English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

یہ سات ووٹ

القمر

یہ منظر سینٹ انتخابات کا ہے۔ تمام نمائندے ووٹ ڈال رہے ہیں ۔ حفیظ شیخ اور یوسف رضا گیلانی کے مابین سخت مقابلہ متوقع ہے اور ایک طرف حکومت نے حیفظ شیخ کی جیت کے لیے پورا زور لگا رکھا ہے تو دوسری طرف پاکستان جمہوری تحریک ہر صورت یوسف رضا گیلانی کو فتح یاب قرار دلوانا چاہتی ہے۔ بالاخر انتخابات کو وقت ختم ہوا اور نتائج کا اعلان ہوا۔ نتائج کے مطابق یوسف رضا گیلانی کو 169 ووٹ ملے جبکہ حفیظ شیخ کو 164 ووٹ ملے۔ یوسف رضا گیلانی پانچ ووٹوں کے مارجن سے یہ معرکہ جیت گئے جبکہ حفیظ شیخ میں ڈالے گئے ووٹوں میں سے سات ووٹ مسترد ہوئے اور اگر یہ سات ووٹ مسترد نہ ہوتے تو حیفظ شیخ سینٹر بن جاتے اور یوسف رضا گیلانی کو بلکہ پاکستان جمہوری تحریک کو شکست کا مزہ چکھنا پڑتا۔ تاہم ان سات ووٹوں نے حکومت اور حفیظ شیخ کو آسمان سے زمین پر لا پٹکا۔

منظر ایک مرتبہ پھر سینٹ انتخابات کا ہے مگر اس بار انتخاب چئیرمین اور ڈپٹی چئیرمین کا ہونا ہے اور یوسف رضا گیلانی اس مرتبہ چئیرمین سینٹ کے امیدوار ہیں جبکہ دوسری جانب حکومت نے صادق سنجرانی کو چئیرمین سینٹ نامزد کیا ہے۔ دونوں طرف سے چئیرمینت سینٹ کی سیٹ کے لیے کانٹے دار معرکہ ہے اور دونوں طرف سے جیت کے دعوے کیے جارہے ہیں بلکہ یہ کہنا بھی بے جا نہیں ہے کہ دونوں اطراف کے لیے چئیرمین سینٹ کا انتخاب زندگی اور موت کا سوال ہے۔ بالاخر رزلٹ آگئے اور صادق سنجرانی کامیاب قرار پائے ۔ صادق سنجرانی کو 48 ووٹ ملے جب کہ یوسف رضا گیلانی کو 42 ووٹ ملے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یوسف رضا گیلانی کے حق میں ڈالے جانے والے سات ووٹوں کو مسترد قرار دیا گیا۔ یعنی اگر یہ ووٹ یوسف رضا گیلانی کے حق میں درست ہوتے تو وہ سینٹ کے چئیرمین کی نشست جیت گئے تھے مگر جو سات ووٹ حیفظ شیخ کو لے ڈوبے تھے وہی سات ووٹ اس مرتبہ یوسف رضا گیلانی کو لے ڈوبے۔

اب سوال یہ ہے کہ یہ سات ووٹ کون ہیں ۔ یہ کس کی ایما پر اپنے ووٹ غلط کاسٹ کرتے ہیں اور کیسے بکتے ہیں۔ اس میں تو خیر کوئی دورائے نہیں کہ ان سات ووٹوں کو دونوں طرف سے استعمال کیا گیا ہے پہلی مرتبیہ حکومت کو یہ بتانے کے لیے کہ اس کی کوئی حیثیت نہیں اگر یوسف رضا گیلانی کو ووٹ مستردگی کے ذریعے جتوایا جا سکتا ہے تو اس چئیرمین سینٹ بھی بنایا جاسکتا ہے۔ یقینا اس پیغام کے بعد بعض اکڑی ہوئی گردنیں سر خم تسلیم ہوگئی ہوں اور پھر یہی سات ووٹ اگلی مرتبہ چمتکار دکھا کر یوسف رضا گیلانی اور پی ڈی ایم کو نیچا ددکھا گئے۔ اب بظاہر دیکھا جائے تو عمران خان صاح بیہ دعوی کرنے میں حق بجانب ہیں کہ سینٹ انتخابات شفاف ہوئے ہیں اور ان کے 48 ووٹ بنتے تھے اور ان کے حق میں 48 ووٹ ہی آئے یعنی انہوں نے کوئی خریددو فروخت نہیں کی۔ بالفاظ دیگر

رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی

اس سارے کھیل میں تمام تر گند اپوزیشن کے چہرے پر مل کر اس سے فتح بھی چھین لی گئ ہے۔ اب کم از کم حکومتی اراکین میڈیا پر یہ آکر ضرور کہیں گے کہ ووٹ تو پی ڈی ایم نے خریدے ہمارے تو وہی 48 ووٹ رہے ۔ یعنی ووٹوں کی خریدو وفروخت کا الزام بھی اپوزیشن پر عائد ہوگ اور ووٹ بھی کسی کام کے نہ رہے۔ پس اس سارے کھیل میں ان سات باضمیر ممبران کو یہ بتایا گیا ہوگا کہ انہوں نے کس طرح سے پی ڈی ایم کو اپنی حمایت کو یقین دلانا اور پھر ووٹ بھی انہیں کو ڈالنا ہے مگر یہ ووٹ بے کار ووٹ ہوگا۔ پس سانپ بھی مر گیا اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹی۔  یہاں یہ امر بھی دلچسپ ہے کہ وہی خان صاحب جو اوپن بیلٹنگ کے لیے پورا زور لگا رہے تھے مگر جب بات چئیرمین سینٹ کی آئی تو دوبارہ انہوں نے اوپن بیلٹنگ کا نام لیان بھی گوارا بھی نہ کیا۔ خیر ان انتخابات میں اصل کھیل یقینا آصف علی زرداری سے مل کرکھیلا گیا ہوگا کیونکہ یہ کھیل کھیلنے والے جانتے ہیں کہ وہ زرداری کو فئیر مقابلے میں شکست نہیں دے سکتے اس لیے بہتر ہے کہ ان سے ڈیل کر لی جائے۔

اب اس بات کا علم نہیں کہ اگر یہ ڈیل ہوئی تو کن بنیادوں پر ہوئی ہے تاہم یوسف رضا گیلانی کی شکست سے پی ڈی ایم میں بھی دراڑ پڑنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے کیونکہ یوسف رضا گیلانی کی شکست کے فورا بعد طلال چوہدری صاحب نے ایک ٹویٹ کیا ہے کہ ” ” بلاول بھٹو صاحب نیوٹرل کا مزہ آیا”یعنی ان کا اشارہ بلاول بھٹو زرداری کے ان بیانات کی طرف ہے جن میں انہوں نے کہا تھا کہ مقتدرہ نیوٹرل ہے اور وہ انتخابات میں کسی کی حمایت نہیں کرے گی۔ پس اگر آصف علی زرداری نے اس حوالے سے کوئی بھی ڈیل کی ہے تو انہوں نے پی ڈی ایم کے مستقبل کو خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔

جمعتہ المبارک ، 12 مارچ 2021

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے