کراچی (اسٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے ضلع کورنگی کا دورہ کیا اور معززین علاقہ ، علما کرام ، تاجروں سمیت عوام سے ملاقات کی اور انہیں 28مارچ کو قائد آباد تا گورنر ہائوس ’’حق دو کراچی ریلی ‘‘ میں شرکت کی دعوت دی۔ اس موقع پر ضلع کورنگی کے امیر عبد الجمیل خان ، نائب امیر سید اقبال سعید ، سیکرٹری عبد الحفیظ ، عاشق علی خان ، قاری منصور ، سید آصف علی ، منصور فیروز اور دیگر بھی موجود تھے ۔ عوام نے امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن کا گرم جوشی سے استقبال کیا اور پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں جبکہ دکانداروں اور علاقہ معززین نے ہار پہنائے ۔ حافظ نعیم الرحمن نے برمی کالونی ، کے ایریا گلشن مارکیٹ ، اللہ والا ٹائون کورنگی ڈھائی نمبر، کلو چوک کورنگی 4 نمبر ، بابر مارکیٹ ، بلال کالونی میں عوام سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی کراچی کے مسائل کے حل اور غصب کردہ حقوق کے حصول کے لیے میدان میں نکلی ہے اور اس سلسلے میں جماعت اسلامی کے تحت علاقوں کی سطح پر پبلک ایڈ کمیٹیاں قائم کر دی گئی ہیں۔عوام ان کمیٹیوں میں شامل ہوں اور مسائل حل کرانے کے لیے جماعت اسلامی کا دست و بازو بنیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکمران کراچی سے ٹیکس تووصول کرتے ہیں لیکن کراچی کی تعمیر و ترقی کے لیے کچھ نہیں کرتے۔ کراچی پیکج کے نام پر عوام کو لولی پوپ نہ دیا جائے۔ کراچی ٹرانسفارمیشن پلان میں شہر کے لیے پیکجز کے نام پر دھوکے کے سوا کچھ نہیں تھا۔کراچی کے تمام اداروں پر پیپلز پار ٹی نے قبضہ کیا ہوا ہے۔اس کی زندہ مثال یہ ہے کہ شہر میں پانی کی فراہمی کا منصوبہ کے فور 10 سال قبل پورا ہونا تھا لیکن بدقسمتی سے ابھی تک نامکمل ہے جبکہ دوسری جانب پی ٹی آئی نے کراچی سے 14 ایم این ایز اور 30 ایم پی ایز کی نشستیں حاصل کی ہیں لیکن ڈھائی سال کا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی انہوں نے کراچی کے لیے کچھ نہیں کیا۔ ایم کیو ایم نے بھی شہر کی بہتری کے لیے کوششیں کرنے کے بجائے کوٹا سسٹم اور مردم شماری کے معاملے میں کراچی دشمن رویے کا مظاہرہ کرنے کے بعد سینیٹ کے انتخابات میں کراچی کے عوام کے ارمانوں کو کروڑوں روپے میں فروخت کردیا۔ کراچی کے شہری آج بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ ہر گلی ،محلے میں گٹر اُبل رہے ہیں۔ کراچی کچرا کنڈی بن گیا ہے۔لوگ پانی کی ایک ایک بوند کو ترس رہے ہیں جبکہ ٹینکر مافیا کراچی کا پانی کراچی کے عوام کو ہی فروخت کر رہا ہے۔ آج لاہور، راولپنڈی،اسلام آباد میں گرین،یلو بس سروس چل رہی ہے جو کہ خوش آئند بات ہے لیکن دوسری جانب کراچی کے عوام بھیڑ بکریوں کی طرح تباہ حال بسوں میں سفر کرنے پر مجبور ہیں اور حد یہ ہے کہ کراچی جیسے میگا سٹی میں ٹرانسپورٹ کا سرے سے کوئی نظام نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم حکمرانوں سے کوئی بھیک نہیں اپنا حق مانگ رہے ہیں۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی گلی ، محلے اور عوام کے درمیان موجود ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ جماعت اسلامی کو جب بھی موقع ملا ہے ہم نے اس شہر اور اس کے لوگوں کی عملی خدمت کی ہے اور اسی وجہ سے آج بھی کراچی کے عوام کے ساتھ ساتھ مخالفین بھی عبدالستار افغانی اور نعمت اللہ خان کا نام ادب اور احترام کے ساتھ لیتے ہیں اس شہر میں جماعت اسلامی کا 2 بار میئر اور ایک مرتبہ سٹی ناظم رہا۔اس کے علاوہ قومی وصوبائی اسمبلی کے ارکا ن منتخب ہوئے لیکن کوئی ان کی دیانت اور امانت پر انگلی نہیں اٹھا سکتا۔کراچی کے عوام کواب اپنے دوست اور دشمن کی پہچان ہوچکی ہے۔کراچی کے مسائل صرف جماعت اسلامی ہی حل کرسکتی ہے۔عوام جماعت اسلامی کا ساتھ دیں اور کراچی کو ایک بار پھر روشنیوں اُخوت اورمحبت کا شہر بنا دیں۔حافظ نعیم الرحمن نے دورے کے دوران بزرگ رکن مولانا صالح احمد کی عیادت کی اور جلد صحت یابی کی دعا بھی کی۔امیر جماعت اسلامی ضلع کورنگی عبد الجمیل خان نے اپنی گفتگو میں کہا کہ کراچی کے عوام جماعت اسلامی کے ہاتھ مضبوط کریں۔حق دو کراچی مہم کراچی کے مظلوم عوام کی آواز ہے۔

