English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ترکی ،چینی وزیرخارجہ کی آمد پر ایغور مہاجرین کا احتجاج

انقرہ: چینی وزیر خارجہ تُرک صدر اردوان اور ہم منصب اولو سے ملاقات کررہے ہیں‘ وانگ یی کے دورے پر ایغور تارکین وطن احتجاج کررہے ہیں

انقرہ (انٹرنیشنل ڈیسک ) چینی وزیر خارجہ وانگ یی کے تُرکی کے دورے کے موقع پر انقرہ میں ایغور مہاجرین نے مظاہرہ کیا۔ خبررساں اداروں کے مطابق دارالحکومت میں ہونے والے مظاہرے میں بڑی تعداد میں ایغور بچوں اور خواتین نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر مظاہرین نے چینی پرچم کو پیروں تلے روند کر سنکیانگ میں بیجنگ حکومت کے انسانیت سوز مظالم کے خلاف احتجاج کیا۔ انقرہ میں کسی بھی ناخوشگوار صورت حال سے نمٹنے کے لیے پولیس کی بھاری نفری کو تعینات کیا گیا۔ واضح رہے کہ جمعرات کے روز چینی وزیر خارجہ تُرکے کے دورے پر انقرہ پہنچے تھے،جہاں انہوں نے تُرک صدر رجب طیب اردوان اور ہم منصب مولود چاوش اولو سے ملاقات کی۔ 6ممالک کے دورے کی مہم کے سلسلے میں ان کی پہلی منزل تُرکی تھی۔ مولود چاوش اولو کے ساتھ ملاقات میں دونوں ممالک کے وفود بھی موجود تھے۔ بات چیت کے دوران تعلقات اور علاقائی و بین الاقوامی مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ تُرک وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ چین کے تعلقات کو جامع اشتراک کی سطح پر لانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم چینی صدر شی جن پنگ کو انقرہ کے دورے کی دعوت دیتے ہیں اور ان کی میزبانی کر کے ہمیں خوشی محسوس ہو گی۔ دوسری جانب امریکا نے ترکی پر روس سے ایس400 فضائی دفاعی نظام کا معاہدہ ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈالنا شروع کردیا۔ وزیر خارجہ انتھونی بلنکن نے اپنے بیان میں کہا کہ انقرہ کو ایس 400سمجھوتے سے نکل جانا چاہیے۔ انہوں نے تُرک ہم منصب چاوش اولو سے ملاقات میں بھی اس مطالبے کا اعادہ کیا۔ یاد رہے کہ ترکی نے 2019 ء میں زمین سے فضا میں مار کرنے والا روسی ساختہ ایس400 دفاعی نظام حاصل کیا تھا۔ امریکا کا موقف ہے کہ یہ نظام اس کے جدید لڑاکا طیارے ایف 35کے راز افشا کرسکتا ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے