اسلام آباد/لاہور/کراچی(نمائندگان جسارت+اسٹاف رپورٹر) ملک میں کورونا وبا کی تیسری لہر نے شدت اختیار کرلی ہے۔ 24 گھنٹوں میں مزید 2 ہزار 664 نئے کیسز سامنے آئے ہیںجب کہ32 اموات بھی رپورٹ کی گئی۔ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق کورونا کے مجموعی کیسز کی تعداد 6 لاکھ 5 ہزار 200 ہو گئی ہے، سندھ 2 لاکھ 61 ہزار179، پنجاب میں ایک لاکھ 85 ہزار468، بلوچستان 19 ہزار 206، خیبر پختونخوا 75 ہزار 725، اسلام آباد میں 47 ہزار710، آزاد کشمیر 10 ہزار952 اور گلگت بلتستان میں 4 ہزار 960 افراد کورونا سے متاثر ہوچکے ہیں۔اس طرح ملک میں اس وبا سے مصدقہ اموات 13 ہزار 508 ہو گئی ہے۔ پنجاب میں کورونا وبا سب سے زیادہ ہلاکت خیز ثابت ہورہی ہے جہاں اس وبا سے جاں بحق افراد کی تعداد 5 ہزار753 ہوگئی ہے، اس کے علاوہ سندھ میں 4 ہزار 453، خیبر پختونخوا 2 ہزار153، اسلام آباد میں 524، گلگت بلتستان میں 103، بلوچستان میں 202 اور آزاد کشمیر میں 320 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کورونا کے مزید ایک ہزار 275 مریضوں نے اس وبا کو شکست دے دی ہے۔ اس طرح ملک میں اب تک 5 لاکھ 70 ہزار 571 افراد کورونا سے صحتیاب ہوچکے ہیں۔ ملک میں اس وقت کورونا کے 21 ہزار 121 فعال مریض ہیں جن میں سے ایک ہزار 805 افراد کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے سربراہ اسفندیار ولی خان بھی وائرس کاشکار ہوگئے ہیں۔اسفند یار کے بیٹے ایمل ولی خان نے بتایا ہے کہ والد کی گزشتہ 4، 5 روز سے طبیعت خراب تھی جس کے باعث ان کا کورونا ٹیسٹ کرایا جو کہ مثبت آیا ہے۔خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسفندیار ولی خان نے خود کو گھر پر قرنطینہ کر لیا ہے جبکہ ڈاکٹرز سے مشاورت کے بعد انہیں اسپتال منتقل کیا جائے گا۔ پنجاب حکومت نے کورونا وائرس کی تیسری لہر کے پیش نظر صوبے کے 7 شہروں لاہور، راولپنڈی، سرگودھا، فیصل آباد، ملتان، گوجرانوالہ اور گجرات میں مکمل لاک ڈائون لگاتے ہوئے ان اضلاع کے اندر اور باہر عوام کی نقل و حمل محدود کردی گئی ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق 2ہفتوں کے لیے ہر قسم کی سماجی، مذہبی یا کسی بھی مقصد کے لیے اجتماع پر پابندی ہوگی جبکہ ان شہروں میں ہر طرح کے شادی ہالز، بینکوئٹس، کمیونٹی مراکز اور مارکیٹس بھی بند رہیں گی۔ادھر سندھ پولیس کے ترجمان کے مطابق 7 روزکے دوران 94 پولیس افسران اوراہل کاروں کے کورونا ٹیسٹ مثبت آئے ہیں۔ترجمان کے مطابق کورونا سے متاثرہ پولیس افسران اوراہل کاروں کی تعداد 6250 ہوگئی ہے جب کہ اب تک کورونا کے باعث 24 پولیس افسران اوراہلکار انتقال کرچکے ہیں۔دوسری جانب خیبر پختونخوا میں کورونا ویکسی نیشن کا عمل سست روی کا شکار ہو گیا، ایک ماہ سے زائد عرصہ میں صرف 27 ہزار ہیلتھ ورکرز کو ہی لگائی جاسکی ،معمر افراد کی ویکسنیشن کا عمل بھی سست ہونے سے مسائل بڑھ گئے۔علاوہ ازیں قومی اسمبلی کی تمام سرگرمیاں جزوی طور پر معطل کردی گئیں ۔ دفاتر کو 16 مارچ تک بند رکھا جائے گا ۔ 17مارچ سے بھی صرف ضروری اسٹاف کو بلایا جائے گا ۔اسلام آباد میں تمام تجارتی مراکز 3روز کے لیے بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ جمعہ، ہفتہ اور اتوار کو تمام تجاری مراکزبند رہیں گے۔ تمام تفریحی مقامات اورپارک بھی 3روز کے لیے مکمل بند رہیں گے۔ اسلام آباد میں کورونا کا پھیلائو مزید بڑھنے سے اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔ آئی 10، آئی 9 اور آئی8 کے تینوں سیکٹروں میں کیسز 50 کی شرح سے ہر روز بڑھ رہے ہیں جس کی وجہ سے ان تین علاقوں کو مکمل سیل کرنے کا نوٹیفکیشن جاری جاری کردیا گیا ہے ۔دوسری جانب کورونا کیسزمیں بتدریج اضافے کے بعد آزاد کشمیر کے ضلع کوٹلی میں مکمل لاک ڈاؤن کر دیا گیا ہے، اور اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔جس کے مطابق تمام تعلیمی ادارے 15 مارچ سے 28مارچ تک مکمل بند رہیں گے، اندرون اور بیرون ضلع تمام ٹرانسپورٹ بند رہے گی، کھیلوں کی تمام سرگرمیوں اور ضلع میں ہرطرح کے مذہبی اجتماعات پر پابندی ہوگی، کوٹلی کے تمام انٹری پوائنٹس بند تاہم بیرون ممالک سفر کرنے والے شہریوں کو اجازت ہوگی۔

