English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

سینیٹ میں فیصلہ کن مقابلے کے لیے پولنگ شروع

القمر

سینیٹ انتخابات 2021ء میں 37 نشستوں کے لیے پولنگ کا عمل شروع ہوگیا ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق پنجاب کی تمام 11 نشستوں پر امیدوار بلا مقابلہ منتخب ہوچکے ہیں جب کہ آج اسلام آباد کی 2، سندھ کی 11 ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی بارہ بارہ نشستوں پر ووٹ ڈالے جارہے ہیں۔ اس سلسلے میں  قومی اسمبلی سمیت تمام صوبائی اسمبلیوں کے ہال کو پولنگ اسٹیشن کا درجہ حاصل ہے۔

ارکان کے موبائل لے جانے پر پابندی

پولنگ کے دوران قومی اسمبلی میں اراکین کے موبائل اندر لے جانے پر عائد پابندی پر سختی سے عملدرآمد کرایا جارہا ہے، اس حوالے سے پیپلز پارٹی کے ایم این اے عبدالقادر پٹیل اور سکیورٹی عملے کے درمیان تکرار بھی ہوئی، عبدالقادر پٹیل نے تکرار کے بعد اپنا موبائل فون جمع کرادیا اور کہا کہ اگر حکومتی رکن میں سے کوئی موبائل فون اندر لکایا تو ذمہ دار سیکیورٹی عملہ ہوگا۔

پہلا ووٹ کس نے ڈالا

قومی اسمبلی میں پہلا ووٹ تحریک انصاف کے شفیق آرائیں جب کہ دوسرا فیصل وواڈا نے کاسٹ کیا۔ خیبر پختونخوا اسمبلی میں پہلا ووٹ جے یو آئی (ف) کے ہدایت الرحمان نے کاسٹ کیا۔ بلوچستان اسمبلی میں صوبائی وزیر زمرک اچکزئی نے سب سے پہلے اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔

سب سے دل چسپ اور بڑا معرکہ 

سینیٹ انتخابات کا سب سے دل چسپ اور بڑا معرکہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی جنرل نشست پر ہورہا ہے جہاں سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور وزیر خزانہ عبد الحفیظ شیخ ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں۔ حکومتی اتحاد کے پاس 181 جب کہ اپوزیشن نشستوں پر موجود جماعتوں کے پاس 160 نشستیں ہیں۔

اسی طرح  سندھ اسمبلی میں 168 ارکان آج 11 نشستوں پر انتخاب کے لیے اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے، سینیٹ الیکشن میں سندھ سے پیپلز پارٹی، پاکستان تحریک انصاف، ایم کیو ایم، جی ڈی اے اور ٹی ایل پی کے 17 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے۔ سینیٹ کی 7 جنرل نشستوں سمیت خواتین اور ٹیکنو کریٹس کی 2،2 نشستوں کے لیے پولنگ ہوگی۔

اس وقت سندھ اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے ارکان کی تعداد 99، پاکستان تحریک انصاف 30 ارکان کے ساتھ دوسرے اور ایم کیو ایم پاکستان 21 ارکان کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔ گرینڈ ڈیمو کریٹک الائنس کے 14، تحریک لبیک پاکستان کے 3 اور متحدہ مجلس عمل کا ایک رکن ہے۔

سندھ میں سینیٹ انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی حتمی فہرست کے مطابق سینیٹ کی 11 نشستوں پر 17 امیدوار انتخابی میدان میں ہیں حتمی فہرست کے مطابق 7 جنرل نشستوں پر 10 امیدوار انتخاب لڑیں گے۔ جنرل نشستوں پر ایم کیو ایم کے فیصل سبزواری، پی ٹی آئی کے فیصل واوڈا، جی ڈی اے کے صدر الدین شاہ، پیپلز پارٹی کی شیری رحمٰن، سلیم مانڈوی والا، جام مہتاب، شہادت اعوان، تاج حیدر، صادق میمن، دوست علی جیسر انتخاب لڑیں گے۔

ٹیکنو کریٹ کی 2 نشستوں پر 4 امیدوار حصہ لیں گے جن پر پیپلز پارٹی کے فارق ایچ نائیک، ڈاکٹر کریم خواجہ، پی ٹی آئی کے سیف اللہ ابڑو کے درمیان مقابلہ ہوگا۔

تحریکِ لبیک پاکستان پہلی مرتبہ سینیٹ الیکشن میں حصہ لے رہی ہے جس کی طرف سے یشاء اللہ خان ٹیکنو کریٹ کی سیٹ پر امیدوار ہیں۔ خواتین کی 2 نشستوں پر 3 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہو گا۔ پیپلز پارٹی کی پلوشہ خان، رخسانہ شاہ اور ایم کیو ایم کی خالدہ طیب خواتین نشستوں کی امیدوار ہیں۔

 

یہ خبر بھی پڑھیے:سینیٹ کے لیے ووٹوں کی خریداری کا نیا اسکینڈل سامنے آگیا

کئی اعتبار سے اس بار سینیٹ کا حالیہ انتخاب ہنگامہ خیز رہا ہے۔ انتخاب سے قبل صدر کی جانب سے طریقہ کار تبدیل کرکے سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ سے کرنے کے لیے  سپریم کورٹ میں ریفرینس دائر کیا گیا تاہم عدالت نے آئین میں بیان کردہ طریقہ کار برقرار رکھا۔ اس سے قبل حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے انتخابات میں کام یابی اور انتخابی عمل میں خرید وفروخت  کے دعوے بھی سامنے آتے رہے ہیں۔

یہ خبر بھی پڑھیے: سینیٹ انتخابات ماضی کی ہی طرح خفیہ بیلٹنگ سے کرانے کا فیصلہ

اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ سینیٹ انتخابات میں حکومت کے خلاف صف بندی کرکے سینیٹ انتخاب لڑ رہا ہے جس کی وجہ سیاسی محاذ پر یہ سینیٹ انتخاب حکومت اور اپوزیشن دونوں کے لیے انتہائی اہمیت اختیار کرگیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ سینیٹ انتخابات کے نتائج سے حکومت کے خلاف جاری اپوزیشن کی تحریک کے مستقبل کے حوالے سے بھی صورت حال واضح ہوجائے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے