نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارت میں تاریخی بابری مسجد کے مقام پر رام مندر کی تعمیر کے لیے چندہ دینے والوں اور نہ دینے والوں کے گھروں پر الگ الگ نشانات لگائے جا رہے ہیں۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق سخت گیر ہندو تنظیموں کی جانب سے رام مندر کی تعمیر کے لیے چندہ جمع کرنے کی مہم زوروں پر ہے، جس کے لیے اب تک ڈیڑھ ہزار کروڑ سے بھی زیادہ روپے جمع کیے جا چکے ہیں، لیکن کئی حلقوں نے شکایت کی ہیکہ چندہ جمع کرنے والی سخت گیر ہندو تنظیمیں چندہ دینے والوں کے گھروں کے باہر ایک اسٹیکر چسپاں کر رہی ہیں اور اس کی مدد سے چندہ نہ دینے والوں کے گھر کو بھی نشان زد کیا جا رہا ہے۔اس حوالے سے بھارتی ذرائع ابلاغ میں کئی روز سے خبریں گردش کر رہی رہیں، تاہم جنوبی ریاست کرناٹک کے سابق وزیر اعلیٰ ایس کمارا سوامی نے منگل کے روز اس پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے نازی جرمنی سے تعبیر کیا تو اس پر بحث چھڑ گئی۔انہوں نے اپنی ایک ٹوئٹ میں لکھا کہ بظاہر جو لوگ رام مندر کی تعمیر کے لیے فنڈ جمع کر رہے ہیں، وہ ان لوگوں کے مکانات پر الگ الگ نشان لگا رہے ہیں، جو مندر کے لیے رقم پیش کرتے ہیں اور ان کے گھروں پر الگ جو چندہ نہیں دیتے۔ یہ بالکل اسی طرح کا کام ہے جیسے نازیوں نے ہٹلر کے دور میں جرمنی میں کیا تھا، جب لاکھوں افراد کی جان چلی گئی تھی۔ اگرچہ رام مندر کی تعمیر کے لیے درجنوں سخت گیر ہندو تنظیمیں سرگرم ہیں، تاہم کمارا سوامی نے اس حرکت کے لیے حکمراں جماعت بی جے پی کی حلیف سخت گیر ہندو تنظیم آر ایس ایس کو ذمے دار ٹھیراتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے کارروائیوں سے آخر ملک کا حال کیا ہوگا۔انہوں نے بعض مؤرخین کا حوالہ دیتے ہوئے اپنی ایک اور پوسٹ میں کہا کہ آر ایس ایس کی بنیاد بھی جرمنی کی نازی پارٹی کے وقت ہی رکھی گئی تھی۔ اس بات پر کافی تشویش ہے کہ اگر آر ایس ایس نے بھی نازیوں کی پالیسیوں پر عمل کیا تو پھر مستقبل کیا ہوگا۔ آج کل تو ملک میں لوگوں کے بنیادی حقوق ہی چھینے جا رہے ہیں۔ انہوں نے اپنی ایک اور ٹوئٹ میں لکھا کہ اس وقت ملک میں غیر علانیہ ایمرجنسی نافذ ہے اور ذرائع ابلاغ پوری طرح سے حکومت کے موقف کو ہی صحیح بنا کر پیش کرتا ہے۔ اس صورت حال میں اس بات کا تصور بھی مشکل ہے کہ پھر عام آدمی کا کیا ہوگا۔
