English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

وٹامن ڈی اور مچھلی کے تیل کے سپلیمنٹ عارضہ دل کا خطرہ کم نہیں کرتے

اگر آپ مچھلی کے تیل کے کیپسول یا وٹامن ڈی سپلیمنٹس اس توقع کے ساتھ کھاتے ہیں کہ اس سے دل کی صحت بہتر بنانے میں مدد ملے گی تو پیسے خرچ کرنے سے پہلے ایک بار پھر سوچ لیں۔

دنیا بھر میں لاکھوں افراد اس توقع کے ساتھ مچھلی کے تیل یا وٹامن ڈی سپلیمنٹس کا استعمال کرتے ہیں کہ متعدد امراض سے تحفظ مل سکے گا۔

مگر ایک نئی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ان سے دل کی دھڑکن کے ایک عام مرض atrial fibrillation سے کسی قسم کا تحفظ نہیں ملتا۔

دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی والا یہ مرض مختلف پیچیدگیوں جیسے خون گاڑھا ہونے، فالج اور ہارٹ فیلیئر کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔

طبی جریدے جاما میں شائع ہونے والی تحقیق میں تجزیہ کیا گیا کہ وٹامن ڈی یا اومیگا تھری فیٹی ایسڈز دل کی دھڑکن کی بے ترتیبی کی روک تھام میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں یا نہیں۔

تحقیق میں کہا گیا کہ اومیگا تھری فیٹی ایسڈز یا وٹامن ڈی دل کی دھڑکن کی بے ترتیبی کی روک تھام میں مدد نہیں ملتی۔

محققین کا کہنا تھا کہ ہماری سفارشات یہ ہیں کہ مچھلی کے تیل یا وٹامن ڈی سپلیمنٹس سے دھڑکن کی بے ترتیبی کی روک تھام نہیں ہوتی۔

انہوں نے کہا کہ ان سپلیمنٹس کی معمولی مقدار روزانہ استعمال کرنے والوں میں اس بیماری کا مجموعی خطرہ نہیں بڑھتا اور ان مریضوں کے لیے محفوظ ہیں جن کو دیگر وجوہات کی بنا پر ان سپلیمنٹس کے استعمال کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔

یہ تحقیق 5 سال تک جاری رہی جس میں 25 ہزار سے زائد افراد کو شامل کیا گیا جن کی عمر 50 سال یا اس سے زیادہ تھی جبکہ ان میں دل کی دھڑکن کی بے ترتیبی کی کوئی تاریخ موجود نہیں تھی۔

انہیں وٹامن ڈی تھری سپلیمنٹس کی روزانہ 2000 آئی یو یا 840 ملی گرام اومیگا تھری فیٹی ایسڈز کا استعمال کراکے اس عارضے کے خطرے میں کمی کی جانچ پڑتال کی گئی۔

تحقیق کے دوران 3.6 فیصد مریضوں میں atrial fibrillation کی تشخیص ہوئی، مگر سپلیمنٹس کے استعمال سے دیگر افراد میں اس بیماری کے خطرے میں کوئی نمایاں فرق نہیں دیکھا گیا۔

مچھلی کے تیل کے کیپسول، نہ کینسر سے بچاتے ہیں نہ صحتمند بناتے ہیں

یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی— شٹر اسٹاک فوٹو

اگر آپ مچھلی کے تیل کے کیپسول اس توقع کے ساتھ کھاتے ہیں کہ اس سے روزمرہ کی صحت بہتر بنانے میں مدد ملے گی تو پیسے خرچ کرنے سے پہلے ایک بار پھر سوچ لیں۔

درحقیقت ایک نئی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ مچھلی کے تیل کے یہ سپلیمنٹس ممکنہ طور پر صحت پر کوئی نمایاں مثبت اثرات مرتب نہیں کرتے، حالانکہ پہلے یہ دعوے سامنے آچکے ہیں کہ ان سے کینسر، امراض قلب اور ڈیمنشیا کا خطرہ کم ہوسکتا ہے۔

یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

انگیلا یونیورسٹی کی اس تحقیق میں بتایا گیا کہ ایسا تصور کیا جاتا ہے کہ یہ سپلیمنٹس فالج، کینسر اور دیگر امراض کا خطرہ کم کرتے ہیں مگر ان کو روزانہ کھانے سے کسی فرد کی صحت پر کوئی خاص اثرات مرتب نہیں ہوتے۔

درحقیقت اومیگا تھری فیٹی ایسڈ والے ان سپلیمنٹس کی جگہ مچھلی کو کھانا صحت کے لیے زیادہ فائدہ مند ہے کیونکہ اس سے دل اور مجموعی صحت میں بہتری آتی ہے۔

اس تحقیق کے دوران ایک لاکھ سے زائد افراد کا جائزہ ایک سال تک لیا گیا جو اومیگا تھری فیٹس ایسڈز کا استعمال سپلیمنٹس یا مچھلی کے گوشت کی شکل میں کرتے تھے۔

محققین نے دریافت کیا کہ اگر ایک ہزار افراد مچھلی کے تیل کے کیپسولز کا استعمال 4 سال تک کرتے ہیں تو اس کے صحت پر اثرات (مثبت یا منفی) نہ ہونے کے برابر تھے۔

انہوں نے کہا کہ تحقیق بہت اہم ہے کیونکہ ایسے شواہد مسلسل سامنے آرہے ہیں کہ اومیگا تھری سپلیمنٹس اتنے کارآمد نہیں جتنے اشتہارات میں دکھائے جاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری پرانی تحقیق سے ثابت ہوا تھا کہ کہ اومیگا تھری فیٹی ایسڈ والے سپلیمنٹس بشمول مچھلی کے تیل کے کیپسولز ذہنی بے چینی، ڈپریشن، فالج، ذیابیطس یا دیگر امراض سے تحفظ فراہم نہیں کرتے، درحقیقت ہم نے دریافت کیا کہ ان سے شاید کینسر کا خطرہ معمولی بڑھ سکتا ہے خصوصاً مثانے کے کینسر کا۔

اس تحقیق کے لیے فنڈنگ عالمی ادارہ صحت نے کی تھی جس کا مقصد ان سپلیمنٹس کے فوائد کی جانچ پڑتال کرنا تھی۔

اس سے قبل 2019 میں 80 سے زائد تحقیقی رپورٹس میں دریافت کیا گی تھا کہ ایسے کوئی شواہد موجود نہیں جو اومیگا تھری فیٹی ایسڈز کو ذیابیطس ٹائپ ٹو کے لیے مفید قرار دلاسکیں۔

اسی طرح کی دیگر تحقیقی رپورٹس سے عندیہ ملا تھا کہ یہ سپلیمنٹس سے امراض قلب کے خلاف کوئی زیادہ تحفظ نہیں ملتا۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ بظاہر ایسا نظر آتا ہے کہ ان سپلیمنٹس کا استعمال کرنا مددگار نہیں کیونکہ ان سے بہت کم یا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔

مچھلی کے تیل کے کیپسول ذہنی صحت کے لیے فائدہ مند نہیں، تحقیق

یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی— شٹر اسٹاک فوٹو

مچھلی کے تیل کے کیپسول کا استعمال ذہنی صحت کو کسی قسم کا فائدہ نہیں پہنچاتا کیونکہ اومیگا تھری فیٹی ایسڈز سے ذہنی بے چینی اور ڈپریشن پر نہ ہونے کے برابر یا کوئی اثرات مرتب نہیں ہوتے۔

یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

دنیا بھر میں مچھلی کے تیل کے کیپسول کی شکل میں اومیگا تھری فیٹی ایسڈز کا استعمال اس خیال سے کیا جاتا ہے کہ یہ ذہنی بے چینی اور ڈپریشن سے تحفظ یا ان کو ریورس بھی کرسکتا ہے۔

ایسٹ انگلیا یونیورسٹی کی تحقیق برٹش جرنل آف سائیکاٹری میں شائع ہوئی جس میں دریافت کیا گیا کہ اومیگا تھری سپلیمنٹس کا استعمال کوئی فائدہ نہیں پہنچاتا۔

اومیگا تھری چکنائی یا چربی کی ایسی قسم ہے جس کی کچھ مقدار اچھی صحت کے لیے ضروری ہوتی ہے اور یہ گریوں، مچھلی اور بیجوں جیسی غذا میں پایا جاتا ہے۔

مگر اب اومیگا تھری فیٹی ایسڈز سپلیمنٹس کی شکل میں بھی دستیاب ہے اور بڑے پیمانے پر خریدے اور کھائے جاتے ہیں۔

اس تحقیق میں سائنسدانوں نے ڈپریشن یا ذہنی بے چینی کے شکار یا اس سے محفوظ بالغ افراد پر ہونے والے 31 ٹرائلز کا تجزیہ کیا۔

41 ہزار سے زائد افراد کو کم از کم 6 ماہ تک مچھلی کے تیل کے کیپسولز کا استعمال کرایا گیا اور نتائج سے معلوم ہوا کہ ان سپلیمنٹس سے ڈپریشن یا ذہنی بے چینی کی علامات سے تحفظ پر کسی قسم کے اثرات مرتب نہیں ہوتے۔

تحقیقی ٹیم کے قائد ڈاکٹر لی ہوپر نے بتایا کہ ہماری سابقہ تحقیق سے ثابت ہوا تھا کہ مچھلی کے تیل سمیت اومیگا تھری فیٹی ایسڈز کے سپلیمنٹس کا استعمال امراض قلب، فالج، ذیابیطس وغیرہ سے کوئی تحفظ نہیں ملتا۔

انہوں نے کہا کہ اب اس تجزیے میں ہزاروں افراد کا جائزہ لینے کے بعد بھی ہم نے کسی قسم کا تحفظ فراہم کرنے والا اثر دیکھنے میں نہیں آیا اور قابل اعتماد تحقیقی رپورٹس سے ثابت ہوتا ہے کہ اومیگا تھری فیٹی ایسڈز سے ڈپریشن یا ذہنی بے چینی پر قابو پانے میں مدد نہیں ملتی۔

تحقیقی ٹیم میں شامل ڈاکٹر کیتھرین ڈیان کا کہنا تھا کہ آئلی مچھلی کا استعمال متوازن غذا کا بہترین حصہ ہوتا ہے مگر ہم نے دریافت کیا کہ اومیگا تھری آئل سپلیمنٹس ذہنی صحت کو کوئی فائدہ نہیں پہنچاتے۔

گزشتہ سال اسی یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ مچھلی میں موجود فیٹی ایسڈز جو کہ دل کے لیے فائدہ مند ہوتے ہیں، مچھلی کے تیل کے کیپسول کے سپلیمنٹ کی صورت میں کوئی فائدہ نہیں پہنچاتے۔

محققین نے اس حوالے سے شواہد کا جائزہ لیا تاکہ جانا جاسکے کہ یہ امراض قلب، ہارٹ اٹیک یا فالج سے بچاﺅ میں کس حد تک مدگار ہے۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ مچھلی کے تیل کے کیپسول ہارٹ اٹیک، فالج یا دیگر امراض قلب کے خطرے میں کوئی خاص کمی نہیں لاتے۔

درحقیقت انہوں نے دریافت کیا کہ اس سپلیمنٹ کا استعمال صحت کے لیے فائدہ مند کولیسٹرول کی سطح میں کمی لانے کا باعث بن سکتا ہے جس سے شریانوں کو نقصان پہنچنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ اومیگا تھری فیٹی ایسڈ کے سپلیمنٹ دل کی صحت کے لیے فائدہ مند نہیں یا ان کے استعمال سے فالج کا خطرہ کم نہیں ہوتا۔

منبع: ڈان نیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے