کراچی(نمائندہ جسارت)امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کراچی میں تیزی سے بڑھتے ہوئے اسٹریٹ کرائمز پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت اور پولیس اسٹریٹ کرائم کو روکنے میں بری طرح ناکام ہوگئی ہے شہر قائد میں ایک مرتبہ پھر جرائم کی وارداتوں میں اضافے سے شہریوں میں شدید بے چینی اور تشویش پائی جا رہی ہے جب کہ انتظامیہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کراچی میں چوری و ڈکیتی کی وارداتوں اور اسٹریٹ کرائمز میں تشویش ناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے جس کے باعث شہریوں کو شدید مالی اور ذہنی اذیت کا سامنا ہے، خواتین کے پرس و زیورات اور شہریوں سے موبائل فون چھیننے کی وارداتیں روزانہ ہو رہی ہیں اور پولیس اور انتظامیہ صورتحال سے مکمل لاتعلق ہے ۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ اخباری اطلاعات کے مطابق صرف ماہ فروری میں کراچی میں ڈکیتی مزاحمت و دیگر واقعات میں 28 افراد قتل ہوئے ، شہری 3 ہزار 369 سے زاید موٹر سائیکلوں،135سے زاید گاڑیوں، 1795موبائل فونز سے محروم کر دیے گئے ہیں جبکہ بھتہ خوری کی وارداتیں اس کے علاوہ ہیں۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ شہر میں امن و امان کی بد ترین صورتحال قانون نافذ کر نے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے، پولیس کی عدم توجہی کے باعث ہی جرائم پیشہ عناصر اور گروہ بڑے پیمانے پر بلاخوف و خطرچھینا جھپٹی اور لوٹ مار کی وارداتیں کر رہے ہیں، جس کے باعث عام شہری مسلسل اپنے آپ کو غیر محفوظ اور بے بس تصور کر رہے ہیں ۔ حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہا کہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمے داری ہے کراچی کے شہریوں کو ہر قسم کا تحفظ فراہم کریں اور اسٹریٹ کرائمز میں ملوث عناصر کے خلاف فوری عملی اقدامات کریں۔

