کراچی: انویسٹی گیشن پولیس نے گارڈن میں کارپرفائرنگ سے خاتون سمیت 4 ٹک ٹاکرز کی ہلاکت پرایک خاتون ٹک ٹاکر کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق انویسٹی گیشن پولیس نے گارڈن میں کارپرفائرنگ سے خاتون سمیت 4 ٹک ٹاکرزکی ہلاکت پرسویرا نامی خاتون کوپوچھ گچھ کے لیے حراست میں لے لیا گیا ہے۔
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ خاتون سویرا کی مقتولہ مسکان سے گزشتہ روز لڑائی ہوئی تھی اورمبینہ طورپر سویرا نے رحمن افغانی کو فون کرکے بلایا تھا جو کہ واقعے کے بعد سے اپنے ساتھی سمیت روپوش ہے۔
واضح رہے کراچی کے علاقے گارڈن میں نامعلوم افراد نے ہنڈا سٹی کار (548 اے ای این) پر فائرنگ کرکے ٹک ٹاکر مسکان کو تین ساتھیوں سمیت قتل کردیا گیا تھا جو ٹک ٹاک شوٹ کرکے واپس آرہے تھے جبکہ پولیس تحقیقات میں انکشاف ہوا تھا کہ قتل ہونے والے مقتولین میں سے تین خود بھی جرائم پیشہ نکلے تھے اور مقتولہ مسکان کا تعلق بھی مبینہ طور پر منشیات فروشوں سے تعلق نکلا تھا۔
پولیس حکام نے شبہ ظاہر کیا تھا کہ ٹک ٹاکر مسکان کی دوستی قتل کی وجہ ہوسکتی ہے کیونکہ رحمان نامی نوجوان مسکان کو عامر سے دوستی رکھنے پر منع کرتا تھا اور اس بات کا اظہار کئی بار رحمان نے مسکان سے کیا تھا۔
فائرنگ کے واقعے سے قبل تمام دوست ایک ساتھ کھانا کھانے کے لئے نکلے، راستے میں انہوں نے ٹک ٹاک بھی بنائی تھی بعد ازاں انکل سریا اسپتال کے قریب ان کی گاڑی کو فائرنگ کا نشانہ بنادیا گیا تھا۔
یاد رہے کراچی کے علاقے گارڈن کے قریب گاڑی پر فائرنگ کے واقعے میں چار افراد کے قتل کا مقدمہ نبی بخش تھانے میں درج کیا گیا تھا جو مقتول صدام حسین کے بھائی کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا۔

