

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکا کے 2شہروں اٹلانٹا اور شیروکی کاؤنٹی میں فائرنگ کے نتیجے میں کم از کم 8 افراد ہلاک ہو گئے، جب کہ حملے کے شبہے میں ایک 21 سالہ شخص کو گرفتار کرلیا گیا۔ اٹلانٹا اور اس سے تقریباً 40کلومیٹر دور شیروکی کاؤنٹی میں منگل کے روز ایک حملہ آور نے مساج پارلروں پر فائرنگ کی۔ مرنے والوں میں 6 ایشیائی خواتین شامل ہیں، جس کے باعث اس حملے کے پیچھے سفیدفام بالادستی کی سوچ کارفرما ہونے کا امکان ہے۔ پولیس نے مشتبہ حملہ آور کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے ۔ پولیس چیف راڈنی برائنٹ نے بتایا کہ اٹلانٹا میں فائرنگ کا یہ واقعہ سڑک کے دونوں طرف واقع 2 مساج پارلروں میں پیش آیا۔ وہاں 4 افراد ہلاک ہوئے، جب کہ ایک شخص زخمی ہوا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پولیس کو شام 6 بجے فون پر ایک جگہ ڈاکہ زنی کی اطلاع ملی۔ پولیس موقع پر پہنچی تو وہاں 3 عورتوں کو مردہ پایا۔ پولیس چیف نے بتایا کہ پولیس اس واقعے کی ابتدائی تفتیش کر ہی رہی تھی کہ اسے سڑک کے دوسری طرف واقع ایک سپا سے فون کال موصول ہوئی، جہاں گولی لگنے سے ایک عورت کی موت ہوگئی تھی اور دوسری زخمی تھی۔ اس سے قبل تقریباً 5 بجے شام ایکورتھ میں بھی ایک مساج پارلر میں 5 افراد کو گولی مار دی گئی تھی۔ ان میں سے 2 کی موقع پر ہی موت ہوگئی، جب کہ 3 دیگر زخمیوں کو اسپتال لے جایا گیا، لیکن ان میں سے 2 اسپتال میں چل بسے ۔ شیروکی قصبے کے شیرف کے ترجمان کیپٹن جے بیکر نے کہا ہے کہ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ اٹلانٹا اور شیروکی دونوں مقامات پر مساج پارلروں پر ہونے والے حملوں میں کوئی تعلق ہے یا نہیں۔پولیس نے منگل کے روز ایک 21سالہ شخص کو گرفتار کیا ہے۔ اسے ان واقعات کے چند گھنٹے بعد جنوب مغرب جارجیا سے گرفتار کیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ آیا متاثرین کوان کی نسل کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا تھا۔
