English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

چین کے ساتھ مخاصمت : کیا جو بائیڈن اپنے حریف کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں؟

القمر

چین اور امریکہ کے مابین نئی سرد جنگ کے آغاز کے بعد سے دونوں ممالک کے مابین تعلقات میں شدید کشیدگی دیکھنے کو آئی ہے ۔ ٹرمپ نے چین کے ساتھ تجارتی جنگ چھیڑ کر دونوں ممالک کے مابین چالیس سال سے جاری تجارتی تعلقات کو سخت دھچکا پہنچایا اور امریکہ کی سابقہ پالیسی جو کہ لبرل انٹرنیشنلائزیشن کی بنیاد پر کھڑی تھی اس کو بھی زمین بوس کر دیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی رخصتی کے ساتھ ہی یہ سوال اٹھ کھڑا ہوا ہے کہ کیا بائیڈن انتظامیہ چین پر اسی طرح کے حملے جاری رکھے اور تزویراتی تضادات کی پالیسی پر عمل پیرا ہوگی جس کی بنیاد ڈونلڈ ٹرمپ نے رکھی تھی؟

نئے امریکی صدر نے آتے ہی ٹرمپ انتظامیہ کے بہت سارے اقدامات کو واپس کر کے کسی حد تک تلافی کی کوشش کی ہے تاہم چین کے معاملے میں ایسا لگتا ہے کہ انہیں اپنے پیشرو کے اقدامات کو واپس کرنے کی کوئی جلدی نہیں۔  ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے چین پر 350 بلین ڈالر کی درآمدات کی پابندی کا خاتمہ تاحال ٹرمپ کی دس روزہ پالیسی میں کہیں نظر نہیں آرہا۔ نہ ہی  بائیڈن کو ٹرمپ کی جانب سے چین کی ٹیلی کام کمپنیوں کو نیویارک اسٹاک ایکسچینج میں سے ڈی لسٹ کرنے کے اقدامات کے خاتمے میں کوئی دلچسپی نظر آرہی ہے جبکہ بائیڈن نے چین کی ایپلی کیشنز اور ٹیک کمپنیوں پر پابندیاں ہٹانے کے لیے بھی کوئی اشارہ نہیں دیا۔

جو بائیڈن اور شی جن پنگ کے مابین 10 فروری کو ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو میں بھی بائیڈن نے اس بات کی تصدیق کی ہے  کہ فوری طور پر چین کے حوالے سے اس کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی گی کیونکہ وائٹ ہاؤس کے مطابق بائیڈن نے اس بات کا اعادہ کیا ہے امریکہ آزاد انڈو پیسفک ریجن کا خواہاں ہے۔  چینی صدر شی جن پنگ سے بات چیت سے ایک روز قبل ہی امریکہ کے دو جنگی بیڑوں نے جنوبی بحیرہ چین مییں نیول مشقیں کی ہیں۔ نہ ہی بائیڈن کی کابینہ نے اس حوالے سے کوئی بات کی ہے بلکہ بائیڈن حکام میں سے زیادہ تر نے اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ نئی امریکی انتظامیہ چین کے حوالے سے سابق صدر کی پالیسیوں کو جاری رکھے گی۔

بائیڈن کے چینی شکرے

بائیڈن کے نئے وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے سینٹ کی بین الاقوامی تعلقات کی کمیٹی کے سامنے اس بات کا اعلان کیا ہے وہ چین پر سابق وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے ان الزامات کی تصدیق کرتے ہیں کہ چین ایغور میں مسلمانوں کی نسل کشی میں ملوث ہے۔  انہوں نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ سابقہ وزیر خارجہ کی طرح چین کو کرونا وبا کے پھیلاؤ کا ذمہ دار بھی قرار دیا۔ مزید برآں بلنکن نے تائیوان کی فوجی امداد کا اعادہ اور ہانگ کانگ میں جمہوریت نوازوں کے خلاف کریک ڈاؤن پر تنقید بھی کی۔

بلنکن کی طرح امریکہ وزیر خزانہ جینٹ یلین نے بھی چین پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ذمہ دار قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ امریکی اتحادی چین کے غیر قانونی اقدامات پر متحد ہوکر آواز بلند کریں گے۔ یلین نے چین پر تجارتی رکاوٹیں کھڑی کرنے کا الزام بھی عائد کیا اور چین کے ماحولیاتی اور مزدوروں کے معیارات کی مذمت بھی کی۔ اسی اثنا میں امریکی نیشنل انٹلی جنس کے ڈائریکٹر ارول ہینز نے بھی کہا کہ بائیڈن چین کو اپنا مدمقابل سمجھتا ہے اور تجارتی میدانوں میں اسے اپنا حریف گردانتا ہے۔ انہوں یہ بھی کہا کہ چین کی جانب سے انٹلی جنس کے خطرات کو روکنا ان کی اولین ترجیح ہوگا۔

بائیڈن کی ٹیم میں شامل اوبامہ کے ایک سابقہ ساتھی کرٹ کیمپبل جو کہ اس وققت انڈو پیسفک خطے کے کووآرڈینیٹر ہیں اور 2012 میں اوبامہ انتظامیہ کے پائیوٹ ٹو ایشیاء پالیسی کے خالق بھی تھے۔ ایشیا کے نامور تجزیہ نگار اور بائیڈن کے سابقہ ساتھ ایلی ریٹنر کو سیکرٹری دفاع کے خصوصی معاون کے طور پر چنا گیا ہے اور ری پبلکن میں موجود چین مخالف دھڑے نے اس تقرری کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ 2018 میں ریٹنر اور کیمپبیل نے نے ایک مضمون میں لکھاتھا کہ ٹرمپ کی چین کے ساتھ بات چیت کی پالیسی کو رد کرنا ایک درست عمل ہے۔

ایسا لگ رہا ہے کہ واشنگٹن اور بیجنگ میں بیٹھے احکام مقابلے کے چکر میں پھنس چکے ہیں جس کا نتیجہ باہمی سیکور ٹی کے مسائل اور قومی نفرت کی صورت میں نکل سکتا ہے۔

بائیڈن کی چین سے متعلق پالیسی تیار کرنے والی اپنی ٹیم منقسم ہے۔ امریکہ کی حکومت تجارتی میدان میں صحت مندانہ مقابلہ کی فضا قائم کرکے امن کو فروغ دے سکتی ہے، جس سے حوصلہ افزانتائج برآمد ہو سکتے ہیں، دوسری طرف، اس بات پر اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ چین کی ترقی امریکی طاقت کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہے، فوجی تصادم کے امکانات ہیں یہاں تک کہ تیسری عالمی جنگ کا خدشہ بھی موجودہے۔ شی جن پنگ نے کھلے لفظوں میں مثبت سوچ کے تحت پرانی ذہنیت کو تبدیل کرنے پر زور دیا ہے۔

امریکہ کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ جمہوریت اور فری مارکیٹ ترقی اور غلبہ حاصل کرنے کا واحد راستہ نہیں ہیں، اسی طرح صحت مند مسابقت کا مطلب محاذ آرائی نہیں ہوتا۔ اس نقطہ نظر کو ذہن میں رکھتے ہوئے، بائیڈن انتظامیہ کو مخالفت اور مقابلہ کرنے کا فیصلہ کرنے سے پہلے ان نکات کو سمجھنا ہوگا۔ جمہوریت ہر خطے یا ملک کیلئے موزوں نہیں ہوتی۔ چین ون پارٹی کے تحت گورننس کی زندہ مثال ہے اس کے سیاسی ڈھانچے کی حقیقت کوتسلیم کیے بغیر نتیجہ خیز بات چیت نہیں ہو سکتی۔ امریکہ کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ جمہوریت اور فری مارکیٹ ترقی اور غلبہ حاصل کرنے کا واحد راستہ نہیں ہیں، اسی طرح صحت مند مسابقت کا مطلب محاذ آرائی نہیں ہوتا۔ اس نقطہ نظر کو ذہن میں رکھتے ہوئے، بائیڈن انتظامیہ کو مخالفت اور مقابلہ کرنے کا فیصلہ کرنے سے پہلے ان نکات کو سمجھنا ہوگا۔ جمہوریت ہر خطے یا ملک کیلئے موزوں نہیں ہوتی۔ چین ون پارٹی کے تحت گورننس کی زندہ مثال ہے اس کے سیاسی ڈھانچے کی حقیقت کوتسلیم کیے بغیر نتیجہ خیز بات چیت نہیں ہو سکتی۔۔ بائڈن جو حکمتِ عملی چین کے لیے اختیار کرنے جا رہے ہیں اس کا اثر لاکھوں افراد پر ہوگا۔ اگر بائیڈن تصادم کا راستہ اختیار کرتے ہیں تو چین بھی اس کیلئے تیار ہے۔

پیر، 8 مارچ 2021

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے