لاہور(نمائندہ خصوصی) قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے کہاہے کہ پروٹیز کیخلاف ہوم سیریز میں فتوحات کا تسلسل دورہ جنوبی افریقا اور زمبابوے میں بھی برقرار رکھنے کی کوشش کرینگے، سلیکشن کے حوالے سے بحث ہوتی ہے اور یہ ہونی بھی چاہیے مگر کمرے کی باتیں باہر نہیں آنی چاہئیں، کس کو کیوں ڈراپ کیا گیا میرا اس پر تبصرہ کرنا ضروری نہیں،شرجیل خان کی فٹنس پر کام ہو رہا ہے وہ فوری طور پر شاداب خان تو نہیں بن سکتے، شرجیل خان ایک میچ ونر ہیں، اپنے فیصلے آگے بڑھ کر خود کرتا ہوں،جنوبی افریقا میں بھی تیاری کا اچھا موقع ملے گا، بیٹسمین جنوبی افریقی کنڈیشنز میں پرفارم کرنے کیلیے تیار ہیں۔جمعہ کوورچوئل پریس کانفرنس کرتے ہوئے قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم کا کہنا ہے کہ پروٹیز کے خلاف ہوم سیریز میں فتوحات کا تسلسل دورہ جنوبی افریقااور زمبابوے میں بھی برقرار رکھنے کی کوشش کرینگے، ورلڈ کپ سے قبل اہم میچز ہیں، جیت سے اعتماد میں اضافہ ہوگا نئے کرکٹرز کیلیے بھی اچھا موقع ہے کہ پرفارمنس دکھا کر ٹیم میں اپنی جگہ پکی کریں۔سلیکشن میں اختلافات کے سوال پر انہوں نے کہا کہ میرے سلیکشن کے معاملے پر ان دنوں باتیں ہو رہی ہیں کہ میرے سلیکشن کے حوالے سے اختلافات ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ سلیکشن کے حوالے سے بحث ہوتی ہے اور یہ بحث ہونی بھی چاہیے، سلیکشن کے پروٹوکولز کو سمجھتا ہوں لیکن صحت مندانہ بحث ہونی چاہیے مگر کمرے کی باتیں باہر نہیں آنی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ چیف سلیکٹر تمام کھلاڑیوں کے بارے میں بتا چکے ہیں کہ کس کو کیوں ڈراپ کیا گیا اور کس کو کیوں شامل کیا گیا، میرا اس پر تبصرہ کرنا ضروری نہیں، میں نے میدان میں 11کھلاڑی کھلانے ہیں اور ان پر فوکس ہے، بہر حال میٹنگ کی باتیں باہر نہیں آنا چاہیں، یہ میری نہیں بلکہ ہماری ٹیم ہے، سب بہتر کارکردگی دیکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا یہ دورہ بڑی اہمیت کا حامل ہے، ون ڈے ورلڈ کپ کے لیے ہمیں سیریز میں جیتنا ہے، تمام کھلاڑی تیار ہیں اور انہیں اعتماد بھی ہے، ہم جنوبی افریقا میں جیت کے تسلسل کو برقرار رکھنے کی کوشش کریں گے۔ ایک سوال پر بابراعظم نے کہا کہ اتھارٹی منوانے کی بات نہیں، کپتانی کرتے 18ماہ ہوگئے، ٹیم کی بہتری کیلیے ہر ممکن قدم اٹھاتا ہوں، میں ہمیشہ پہلے بھی کہتا رہا ہوں اور اب بھی کہہ رہا ہوں کہ میں اپنے فیصلے آگے بڑھ کر خود کرتا ہوں، ٹیم کے لیے فیصلے کرتا ہوں کسی کے لیے انفرادی فیصلے نہیں کرتا اس لیییہ تاثر دینا درست نہیں کہ میں خود فیصلے نہیں کرتا۔

