English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

انٹونی بلنکن کا افغانستان کو نو نو آبادیاتی خط

القمر

امریکہ کے وزیرِ خارجہ اینٹنی بلنکن نے افغانستان کو خبردار کیا ہے کہ اگر صدر غنی نے افغان امن عمل کو آگے بڑھانے کے لیے نئی تجاویز پر غور نہ کیا تو اسے تنِ تنہا طالبان کے بڑے حملوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔امریکی وزیرِ خارجہ کی جانب سے افغان صدر کو لکھے گئے ایک خط میں کہا گیا ہے کہ امریکہ یکم مئی کو افغانستان سے تمام افواج کے انخلا پر غور کر رہا ہے جب کہ دیگر آپشنز بھی زیرِ غور ہیں۔ خط میں صدر غنی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ “جنابِ صدر میں آپ پر واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ واشنگٹن میں ہماری پالیسی پر غور ہو رہا ہے اور امریکہ کسی بھی آپشن کو مسترد نہیں کر سکتا۔ ہم یکم مئی کو امریکی فوج کے مکمل انخلا کے علاوہ دیگر آپشنز پر بھی غور کر رہے ہیں۔”

امریکی فوج کے انخلا کے بعد افغانستان کی سیکیورٹی صورتِ حال اور طالبان کے مزید علاقوں پر قبضے کے خدشے کے پیشِ نظر بلنکن نے اشرف غنی سے کہا کہ “میں آپ پر اسی لیے واضح کر رہا ہوں شاید آپ کو میرے لہجے سے اندازہ ہو کہ ہمیں اجتماعی کوششیں کرنے کی ضرورت ہے۔”افغان صدر کو اس طرح کا خط بھئج کر صدر اشرف غنی نے افغانستان میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کا عندیہ دیا ہے اور افغان صدر کو بتایا ہے کہ امریکہ اس وقت افغانستان کے معاملے میں کہاں کھڑا ہے۔ بلنکن کے طرز تخاطب سے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ نو نو آبادیاتی حاکم ہوں اور ایک منتخب صدر کو حکم جاری کر رہے ہوں۔

یہ خط افغانستان کے خبر رساں ادارے تولو نیوز نے لیک کیا اور اتوار تک یہ ساری دنیا میں پھیل چکا تھا۔ اس خط کے ساتھ آٹھ صفحوں کا  ” افغان امن معاہدے ” کے نام سےایک ڈرافٹ بھی تھا۔ اس خط میں واضح کیا گیا کہ اقوام متحدہ روس، چین، پاکستان، ایران اور بھارت کے وزرائے خارجہ کا اجلاس اور اعلی سطحی اجلاس ترکی میں بلانے والی ہے تاکہ اس امن معاہدے کو حتمی شکل دی جا سکے۔ بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق بلنکن خط امریکہ کے بھولے پن کو ظاہر کرتا ہے کیونکہ دیگر ممالک کو افغان امن بات چیت میں شامل کرنے سے یہ حقیقت ہرگز تبدیل نہیں ہوسکتی کہ امریکہ اور اس کے خصوصے نمائندے زلمے خلیل زاد درحقیقت افغانستان میں طالبان کو مضبوط کر رہے ہیں۔ اگرچہ 2001 سے امریکی افغانستان میں انتخابات کے نتائج پر اثر انداز ہورہے ہیں مگر حالیہ حرکت سے یہ بات مکمل ثابت ہو چکی ہے کہ امریکہ افغانستان میں کھلی مداخلت کر رہا ہے۔

افغانستان میں موجود ایک صحافی کا کہنا تھا کہ نئی امریکی انتظامیہ کا یہ خط افغانستان کے جمہوری عمل، جو کہ اس ملک کی واحد کامیابی ہے کی بہت بڑی تذلیل ہے۔کابل کے ایک ایڈووکیٹ کاون کاکڑ کا کہنا تھ اکہ اس خط کا لب ولہجہ اور مندرجات بہت زیادہ پریشان کن ہیں ۔ افغان امن معاہدہ درحقیقت طالبان کے ساتھ طاقت کے اشتراک کا معاہدہ ہے اور مزید برآں نئی آئینی تبدیلیوں جن میں اسلامک قانونی کونسل کو یہ حق یا گیا ہے کہ وہ تمام قوانین کو ویٹو کر سکتی ہے جبکہ غیر منتخب طالبان ممبران کو پارلیمنٹ میں بھی شامل کرنے کی بات کی گئی ہے۔ ان تبدیلیوں سے طالبان طاقتور ہو جائیں گے۔

