اسلام آباد(آن لائن+صباح نیوز) نیب ملازمین کو وفاقی دارالحکومت کے وسیع و عریض سبز باغ میں2200پلاٹ بطور تحفہ پیش کرنے کا انکشاف ہوا ہے ۔ احتساب بیورو کے بارے میں سینیٹ کی خصوصی کمیٹی کو بتایا گیا کہ نیب انتظامیہ نے سبز باغ انتظامیہ کو اس امر پر قائل کیا کہ مذکورہ الاٹ شدہ پلاٹ جن کی قیمت لاکھوں میں تھی سبزباغ کے ان سیکٹرز میں منتقل کر دیے جائیں جہاں ان دنوں قیمت کروڑوں روپے میں وصول کی جا رہی ہے۔ ایک خاتون صحافی نے ڈپٹی چیئرمین سلیم مانڈوی والا کو بتایا کہ سبز باغ کی بااثر انتظامیہ نے ان کے شوہر کو انٹیلی جنس بیورو سے محض اس لیے برطرف کرا دیا کہ اس نے مجرمانہ منصوبہ بے نقاب کر دیا ۔ ڈپٹی چیئرمین نے نیب کے متاثرین کو ہر ممکنہ تعاون کا یقین دلایا اور کراچی میں ان سے بالمشافہ ملاقات کی ہدایت بھی کی ۔ سلیم مانڈوی والا نے پارلیمنٹ ہائوس میں نیب متاثرین سے ملاقات کی۔ نیب کیسز سے متاثرہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی بھی وڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے۔ جاری بیان کے مطابق ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا نے نیب متاثرین سے ملاقات میں کہا ہزاروں افراد نیب ریفرنسز اور کیسز سے تنگ آکر ہمیں درخواست کرتے ہیں اور رابطے کرتے ہیں۔ اب نیب کے ادارے کا احتساب ہونا چاہیے۔ نیب نے جتنی بھی ریکوریاں کی ہیں وہ دراصل پلی بارگین ہے۔نیب کی 400بلین کی ریکوری کوئی معنی نہیں رکھتی۔ کاروباری افراد کو کہا جاتا ہے ہم آپ کا کاروبار تباہ کر دیں گے جس کی وجہ سے کاروباری افراد پلی بارگین کے لیے رضامند ہوتے ہیں۔ نیب کے قانون میں تبدیلی ہونی چاہیے۔
