کئی ماہ تک پابندی کے شکار صارفین کے لیے اپنے سوشل میڈیا نیٹ ورک کے وعدے کے بعد سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی ویب سائٹ میں ایک نیا سیکشن متعارف کرادیا۔
یہ ‘سوشل میڈیا پلیٹ فارم’ بنیادی طور پر ایک بلاگ ہے جس کا انداز ٹوئٹر کی طرح ہے تاہم اس میں طویل بلاگ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ہوسٹ کیے جائیں گے۔
لوگ اس پلیٹ فارم میں ای میل اور فون نمبر کی مدد سے پوسٹ الرٹس کے لیے سائن اپ ہوسکیں گے اور مبینہ طور پر ان کو لائیک بھی کرسکیں گے۔
اسی طرح صارفین ڈونلڈ ٹرمپ کی پوسٹس کو فیس بک اور ٹوئٹر پر بھی شیئر کرسکیں گے۔
اس پلیٹ فارم میں ٹوئٹر سے شیئرنگ کا آپشن تو فی الحال کام نہیں کررہا مگر فیس بک کی جانب سے ضرور یہ سہولت فراہم کی گئی ہے۔
ٹوئٹر کے ترجمان نے اس حوالے سے ٹیکنالوجی ویب سائٹ دی ورج سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ عموماً ویب سائٹ ریفرنس کے ساتھ مواد کی شیئرنگ کی اجازت اس وقت تک ہوتی ہے جب تک وہ ٹوئٹر قوانین کے خلاف نہ ہو۔
اس پلیٹ فارم کو باضابطہ طور پر 4 مئی کو لانچ کیا گیا تھا مگر اس میں موجود پوسٹس 24 مارچ کی بھی ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی پوسٹ ان کے نئے پلیٹ فارم کے لیے ویڈیو اشتہار ہے جس میں اسے ایسا مقام قرار دیا گیا ہے جہاں آزادی سے بات کی جاسکتی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ بتدریج اپنے حامیوں سے براہ راست رابطہ بھی کرسکیں گے تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ایسا کیسے ممکن ہوگا۔
یہ پلیٹ فارم اس وقت لانچ کیا گیا ہے جب فیس بک کے اوور سائٹ بورڈ کی جانب سے فیس بک اور اس کے زیر ملکیت دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر سابق امریکی صدر کے اکاؤنٹس کی پابندی کو برقرار ہے۔
ٹوئٹر اور فیس بک کی جانب سے سابق امریکی صدر کے اکاؤنٹس کو 8 جنوری کو اس وقت مستقل بین کیا گیا تھا جب واشنگٹن میں کیپیٹل ہل میں ان کے حامیوں نے ہنگامہ آرائی کی، جس کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار سمیت 5 افراد ہلاک ہوگئے۔
اسنیپ چیٹ نے بھی سابق صدر کا اکاؤنٹ لاک کردیا تھا جبکہ یوٹیوب اکاؤنٹ بھی معطل کردیا گیا تھا۔
اپنی صدارت کے 4 برسوں میں ڈونلڈ ٹرمپ ٹوئٹر پر بہت زیادہ متحرک رہے تھے۔
کافی عرصے تک ٹوئٹر کے کمیونٹی اصولوں کی خلاف ورزی پر مبنی پوسٹس پر کمپنی نے کوئی کارروائی نہیں کی تھی مگر انتخابات اور کورونا وائرس سے متعلق پوسٹس پر وارننگ لیبلز کا اضافہ کیا گیا۔
اب سابق امریکی صدر کے لیے یہ نیا پلیت فارم ایک ڈیجیٹل سروس کمپنی کمپین نیوکلیس نے تیار کیا ہے جو ڈونلڈ ٹرمپ کے سابق کمپین منیجر پراڈ پارسکل کی کمپنی ہے۔
فیس بک اوورسائٹ بورڈ کا ڈونلڈ ٹرمپ پر پابندی فی الحال برقرار رکھنے کا فیصلہ

فیس بک کے خودمختار بورڈ نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر عائد کی جانے والی پابندی کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
تاہم بورڈ کی جانب سے فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ اس معاملے پر فیس بک کی جانب سے نظرثانی آئندہ 6 ماہ کے دوران کی جائے۔
خودمختار اوورسائٹ بورڈ نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم میں ایسا ماحول پیدا کردیا تھا جس سے ممکنہ تشدد کا سنگین خطرہ پیدا ہوگیا۔
خیال رہے کہ فیس بک کی جانب سے سابق امریکی صدر کے فیس بک اور انسٹاگرام اکاؤنٹس کو 8 جنوری کو اس وقت مستقل بین کیا گیا تھا جب واشنگٹن میں کیپیٹل ہل میں ان کے حامیوں نے ہنگامہ آرائی کی، جس کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار سمیت 5 افراد ہلاک ہوگئے۔
اوورسائٹ بورڈ نے نظرثانی فیصلے میں کہا ‘پلیٹ فارم کے اصولوں کی خلاف ورزی کی سنجیدگی اور تشدد کے خطرے کو دیکھتے ہوئے فیس بک کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ کے اکاؤنٹس کو معطل کرنا درست ہے’۔
تاہم بورڈ کا کہنا تھا کہ فیس بک کی جانب سے لامحدود مدت کے لیے اکاؤنٹس کو معطل کرنا درست نہیں اور کمپنی کو 6 ماہ کے اندر معاملے کی نظرثانی کرتے ہوئے مناسب فیصلہ کرنا چاہیے۔
فیصلے میں مزید کہا ‘فیس بک کے لیے یہ درست نہیں کہ وہ کسی صارف کو پلیٹ فارم سے غیرمعینہ مدت تک دور رکھے، جس دوران مدت یا اکاؤنٹ کی بحالی کا کوئی معیار موجود نہ ہو’۔
خیال رہے کہ فیس بک کے بانی مارک زکربرگ نے 7 جنوری کو ایک پوسٹ کے دوران اپنے پلیٹ فارم میں ڈونلڈ ٹرمپ کے اکاؤنٹس کو غیرمعینہ مدت کے لیے بلاک کرنے کا اعلان کیا تھا۔
ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ فیس بک کی جانب سے کسی امریکی صدر کے اکاؤنٹ کے خلاف اس قسم کی کارروائی کی گئی۔
اس موقع پر انہوں نے کہا ‘کمپنی کا ماننا ہے کہ صدر کو اس کے عہدے کی مدت مکمل ہونے تک ہماری سروسز کے استعمال جاری رکھنے کی اجازت دینا بہت زیادہ خطرناک ہوسکتا ہے’۔
فیس بک نے امریکی صدر کے فیس بک اور انسٹاگرام اکاؤنٹس کو پہلے 24 گھنٹے کے لیے بلاک کیا تھا، مگر پھر اس پابندی کو غیرمعینہ مدت تک بڑھا دیا گیا۔
مارک زکربرگ نے لکھا کہ ہم امریکی صدر کی پوسٹس ڈیلیٹ کررہے ہیں کیونکہ ہم نے ان کے اثرات کا تعین کیا اور ممکنہ طور پر وہ دانستہ طور پر مزید تشدد بھڑکانے کے لیے کی گئی تھیں۔
منبع: ڈان نیوز