مذموم مقاصد

بلاشبہ اشرف غنی امریکہ کی اس حرکت پر مشتعل ہوں گے اور بعض لوگوں کا خیال ہے کہ بلنکن کا بنیادی مقصد اشرف غنی کو یہ باور کرانا ہے کہ ان کی چھٹی کا منصوبہ طے پاچکا ہے کیونکہ وہ زلمے خلیل زاد سے مسلسل اختلافات کا شکار رہے ہیں۔ اشرف غنی کی حکومت پر بھی یہ تنقید کی جارہی ہے کہ وہ امن کے عمل کو آہستہ کر رہے ہیں ، طاقت کو برقرار رکھنے کے لیے امن عمل کو داؤ پر لگا رہے ہیں اور ان کی حکومت بدترین بدعنوانی کا شکار رہی ہے۔

اشرف غنی نےپارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے یہ واضح کیا ہے کہ حکومت کا بدلنے کا واحد رستہ انتخابات ہیں ۔ انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی اپنا خیال کاغذ کے ایک ٹکڑے پر تحریر کر سکتا ہے ، وہ اس سے قبل بھی یہ سب کر چکے ہیں اور اب بھی یہی کر رہے ہیں اور مستقبل  میں بھی ایسا کرتے رہیں گے تاہم ہم کبھی ان کے ساتھ کوئی ڈیل ںہیں کریں گے۔ قومی قومی مفاہمت کے لیے ہائی کونسل کے سربراہ ڈاکٹر عبداللہ عباللہ نے اس خط کے حوالے سے اپنے رد عمل میں کہاہے کہ  ” اس بات سے متفق ہیں کہ افغانستان میں امن بہت ضروری ہے تاہم انتخابات کی اہمیت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ انہوں نے عبوری حکومت کے منصوبے کو رد کیا۔

دونوں سیاسیوں کو خط بھیجنے سے بلنکن کو دو مقاصد حاصل ہو سکتے ہیں ۔ اگر غنی متفق نہیں ہوتے تو عبداللہ عبداللہ کو کہا جاسکتاہے کہ وہ آگے آئیں۔ تاہم ان دونوں کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کرنے سے سوائے کشیدگی کے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ بلنکن کے سامنے امریکی مفادات ہیں اور 90 دن تشدد میں کمی کے پروپوزل سے وہ صدر جو بائیڈن کے لیے وقت حاصل کر رہے ہیں کہ وہ افغانستان میں 2500 امریکی فوجی رکھنے کا جواز گھڑ لیں۔ افغانستان کے نائب صدر امراللہ صالح کا کہنا تھا کہ امریکی اس بات کو حق رکھتے ہیں وہ طالبان کے ساتھ 25،00 فوجی افغانستان رکھنے کے معاہدے پر بات چیت کریں۔ امریکہ کے جو بھی مقاصد ہیں بلنکن کم از کم اس بات سے انکار نہیں کر سکتے کہ وہ طالبان کو نواز رہے ہیں۔ ایک ایسی انتظامیہ کا اعلی سفارتکار ہونا جو کہ جمہوری معیارات پر فخر کرتی ہو اس کے لیے اس طرح کا الٹی میٹم جمہوری اقدار کے سخت منافی ہے۔

بلنکن نے اس خط میں ایک جگہ لکھا ہے کہ” شاید آپ کو میرے لہجے سے اندازہ ہو کہ ہمیں اجتماعی کوششیں کرنے کی ضرورت ہے” ۔ یقینا یہ لہجہ درست نہیں تھا اور اگر باہمی بات چیت سے یہ معاملہ حل نہ کیا گیا تو اس کا رد عمل خطرناک ہوگا۔

جمعتہ المبارک، 12 مارچ 2021

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے