ مارچ بھی کرلیں لیکن لوگ کبھی بھی چوروں کے لیے سڑکوں پر نہیں نکلتے، دنیا میں دیکھیں تو لوگ کرپشن کے خلاف نکلے ہیں کرپشن بچانے کے لیے نہیں نکلے ۔عمران خان نے نواز شریف سے متعلق کہا کہہم ان کی واپسی کے لیے کوشش کریں گے، قوانین کے مطابق جو بھی ہوگا کوشش پوری کریں گے، شاید حوالگی کے معاملے میں کچھ وقت لگے گا،خود دم دبا کر باہر بیٹھا ہوا ہے، چوری کرکے بچے باہر ہیں، بھائی کے بچے باہر بیٹھے ہوئے ہیں ، یہاں تک کہ منشی کے بچے بھی باہر بیٹھے ہوئے ہیں ، یہ اس لیے باہر بیٹھے ہیں کیونکہ انہیں پتا ہے کہ یہ ملک کا پیسا لوٹ کر باہر لے گئے ہیں، وہ یہ سمجھ رہے ہیں لوگ یہاں کھڑے ہوجائیں گے،یہ لوگوں کو بے وقوف سمجھتے ہیں اور جو عوام کو بیوقوف سمجھتا ہے ان سے بڑا کوئی بے وقوف نہیں ہو تا ۔ وزیر اعظم کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان لوگوں نے 10 سال میں ملک پر 4 گنا قرض چڑھا کر جو ملک چھوڑا تھا وہ پہلے دن تو ٹھیک نہیں ہونا تھا تاہم ہم کوشش کر رہے ہیں، آج اگر دیکھیں تو ملک صحیح راستے پر نکل گیا ہے اور حکومت کوشش کرکے چیزیں بہتر کر رہی ہے۔وزیراعظم نیبراڈشیٹ کمیشن سے متعلق کہا کہ اپوزیشن کبھی بھی کسی چیز کو نہیں مانے گی جب تک انہیں اپنا جج یا نیب کا سربراہ نہ ملے کیونکہ کرپٹ لوگوں نے تو آج تک یہی کیا ہے۔علاوہ ازیںوزیر اعظم عمران خان نے گزشتہ روز نالج اکانومی کے فروغ سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ ملک کا مستقبل تعلیم کے فروغ سے وابستہ ہے،بڑی کلاسوں کے نصاب میں سیرت النبی ﷺ کے مضمون کو شامل کرنے کا مقصد طلبہ کو اسلامی شعار سے روشناس کرانا ہے ، تکنیکی و فنی تعلیم کے اداروں میں فراہم کی جانے والی تربیت کو مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق یقینی بنایا جائے اور تعلیمی اداروں اور مارکیٹ کے مابین تعلق کو مضبوط کرنے پر خصوصی توجہ دی جائے۔دوسری جانب وزیراعظم عمران خان سے وزیر اعظم ہا ئوس میں پارلیمینٹیرینز نے ملاقات کی،جس میں عمران خان نے پارلیمنٹیرینز کے حلقوں میں عوام کو درپیش مسائل کے حل اور ترقیاتی امور پر گفتگو کی۔ملاقات کرنے والوں میں صاحبزادہ محمد محبوب سلطان، حیدر علی خان، سردار محمد آصف نکئی، میاں شفیق آرائیں، ملک عمر اسلم، محمد امیر سلطان، پرنس نواز الائی شامل تھے ۔ عمران خان نے جھنگ میں نئے ڈی ایچ کیو اسپتال ، لودھراں میں ریلوے انڈر پاس تعمیر کی درخواست پر عملدرآمد کی یقین دہانی کرائی۔ وزیراعظم نے سوات موٹر وے کی توسیع کی درخواست پر عملدرآمد کی یقین دہانی کرائی اور سروے آف پاکستان کے تحت بٹگرام اور کوہستان باؤنڈری کے جلد نوٹیفکیشن کی ہدایت بھی کی۔ عمران خان نے کہا کہ سیاحت کے فروغ ، ماحولیات اور جنگلات کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن سہولت فراہم کریں گے۔ ادھر وزیر اعظم عمران خان نے ابوظبی کے ولی عہد اور متحدہ عرب امارات کی مسلح افواج کے ڈپٹی سپریم کمانڈر شیخ محمد بن زید النہیان سے ٹیلیفون پر بات چیت کی۔ دونوں رہنمائوں نے پاکستان اور یو اے ای کے درمیان موجودہ قریبی برادرانہ تعلقات پر اظہار خیال کیا اور کثیر الجہتی دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔انہوں نے کوویڈ 19- ، باہمی دلچسپی کے علاقائی اورعالمی ایشوز پر بھی بات چیت کی ۔دونوں رہنمائوں نے دو طرفہ تعلقات میں اضافے کے لیے قریبی طورپرکام کرنے اور کثیر الجہتی اداروں میں تعاون جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا ۔
