لاہور ہائیکورٹ نے قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم کے خلاف مقامی عدالت کے حکم کو معطل کردیا ہے، جس میں عدالت نے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کو کرکٹر اور دیگر کے خلاف ہراسانی کے معاملے میں مقدمہ درج کرنے کا کہا تھا۔
عدالت نے ایف آئی اے اور حامزہ مختار کو نوٹسز بھی جاری کردیئے۔
واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے لاہور کی سیشن کورٹ نے ایک خاتون کی جانب سے قومی کرکٹ کے کپتان بابر اعظم پر ہراساں اور بلیک میل کرنے کے الزامات پر مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا تھا۔
انہوں نے الزام لگایا تھا کہ انہیں واٹس ایپ پر مختلف موبائل نمبروں سے مسلسل ‘دھمکی آمیز پیغامات’ موصول ہورہے ہیں۔
مقامی عدالت کو بتایا گیا تھا کہ انہیں مسلسل بلیک میل کیا جارہا ہے کہ اگر وہ ان کے مطالبات کو قبول نہیں کریں گی تو مشتبہ افراد ان کی جعلی تصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کردیں گے۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج حامد حسین نے اپنے حکم میں کہا تھا کہ ‘چونکہ درخواست گزار کی شکایت کے سلسلے میں باقاعدہ انکوائری شروع کردی گئی ہے، جواب دہندہ (ایف آئی اے) کو ہدایت کی جاتی ہے کہ قانونی کارروائیوں کے بعد مجرموں کے خلاف مقررہ وقت میں ایف آئی آر کے اندراج کے سلسلے میں مزید کارروائی کی جائے’۔
دو روز قبل سیشن عدالت کے حکم کے خلاف بابر اعظم نے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس اسجد جاوید غورال نے بابر اعظم کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے سوال کیا کہ ‘اس کیس میں انکوائری کس نے کی؟’ جس پر بابر اعظم کے وکیل بیرسٹر حارث عظمت نے جواب دیا کہ ایف آئی اے نے تحقیقات کی ہیں۔
حارث عظمت نے مؤقف اپنایا کہ سیشن عدالت نے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یہ حکم جاری کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ‘مقدمہ درج کرنے کا حکم بابر اعظم کے مؤقف کو سنے بغیر دیا گیا تھا’۔
اپنی درخواست میں بابر اعظم نے یہ دعوٰی کیا کہ وہ ایک بین الاقوامی کرکٹر اور تینوں فارمیٹ میں قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان ہیں۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ سیشن عدالت کی جانب سے جاری کردہ حکم ‘بلاجواز، نان اسپیکنگ حکم’ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ حکم الیکٹرانک کرائمز اور انویسٹی گیشن رولز 2018 کی خلاف ورزی ہے جبکہ ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت بھی اسی کے رول 7 کی خلاف ورزی ہے۔
درخواست میں لاہور ہائی کورٹ پر زور دیا گیا کہ وہ سیشن عدالت کے جاری کردہ حکم کو معطل کرے۔
واضح رہے کہ حامزہ مختار نے اس سے قبل بابر اعظم پر دھوکہ دہی، جنسی تعلقات رکھنے اور شادی کے جھوٹے وعدے کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔
انہوں نے یہ بھی الزام لگایا تھا کہ وہ 2015 میں بابر اعظم کے بچے سے حاملہ ہوگئی تھی لیکن انہیں اسقاط حمل سے گزرنا پڑا تھا۔
منبع: ڈان نیوز
