نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک)بھارت کے شمال میں ہمالیائی گلیشئر ٹوٹنے کے باعث طغیانی اور سیلاب سے شدید تباہی مچ گئی، 150 افراد کی ہلاکت کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق گلیشئر ٹوٹنے سے دریائے دھولی گنگا میں شدید طغیانی ہے اور اطراف کے علاقوں میں سیلاب سے درجنوں مکانات بہہ گئے ہیں۔حکام کے مطابق اترکھنڈ میں گلیشئر ٹوٹنے سے سیلابی ریلے میں پل اور سڑکیں بہہ گئی ہیں اور 3 افراد ہلاک اور 150 لاپتا ہیں جبکہ 16 سے 17 افراد ایک سرنگ میں پھنسے ہوئے ہیں۔بھارتی میڈیا کے مطابق دریامیں طغیانی سے رشی گنگا پاور پروجیکٹ کو نقصان پہنچا ہے، لاپتا ہونے والے افراد ڈیم پر کام کرنے والے مزدور ہوسکتے ہیں۔ممکنہ ریلے کی آمد پرسری نگر اور رشی کیش ڈیم کو خالی کرالیاگیا ہے جبکہ اطراف کے دیہات سے بھی آبادی کو فوری طور پر منتقل کیا جارہا ہے۔بھارتی وزیراعظم نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں کہا کہ وہ حالات کی نگرانی کر رہے ہیں۔بھارت کے وزیراعلیٰ امیت شاہ نے کہا کہ بھارتی فضائیہ نے متاثرہ علاقے میں امدادی کام شروع کردیا اور ڈیزاسٹر ریسپانس ٹیموں کو وہاں پہنچایا جا رہا ہے تاکہ وہ ریلیف اور ریسکیو کا کام شروع کردیں۔انہوں نے ٹوئٹر پر اپنے بیان میں کہا کہ تمام متعلقہ افسران ہنگامی بنیاد پر کام کر رہے ہیں۔خیال رہے کہ اترکھنڈ میں ہندو مذہب کے مشہور مندر اور مذہبی مقامات قائم ہیں جس کی وجہ سے ریاست کو دیوتا کی زمین کہا جاتا ہے۔دوسری جانب قریبی ریاست اترپردیش کے ان علاقوں میں بھی ہائی الرٹ کردیا گیا جو دریا کے قریب واقع ہیں۔جائے وقوع سے حاصل ہونے والی وڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ڈیم سے پانی خارج ہورہا ہے اور راستے میں آنے والی تمام اشیا کو اپنے ساتھ بہا کر لے کر جارہا ہے۔بھارت کی شمالی ریاست اترکھنڈ سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا مرکز ہے جہاں جون 2013ء میں ریکارڈ بارشیں ہوئی تھیں اور سیلاب سے تقریباً 6 ہزار افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔

