نیامے (انٹرنیشنل ڈیسک) افریقی ملک نائیجر میں مسلح حملوں کے نتیجے میں 58 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔ خبر رساں اداروں کے مطابق موٹر سائیکل سوار مسلح افراد نے جنوب مغربی علاقے تلابری کے گاؤں بانی بانگو میں ہفتہ وار مویشی بازار سے واپس لوٹنے والے لوگوں پر اندھا دھند گولیاں چلا دیں، جس کے نتیجے میں 58 افراد ہلاک اور کئی زخمی ہو گئے۔ مقامی ذرائع کے مطابق دہشت گردی کا واقعہ منگل کی شام کو پیش آیا۔ عینی شاہدین اور سیکورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے پہلے ایک مسافر بس کو نشانہ بناتے ہوئے 20 افراد کو قتل کردیا۔ اس کے بعد چند لوگوں نے قریبی دیہات پر حملہ کردیا، جن میں تقریباً 40 افراد مارے گئے۔ اس دوران حملہ آوروں نے اناج کے ذخیرے اور گاڑیوں کو نذر آتش کردیا جب کہ 2 گاڑیاں لے کر فرار ہو گئے۔ نائیجر حکومت نے حملوں اور ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے واقعے کی مذمت اور ملک میں 3 روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ حکام نے شہریوں سے چوکنا رہنے کی اپیل کرتے ہوئے جرائم کی صورت حال کے خلاف جنگ جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ دوسری جانب کسی بھی گروہ کی جانب سے قتل عام کی ذمے داری قبول نہیں کی گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نائیجر میں ہونے والے پے در پے حملے نئے صدر محمد بازوم کے لیے سیکورٹی چیلنج کی صورت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ واضح رہے کہ اس سے قبل 2 جنوری کو عسکریت پسندوں نے تلابری علاقے ہی میں 2 گاؤں پر حملے کرکے کم از کم 100 شہریوں کو ہلاک کردیا، جو ملکی تاریخ کے خطرناک ترین حملوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ مقامی حکام حالیہ حملوں کا الزام مشتبہ طور پر عسکریت پسند تنظیم بوکو حرام پر عائد کرتے ہیں۔
