English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

کرونا ویکسین کے خلاف منفی پروپیگنڈے کا توڑ کیوں ضروری ہے؟ شفقنا صحت

القمر

کرونا ویکسین کی پہلی خوراک لینے کے صرف دو دن بعد جب وزیر اعظم عمران خان میں کرونا وبا کی تشخیص ہوئی تو ویکسین مخالف دھڑوں نے اس خبر کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔ کرونا وبا کے بارے میں من گھڑت دعوے بلکل انہی جھوٹوں کی طرح ہیں جو پاکستانیوں کو پولیو اور دیگر ویکسینوں  کے بارے میں بتائے جاتے ہیں۔ ان میں سے بعض یہ ہیں ۔ اول کہ ویکسین کو انسانی ٹیسٹنگ کے عمل سے نہیں گزارا گیا۔ ان کو بنانے والی فارما سیوٹیکل کمپنیاں منافع کی بھوکی ہیں اور ویکسین میں استعمال ہونے والے اجزا خطرناک اور غیر مفید ہیں۔ ان سب مبالغوں کی موجودگی میں اب عوامی صحت کا دارومدار اس بات پر ہے کہ میڈیا اور صحت کے محکمے ان غلط معلومات کا مقابلہ کیسے کرتے ہیں۔  اس وقت سب سے اہم یہ ہے کہ عمران خان کی کرونا تشخیص والے وہم کو لوگوں کے دلوں سے نکالا جائے۔

اس حوالے سے سب سے سادہ بات یہ ہے کہ ویکسین سے قبل ہی عمران خان صاحب کرونا کا شکار ہوچکے تھے۔ قومی رابط کمیٹی کے سربراہ اسد عمر نے واضح کیا ہے کہ ” کرونا کی علامت ظاہر ہونے سے قبل کچھ دن لیتی ہیں” اس لیے یہ بات سو فیصدیقینی ہے کہ عمران خان صاحب ویکسین لینے سے قبل ہی کرونا کا شکار ہوچکے تھے۔ اس لیے ویکسنیشن کے عمل کو جاری رکھیں۔ اگر اسد عمر کا بیان اس حوالے سے نامکمل ہے تب بھی یہ بات طے ہے کہ کرونا ویکسین اسی وقت مکمل طور پر کام کرتی ہے جب اس کی دونوں خوراکیں مکمل کر لی جائیں۔ جب کہ عمران خان نے ابھی تک کرونا کی صرف ایک خوراک لی تھی اور وہ پہلے سے ہی کرونا سے متاثر ہوچکے تھے۔

دوسرا، حکومت کو مذہبی اور سول سوسائٹی گروپوں کو اس مہم کا حصہ بنانا چاہیے اور انہیں ذرائع فراہم کرنے چاہیئیں کہ وہ لوگوں کے ساتھ مفید انداز میں بات چیت کر سکیں۔ سازشی نظریات عموما ایسے ماحول میں پروان چڑھتے ہیں جہاں عدم اعتماد کی فضا ہو اور خاص طور پر جہاں لوگ حکومت پر اعتماد نہ کرتے ہوں۔ اسی لیے یہ بات بہت اہم ہے کہ مذہبی سکالر اور علما ویکسین کے استعمال کے لیے فتوے جاری کریں۔ جمعہ کے خطبات میں ویکسین کی اہمیت بیان کی جانی چاہیے تاکہ لوگوں میں اسکی قبولیت کا رحجان پیدا ہو۔

آخری بات یہ کسی بھی بیانیے کی تشہیر کی قوت ہمارے اندر موجود ہے۔ اس لیے یہ اہم ہے کہ ہم اس بات سے بخوبی آگاہ ہوں کہ ہم کیا شئیر کر رہے ہیں۔ ہمیں کرونا ویکسین کے مضر اثرات کے حوالے سے گمراہ کن کہانیوں اور مبالغہ آمیز اقسام سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ اپنے دوستوں، اقربا اور گھر والوں کو بھی اس سے آگاہ کرنا چاہیے۔ یہ تمام تر ذمہ داری ہم پر عائد ہوتی ہے کہ ہم ویکسین مخالف پروپیگنڈے کا مقابلہ کریں کیونکہ اگر ویکسین پر عوام کا اعتبارختم ہوتا ہے ہم سب کے لیے اس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

پیر، 22 مارچ 2021

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے