English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

میانمر: مظاہروں کا حجم بڑھ گیا، سڑکیں بند، نظام زندگی معطل

میانمر: فوجی بغاوت کے خلاف مظاہرے میںہزاروں شہری سڑکوں پر جمع ہیں

نیپیداؤ (انٹرنیشنل ڈیسک) میانمر میں فوجی بغاوت کے خلاف عوام کا احتجاج مزید شدت اختیار کرگیا اور مظاہرین نے ینگون شہر کی شاہراہوں کو بند کرکے فوجی دستوں کی نقل و حرکت محدود کردی۔ عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق بدھ کے روز ملک بھر میں مظاہروں کے دوران شہریوں کی تعداد گزشتہ دنوں کی نسبت کہیں زیادہ تھی۔ اقوام متحدہ کے میانمر کے لیے نمایندہ خصوصی ٹام اینڈریو نے خبردار کیا کہ ینگون میں فوجیوں کی تعیناتی اور نئے مظاہرے تشدد کی سنگین لہر کی صورت اختیار کرسکتے ہیں۔ مظاہرین نے سڑکوں اور گلیوں کو بند کرنے کے لیے ٹرکوں اور نجی گاڑیوں کو استعمال کرنے سے بھی گریز نہیں کررہے۔ ٹام اینڈریوز نے بتایا کہ مزید فوجی دستوں کو ینگون کی جانب روانہ کیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل جب اتنے بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن ہوا تو قتل عام کی صورت پیدا ہوگئی تھی۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق مظاہرین نے ینگوں میں مرکزی بینک کے سامنے سڑک بند کرکے احتجاج کیا اور ینگون اور جنوبی شہر مولمیائن کے درمیان ٹرین سروس کو بھی بند کر دیا۔ گہرے سرخ رنگ کے لبادے اوڑھے بدھ مذہب کے پیروکاروں نے احتجاج میں شرکت کی۔ دوسری جانب فوجی حکام نے برطرف کی گئی رہنما آنگ سان سو چی کی مدت حراست میں توسیع کر دی۔ سوچی اور صدر ون من سمیت کئی افراد کو یکم فروری کو فوجی بغاوت کے بعد حراست میں لے لیا گیا تھا۔ گزشتہ روز ان کی مدت حراست ختم ہونی تھی،تاہم اس میں توسیع کردی گئی ہے۔ سوچی کے وکیل نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ان کی موکل پر ریڈیو آلات کی غیر قانونی درآمد کا الزام ہے۔ اس کے علاوہ گزشتہ سال انتخابی مہم کے دوران کورونا وائرس کے ضوابط کی خلاف ورزی کا بھی الزام عائد کیا گیا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے عدالتی کارروائی میں آن لائن حصہ لیا،جس کے بعد عدالت نے اگلی سماعت کے لیے یکم مارچ کی تاریخ دے دی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے