English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

بحیرۂ جنوبی چین میں امریکی بحریہ کی نقل و حرکت سے کشیدگی

القمر

بیجنگ (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی صدر جو بائیڈن کے منصب سنبھالنے کے بعد امریکی جنگی بیڑوں نے چینی سمندری حدود کے نزدیک دوسری بڑی نقل و حرکت کی ہے۔ خبررساں اداروں کے مطابق بحیرہ جنوبی چین میں امریکی طیارہ بردار بحری بیڑوں نے مشترکہ مشقیں انجام دی ہیں، جب کہ اس سے قبل امریکی جنگی جہاز متنازع خطے میں چین کے زیر انتظام جزیروں کے قریب بھی آگئے تھے۔چینی وزارت خارجہ کی جانب سے امریکا کے اس اقدام کو خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ قرار دیا گیا ہے۔چینی دفتر خارجہ کے ترجمان وانگ وینبن نے بیجنگ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم امریکا کے طیارہ بردار بحری بیڑوں کی بحیرہ جنوبی چین میں نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ طاقت کا یہ مظاہرہ خطے میں امن و استحکام کے لیے مددگار ثابت نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ چین اپنی سالمیت کو برقرار رکھنے اور علاقائی امن و استحکام کے تحفظ کے لیے ہرممکن اقدامات کرے گا۔واضح رہے کہ کچھ ہی دن قبل چین کی جانب سے پاراسل جزائر کے قریب امریکی جنگی بیڑے یوایس ایس جون مک کین کی نقل و حرکت کی مذمت کی گئی تھی۔صدر بائیڈن کے منصب صدارت سنبھالنے کے بعد چینی حدود کے نزدیک امریکا کی یہ پہلی بڑی نقل و حرکت تھی۔ تھیوڈور روزویلٹ بیڑے کے کمانڈر ریئرر ایڈمرل ڈگ ورِسمو نے کہا کہ اس طرح کی کارروائیوں سے ہم خطے میں اپنے شراکت داروں اور اتحادیوں پر مسلسل یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ہم آزاد اور کھلے ہند بحرالکاہل خطے کے فروغ کے لیے پُرعزم ہیں۔امریکا نے اس سے قبل آخری بار 2 بحری بیڑے استعمال کرتے ہوئے، بحیرہ جنوبی چین میں جولائی 2020 میں مشقیں کی تھیں۔ جو بائیڈن کے امریکا کا صدر بننے کے بعد منگل کی مشقیں پہلی بار تھیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے