واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی صدر جوبائیڈن نے بھی روسی صدر ولادیمیر پیوٹن پر انتخابات میں مداخلت کا الزام عائد کردیا۔ انہوں نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ پیوٹن کو اس مداخلت کی بھاری قیمت چکانا ہو گی۔ انٹرویو میں جوبائیڈن ایک سوال کے جواب میں پیوٹن کو قاتل قرار دیا۔ دوسری جانب روسی اسپیکر نے پیوٹن کو قاتل کہنے پر سخت رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ بائیڈن کے الفاظ روس پر براہ راست حملہ ہے۔ امریکی خفیہ اداروں کی ایک رپورٹ کے مطابق روس نے گزشتہ برس نومبر میں ہونے والے امریکی صدارتی انتخابات کے نتائج پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی تھی۔ رپورٹ کے مطابق یہ کام صدر ولادیمیر پیوٹن کے ایما پر کیا گیا۔ کریملن کی کوشش تھی کہ الیکشن میں ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت کی جائے اور ان کے ڈیموکریٹ حریف جو بائیڈن کو سیاسی نقصان پہنچایا جائے۔ رپورٹ کے مطابق روس کے علاوہ کیوبا، وینزویلا، لبنانی حزب اللہ اور ایران نے بھی انتخابات کے نتائج پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی تھی۔ امریکی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ واشنگٹن انتخابات میں مبینہ مداخلت کی پاداش میں آیندہ ہفتے روس پر پابندیاں عائد کرے گا۔ امریکی وزارت داخلہ اور وزارت قانون کی مشترکہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ روس اور ایران کے حملوں میں امریکی انتخابی نظام کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا، جس سے انتخابی ذمے داریاں ادا کرنے والے سیکورٹی نیٹ ورک متاثر ہوئے۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ اس مداخلت کا ووٹروں کی رائے پر کوئی اثر نہیں ہوا اور نہ ہی اس سے ووٹوں کی گنتی اور بروقت نتائج متاثر ہوئے۔
