سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ کووڈ 19 کا باعث باعث بننے والا کورونا وائرس عام استعمال ہونے والے ملبوسات میں 3 دن تک زندہ رہسکتا ہے۔
یہ دعویٰ برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔
ڈی مونٹ فورنٹ یونیورسٹی کی تحقیق میں پولیسٹر، پولی کاٹن اور سو فیصد کاٹن پر کورونا وائرس کی موجودگی کی جانچ پڑتال کی گئی۔
نتائج سے عندیہ ملا کہ پولیسٹر میں وائرس کی کئی دن تک موجودگی کا خطرہ سب سے زیادہ ہوتا ہے۔
محققین نے بتایا کہ ملبوسات کی تیاری کے لیے عام استعمال ہونے والے میٹریلز وائرس کی منتقلی کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں۔
تحقیق کے دوران ملبوسات میں وائرس کے ذرات کی جانچ پڑتال کی گئی تھی اور پھر یہ دیکھا گیا کہ ہر میٹریل پر 72 گھنٹے کے دوران وائرس کس حد تک مستحکم رہتا ہے۔
نتائج سے ثابت ہوا کہ پولیسٹر کی سطح یہ وائرس 3 دن کے بعد بھی موجود تھا اور اس کی دیگر اشیا میں منتقلی کی صلاحیت بھی برقرار تھی۔
اس کے مقابلے میں سو فیصد کاٹن میں وائرس 24 گھنٹے تک زندہ رہا ہے جبکہ پولی کاٹن میں یہ صرف 6 گھنٹے تک زندہ رہا۔
محققین نے بتایا کہ جب کورونا وائرس کی وبا کا آغاز ہوا تو ہمیں اس بارے میں بہت کم معلوم تھا کہ کوورنا وائرس کپڑوں پر کب تک زندہ رہ سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تحقیق کے نتائج سے ثابت ہوتا ہے کہ ملبوسات کی تیاری کے لیے استعمال ہونے والے 3 سب سے عام میٹریلز سے طبی عملے میں وائرس کی منتقلی کا خطرہ ہوسکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ میٹریلز طبی عملے کی وردیوں کے لیے عام استعمال ہوتے ہیں اور یہ لباس سے دیگر اشیا کی سطح پر بھی منتقل ہوسکتا ہے۔
تحقیق میں یہ بھی دیکھا گیا کہ خالص کاٹن سے وائرس کو کس طرح نکالا جاسکتا ہے۔
پانی عموماً وائرس کو واشنگ مشینز سے نکال باہر کرتا ہے مگر ایسا اس وقت نہیں ہوتا جب محققین نے کپڑوں پر مصنوعی لعاب دہن کو لگایا جس پر وائرس موجود تھا۔
ایسے حالات میں ڈیٹرجنٹ اور 40 سینٹی گریڈ درجہ حرارت سے وائرس کا مکمل خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔
تاہم کپڑے دھونے سے یہ وائرس دیگر ملبوسات میں منتقل نہیں ہوتا۔
مگر محققین کا کہنا تھا کہ بہتر یہ ہے کہ طبی عملے کو ملبوسات گھر کی بجائے طبی مرکز پر ہی دھوئے جائیں اور اس حوالے سے پرانی سفارشات زیادہہ کارآمد نہیں۔
اس تحقیق کے نتائج ابھی کسی طبی جریدے میں شائع نہیں ہوئے بلکہ آن لائن جاری کیے گئے۔
کورونا کے باوجود 91 فیصد مسلمانوں نے پچھلے سال رمضان میں روزے رکھے، تحقیق

ایک تحقیق میں سامنے آیا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا کے باوجود دنیا بھر میں 91 فیصد مسلمانوں نے پچھلے سال رمضان میں روزے رکھے۔
کراچی میں بقائی انسٹی ٹیوٹ آف ڈائیبیٹولوجی اینڈ اینڈوکرائینولوجی کی جانب سے منعقدہ دو روزہ ساتویں بین الاقوامی ذیابیطس اور رمضان کانفرنس میں مقامی اور بین الاقوامی ماہرین صحت نے خطاب کیا۔
تقریب سے خطاب میں انٹرنیشنل ڈائبٹیز فیڈریشن کے نومنتخب صدر اور ناروے کے ماہر ذیابیطس پروفیسر اختر حسین کا کہنا تھا کہ تحقیق سے یہ ثابت ہوا ہے کہ ذیابیطس اور دیگر بیماریوں میں مبتلا 80 فیصد سے زائد افراد رمضان کے روزے رکھتے ہیں، جبکہ گزشتہ سال کورونا کے باوجود 91 فیصد مسلمانوں نے رمضان میں روزے رکھے اور اس سال ایک اندازے کے مطابق 95 فیصد مسلمان روزے رکھیں گے۔
انہوں نے کہا کہ 2010 میں کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق ذیابیطس میں مبتلا 95 فیصد افراد نے 15 روزے رکھے جبکہ 65 فیصد مریضوں نے رمضان کے پورے روزے رکھے۔
پروفیسر اختر حسین کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے 30 سے 40 فیصد افراد کو یہ علم نہیں کہ وہ رمضان کے مہینے میں کس طرح محفوظ طریقے سے روزے رکھ سکتے ہیں لیکن اس سلسلے میں ہر سال ہونے والی کے طبی کانفرنس اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے معروف عالم مفتی تقی عثمانی کا کہنا تھا کہ مختلف بیماریوں میں مبتلا خاص طور پر ذیابیطس کے مریضوں کے حوالے سے دو شدت پسندانہ آرا پائی جاتی ہیں، ایک طبقہ کہتا ہے کہ ذیابیطس کے مریضوں کو روزے ضرور رکھنے چاہئیں جبکہ دوسرا مکتبہ فکر اس بات کا قائل ہے کہ ایسے لوگوں کو بالکل بھی روزے نہیں رکھنے چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ طبی معاملات میں ماہرین صحت کی رائے کو اولیت حاصل ہے اور اگر ڈاکٹر یہ سمجھتے ہیں کہ کسی مریض کی حالت ایسی نہیں کہ وہ روزے رکھ سکے تو انہیں اپنے معالج کی ہدایت پر عمل کرنا چاہیے۔
انٹرنیشنل ڈائبٹیز فیڈریشن کے صدر پروفیسر اینڈریو بولٹن نے کہا کہ ہر سال کروڑوں مسلمان اپنی مختلف بیماریوں کے باوجود روزے رکھتے ہیں، خاص طور پر ذیابیطس میں مبتلا افراد یہ جاننا چاہتے ہیں کہ وہ محفوظ طریقے سے کیسے روزے رکھ سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس سال رمضان کے مہینے کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے کیونکہ یہ مبارک مہینہ کورونا وائرس کی وبا کے دوران آرہا ہے اور امید ہے کہ ماہرین صحت کورونا وائرس کی وبا اور رمضان میں محفوظ طریقے سے روزے رکھنے کے حوالے سے دنیا کے کروڑوں لوگوں کو مفید مشورے دیں گے۔
منبع: ڈان نیوز
