ینگون(آن لائن )میانمر کے سب سے بڑے شہر میں فوجی بغاوت اور معزول رہنما آنگ سان سوچی کی گرفتاری کے خلاف دوسرے روز بھی سیکڑوں افراد نے احتجاج کیا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق انٹرنیٹ سروس کی بندش اور فون لائنوں پر پابندی کے باوجود بڑی تعداد میں مظاہرین جمع ہوئے۔ مقامی میڈیا کے مطابق 2007 میں بدھ راہب کی زیرقیادت زعفران انقلاب کے بعد ملک میں سب سے بڑے مظاہرے جاری ہیں۔ میانمر کے تجارتی دارالحکومت ینگون میں مظاہرین نے سرخ غبارے اٹھا رکھے تھے جو آنگ سان سوچی کی نیشنل لیگ ڈیموکریسی پارٹی (این ایل ڈی) کی نمائندگی کرتا تھا۔مظاہرین نے نعرے لگا رہے تھے کہ ’ہم فوجی آمریت نہیں چاہتے! ہم جمہوریت چاہتے ہیں!۔ اتوار کی صبح یانگون کے اطراف سے بڑے پیمانے پر جمع ہونے والا ہجوم ہلڈن ٹاؤن شپ پر جا پہنچا۔انٹرنیٹ سروس اور فون لائنوں کی بندش کی وجہ سے فیس بک پر چند مناظر نشر ہوئے۔احتجاج میں شریک ایک شہری نے کہا کہ انہوں نے پہلے ہی انٹرنیٹ بند کرنا شروع کر دیا تھا اگر وہ زیادہ حکمرانی کرتے ہیں تو وہ تعلیم ، کاروبار اور صحت پر مزید دباؤ میں ڈال دیں گے۔ہم فوجی بغاوت قبول نہیں کرسکتے، یہ ہمارا مستقبل ہے جس کے تحفظ کے لیے ہمیں نکلنا ہوگا۔ صبح تک جنوب مشرق میں واقع ساحلی قصبہ مولامائن میں تقریباً 100 افراد موٹرسائیکلوں پر سڑکوں پر نکل آئے جبکہ وسطی میانمر کے منڈالے شہر میں طلبہ اور ڈاکٹر جمع تھے۔ دوسری جانب سیکڑوں مظاہرین نے جنوب مشرق میں ریاست کیرن کے شہر میں پولیس اسٹیشن کے باہر رات بسر کی جہاں خیال کیا جاتا ہے کہ این ایل ڈی کے مقامی قانون سازوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

