پاکستان میں کورونا وائرس کی تیسری لہر کے دوران انفیکشن روکنے کے لیے پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 8 تا 16 مئی مکمل لاک ڈاؤن جبکہ سندھ میں پابندیاں بڑھا دی گئی ہیں۔
کورونا وائرس کے اعداد و شمار مرتب کرنے والی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں ملک میں مزید 4 ہزار 198 افراد وائرس سے متاثر ہوئے جبکہ مزید 108 افراد انتقال کر گئے۔
ملک میں 5 مئی کو مجموعی طور پر کووڈ-19 کے 46 ہزار 467 ٹیسٹ کیے گئے جس کے نتیجے میں کورونا کیسز کے مثبت آنے کی شرح 9.03 فیصد رہی اور فعال کیسز کی تعداد کم ہو کر 84 ہزار 172 ہوگئی ہے۔
پاکستان میں اب تک 8 لاکھ 45 ہزار 833 افراد کے وائرس سے متاثر ہونے کی تصدیق ہوچکی ہے جن میں سے 18 ہزار 537 مریض انتقال کرچکے ہیں۔
علاوہ ازیں گزشتہ 24 گھنٹوں میں وائرس کا شکار مزید 4 ہزار 397 مریض صحتیاب ہوئے جس کے بعد کورونا سے صحتیاب ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد 7 لاکھ 43 ہزار 124 تک جاپہنچی ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کے پہلے کیس کی تصدیق 26 فروری 2020 کو ہوئی تھی، جس کے بعد سے وبا کے پھیلاؤ میں اتار چڑھاؤ جاری ہے اور اب تک وائرس کی 3 لہریں دیکھی جاچکی ہیں۔
موجودہ لہر کے دوران کورونا وائرس کے کیسز اور اموات میں اضافے کے پیشِ نظر پابندیوں میں سختی کردی گئی تھی جبکہ عیدالفطر کی تعطیلات کے دوران پبلک پارکس، ریسٹورنٹس اور ہوٹلز بھی بند رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے اور ایس او پیز پر عملدرآمد کے لیے فوج کو تعینات کیا گیا ہے۔
ملک میں 6 مئی 2021 کو کورونا وائرس کیسز اور اموات کی صورتحال کچھ یوں ہے:
پنجاب
صوبہ پنجاب ان دنوں کورونا وائرس کی تیسری لہر سے سب سے زیادہ متاثر ہے جہاں گزشتہ 24 گھنٹوں میں وبا کے مزید ایک ہزار 906 کیسز کی تصدیق ہوئی جبکہ 68 اموات رپورٹ ہوئیں۔
پنجاب میں مجموعی طو پر کورونا وائرس سے 3 لاکھ 12 ہزار 552 افراد متاثر جبکہ 8 ہزار 809 انتقال کرچکے ہیں۔
سندھ
صوبہ سندھ میں بھی وبا کا پھیلاؤ بڑھ رہا ہے اور سندھ میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا وائرس کے ایک ہزار 38 کیسز کی تصدیق ہوئی جبکہ مزید 4 افراد جان کی بازی ہار گئے۔
مذکورہ اضافے کے بعد سندھ میں کورونا سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 2 لاکھ 88 ہزار 680 جبکہ اموات کی مجموعی تعداد 4 ہزار 691 تک جاپہنچی ہے۔
خیبرپختونخوا
کورونا وائرس کی تیسری لہر نے پنجاب کے بعد خیبرپختونخوا کو زیادہ متاثر کیا تھا تاہم اب صورتحال میں بہتری ہے یہاں گزشتہ 24 گھنٹوں میں کووڈ-19 کے مزید 629 کیسز اور 31 اموات رپورٹ ہوئیں۔
اب تک خیبر پختونخوا میں مجموعی طور پر ایک لاکھ 21 ہزار 728 افراد وبا سے متاثر جبکہ 3 ہزار 497 مریض لقمہ اجل بن چکے ہیں۔
بلوچستان
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک کے سب سے وسیع صوبے میں مزید 124 افراد وائرس سے متاثر پائے گئے اور ایک مریض دم توڑ گیا۔
اس نئے اضافے کے بعد بلوچستان میں عالمی وبا سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 22 ہزار 900 ہوگئی جبکہ اموات کی تعداد 240 ہے۔
اسلام آباد
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا وائرس کے مزید 369 کیسز سامنے آئے جبکہ ایک مریض انتقال کر گیا۔
اسلام آباد میں کورونا متاثرین کی مجموعی تعداد 76 ہزار 696 ہے جبکہ 698 افراد وبا سے انتقال کرچکے ہیں۔
آزاد کشمیر
آزاد کشمیر میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے مزید 118 کیسز کی تصدیق ہوئی جبکہ 3 مریض انتقال کرگئے۔
مذکورہ اضافے کے بعد آزاد کشمیر میں کورونا وائرس مجموعی طور پر 17 ہزار 583 افراد کو متاثر کرچکا ہے جبکہ 494 افراد کی موت کا سبب بھی بنا ہے۔
گلگت بلتستان
کورونا وائرس سے سب سے کم گلگت بلتستان متاثر ہوا ہے اور وہاں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 14 کیسز سامنے آئے اور کوئی اموات رپورٹ نہیں ہوئی۔
گلگت بلتستان میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 5 ہزار 355 جبکہ اموات کی مجموعی تعداد 107 ہوگئی ہے۔
نجی لیبارٹری کا پنجاب میں وائرس کی جنوبی افریقی قسم کی تشخیص کا دعویٰ

لاہور: ایک نجی لیبارٹری نے پنجاب میں کورونا وائرس کی جنوبی افریقی قسم کی تشخیص کا دعویٰ کیا، ساتھ ہی پنجاب میں وبا کے تیسرے لہر کے دوران برطانوی قسم کے غلبے کی بھی تصدیق کی۔
ایک بیان میں کہا گیا کہ لیبارٹری کی شعبہ وائرولوجی اینڈ مالیکیولر جینیٹکس نے مارچ کے اختتام پر وائرس کی اقسام پر تحقیق کرنے کے لیے کووِڈ 19 کے 62 نمونے اکٹھے کیے تھے۔
تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ 62 میں سے 60 نمونے بی۔1۔17 لائنیج (برطانوی قسم)، اور بقیہ دو نمونے بی۔1۔351 لائنیج (جنوبی افریقی) قسم کے تھے۔
بیان میں یہ بھی بتایا گیا کہ ووہان میں پائے گئے وائرس کی قسم کی غیر موجودگی ظاہر کرتی ہے کہ اس نے اپنے آپ کو مکمل تبدیل کرلیا ہے۔
مذکورہ تحقیق چغتائی لیب کی مالیکیولر جینیٹکس کے سربراہ ڈاکٹر سعادت علی اور شعبہ وائرولوجی کی سربراہ پروفیسر ڈاکٹر وحید الزمان کے علاوہ کئی ماہرین پر مشتمل ایک ٹیم نے کی۔
لیبارٹری کے چیف ایگزیکٹو افسر سہیل چغتائی اور ڈائریکٹر ڈاکٹر عمر چغتائی نے پاکستان میں وبا کی تیسری لہر کے دوران کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز اور برطانوی قسم کے غلبے پر تشویش کا اظہار کیا۔
ماہرین کا کہنا تھا کہ ‘وائرس کی یہ قسم بچوں کو متاثر کرنے کے حوالے سے مشہور ہے اور وائرس کی تفصیلی تحقیق ہمیں اس میں تبدیلی کے اثرات سمجھنے میں مدد دے گی’۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اس تحقیق کے نتائج وائرس کے رجحان سے منسلک ہے جہاں اس نے نوجوان آبادی کے کم عمر والے گروہوں میں انفیکشن کی اعلیٰ سطح کا اظہار کیا۔
بیان میں کہا گیا کہ امریکی سینٹر برائے بیماریوں کی روک تھام نے وائرس کی برطانوی اور جنوبی افریقی اقسام کو اس فہرست میں شامل کررکھا ہے جن پر عالمی سطح پر باریک بینی سے نظر رکھی جارہی ہے کیوں کہ اس میں تیزی سے پھیلنے کی صلاحیت موجود ہے۔
اب تک کی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ اس وقت لگائی جانے والی ویکیسنز سے پیدا ہونے والی قوت مدافعت اس اقسام کے خلاف مؤثر ہے۔
لیبارٹری کے مطابق وائرس می تیزی سے تبدیل ہونے کی صلاحیت کے پیشِ نظر تحقیق میں عوامی اجتماعوات پر مؤثر لاک ڈاؤن اور ذاتی حفظان صحت کے اقدامات میں اضافے کی حمایت کی گئی تا کہ پاکستان میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکا جاسکے۔
دوسری جانب پنجاب میں نئے کیسز اور اموات کی تعداد میں واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبے میں رپورٹ ہونے والے نئے کیسز کی تعدد ایک ہزار 906 تھی جبکہ مزید 68 مریض انتقال کر گئے۔
منبع: ڈان نیوز
