English Al Qamar Urdu جون 29, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کرانے کاآرڈیننس جاری

القمر

اسلام آباد(نمائندہ جسارت) صدر مملکت نے سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ سے کروانے کے لیے آرڈیننس جاری کردیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق الیکشن ترمیمی آرڈیننس 2021ء جاری کردیا گیا۔ صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کروانے کے لیے کابینہ کے مجوزہ آرڈیننس پر دستخط کردیے ہیں۔ آرڈیننس کے تحت الیکشن ایکٹ 2017ء کی شق 122 میں ترمیم کی گئی ہے۔ یہ آرڈیننس پورے ملک میں فوری نافذ العمل ہوگا۔آرڈیننس کے تحت پارٹی سربراہ ووٹ دکھانے کی درخواست کر سکے گا۔ الیکشن کمیشن پارٹی سربراہ یا اس کے نمائندے کو ووٹ دکھانے کا پابند ہو گا تاہم آرڈیننس کو عدالت عظمیٰ کی سینیٹ انتخابات سے متعلق دائر ریفرنس پر رائے سے مشروط رکھا گیا ہے۔ قبل ازیں حکومت نے کابینہ سے سرکلر سمری کے ذریعے سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے کے آرڈیننس کی منظوری لی ہے۔اس نئے آرڈیننس کی ڈرافٹنگ اٹارنی جنرل خالد جاوید نے کی ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم کو سینیٹ انتخابات کے حوالے سے بریفنگ دی گئی کہ سینیٹ الیکشن کا شیڈول 11 فروری کو جاری ہوگا جبکہ سینیٹ انتخابات کاکیس ابھی عدالت عظمیٰ میں بھی زیر سماعت ہے۔عدالت عظمیٰ نے اگر 11 فروری کے بعد حکومت کے حق میں بھی فیصلہ دیاتو پھر اس وقت اوپن بیلٹ کے ذریعے الیکشن نہیں ہوسکیں گے۔اس وقت پھر الیکشن خفیہ رائے دہی کے ذریعے ہی ہوں گے۔ذرائع کاکہناہے کہ اس صورت حال کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ طے کیاگیا کہ اس آرڈیننس کی سرکلر سمری کے ذریعے کابینہ سے منظوری لے لی جائے۔ کیونکہ عدالت عظمیٰ سے حکومت کے حق میں بھی فیصلہ آگیا تو اس وقت ہم یہ کام نہیں کرسکیں گے۔ دوسری جانب حکومت نے اس سلسلے میں 26 ویں آئینی ترمیم بھی قومی اسمبلی میں پیش کی تھی تاہم اپوزیشن کی شدید مخالفت اور ایوان میں ہنگامہ آرائی کے باعث اس پر کارروائی نہیں ہوسکی اب جبکہ حکومت نے سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ سے کرانے کے معاملے پر عدالت عظمیٰ سے رجوع کر رکھا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ آئینی ترمیم کامعاملہ قومی اسمبلی میں بھی زیربحث ہونے کی صورت میں حکومت کی جانب سے یہ اقدام ایک سیاسی تکنیک بھی ہوسکتی ہے۔ دوسری جانب اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اور مریم نواز کی ملاقات میں آرڈیننس کے ذریعے سینیٹ الیکشن شوآف ہینڈ سے کرانے کے اقدام کی شدید مخالفت کافیصلہ کیا گیا ہے۔دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ملاقات میں اتفاق کیا گیا کہ آئینی ترمیم کے بغیر سینیٹ الیکشن کا طریقہ کار تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ ذرائع کے مطابق مریم نواز نے کہا کہ سینیٹ الیکشن میں پتا چل جائے گا کون کس کے ساتھ کھڑا ہے، تحریک عدم اعتماد کا آپشن مسترد نہیں کیا۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ آرڈیننس کے معاملے پر عدالت بھی جانا پڑا تو جائیں گے۔ عوامی نیشنل پارٹی نے بھی سینیٹ انتخابات کے لیے صدارتی آرڈیننس کو مسترد کردیا ہے۔ اسفند یار ولی نے کہا کہ قومی اسمبلی کا اجلاس جاری ہے ، سلیکٹڈ حکومت پارلیمنٹ کی بے توقیری کررہی ہے۔آرڈیننس کا فیصلہ گھبراہٹ اور نااہلی کا اعتراف ہے ۔ن لیگ کے جنرل سیکرٹری احسن اقبال کا کہنا تھا کہ آرڈیننس جاری کرنا آئین کے ساتھ مذاق ہے ۔ حکومت انتظامی کے ساتھ ساتھ آئینی انارکی پھیلا رہی ہے۔ حکومت آرڈیننس لا کر عدالت عظمیٰ پر دبائو ڈال رہی ہے۔ انہوںنے کہا کہ صدر کی مسلسل تیسری نااہلی ہے۔ پہلے الیکشن کمیشن کے ممبران کے تعین کے لیے آئینی طریقے کی خلاف ورزی کی گئی ، قانون کے خلاف عدالت عظمیٰ کے جج کیخلاف ریفرنس بھیجا گیا اب الیکشن آرڈیننس جو دنیا کی تاریخ میں ایک لطیفے کے طور پرلکھا جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے