دسمبر 2019 میں چین سے شروع ہونے والی کورونا کی وبا کو دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ایک سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے اور دنیا بھر میں 12 مارچ کی سہ پہر تک کورونا کے مریضوں کی تعداد 11 کروڑ 86 لاکھ 71 ہزار سے زائد ہوچکی تھی۔
دنیا میں کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک امریکا ہے، جہاں پہلا کیس جنوری 2020 کے وسط میں سامنے آیا تھا اور 12 مارچ 2021 کی سہ پہر تک وہاں کورونا کے مریضوں کی تعداد 2 کروڑ 92 لاکھ سے زائد ہو چکی تھی۔
امریکا میں اسی مدت کے دوران ہلاکتوں کی تعداد 5 لاکھ 30 ہزار سے زائد ہو چکی تھی اور وہاں وبا کو ایک سال مکمل ہونے پر کی جانے والی ایک تحقیق سے پتا چلا ہے کہ ہر پانچویں امریکی شخص نے وبا میں کوئی نہ کوئی رشتہ دار یا انتہائی قریبی دوست کو موت کے منہ میں جاتے ہوئے دیکھا۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے یونیورسٹی آف شکاگو میں قائم ’سینٹر فار پبلک افیئرز ریسرچ‘ کی جانب سے کی جانے والی تحقیق سے معلوم ہوا کہ وبا کے باعث امریکا میں ہر پانچویں شخص نے اپنا قریبی رشتہ دار یا قریبی دوست کھویا۔
امریکا بھر میں کروائے گئے سروے سے معلوم ہوا کہ کورونا کے باعث سب سے زیادہ متاثر سیاہ فام کمیونٹی ہوئی تاہم وبا نے مجموعی طور پر پورے امریکا کو لپیٹ میں لیے رکھا اور تقریبا ہر خاندان کسی نہ کسی طرح متاثر ہوا۔
سروے سے معلوم ہوا کہ ہر پانچویں امریکی شخص کا کوئی نہ کوئی دوست یا کوئی نہ کوئی رشتہ دار کورونا کی وجہ سے ہلاک ہوا۔
سروے سے معلوم ہوا کہ کورونا میں سب سے زیادہ یعنی 30 فیصد ہلاکتیں سیاہ فام افراد کی ہوئیں جب کہ 29 فیصد لاطینی امریکی و ہسپانوی نسل کے افراد کی ہوئیں۔
اسی طرح سب سے کم ہلاکتیں یعنی 15 فیصد اموات سفید فام افراد کی ہوئیں۔
سروے میں یہ بات بھی نوٹ کی گئی کہ ماہانہ 30 ہزار امریکی ڈالر سے کم آمدنی والے افراد کی وبا کے باعث زیادہ اموات ہوئیں۔
کورونا کو ایک سال گزرنے کے باوجود امریکیوں کی زیادہ تر آبادی اب بھی خوف میں مبتلا ہے اور ہر 10 میں سے 4 افراد خود کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں۔
سروے سے معلوم ہوا کہ چند ماہ قبل ہر 10 میں سے 3 افراد کا خیال تھا کہ وہ یا ان کے رشتہ دار کسی نہ کسی طرح کورونا کی مبتلا ہوسکتے ہیں مگر ویکسین آنے کے باوجود اب بھی ہر 10 میں سے 4 افراد کو ایسا ہی ڈر ہے۔
سروے میں ویکسینیشن سے متعلق بھی سوالات لوگوں سے پوچھے گئے اور زیادہ تر لوگوں کے خیالات مثبت تھے۔
زیادہ تر افراد کا کہنا تھا کہ انہوں نے کورونا ویکسین کی افادیت، اہمیت اور فوائد سے متعلق محکمہ صحت یا دیگر سرکاری عہدیداروں سے ہی معلومات حاصل کیں اور ملنے والی معلومات پر زیادہ تر لوگ مطمئن دکھائی دیے تاہم ویکسین کی فراہم سے متعلق لوگوں میں خدشات پائے گئے۔
منبع: ڈان نیوز
