English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

بھارت نے مقبوضہ کشمیر کو کس طرح کرونا کی دوسری لہر میں دھکیلا؟ شفقنا خصوصی

القمر

یہ بات واضح تھی۔ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں کرونا کی دوسری لہر کی آمد سے پہلے ہی آثار نظر آرہے تھے اور اس حوالے سے خبردار کیا جاتا رہا تھا۔ بھارتی مقبوضہ وادی میں کرونا کیسز پر ایک سرسری نظر یہ بات بتانے کے لیے کافی ہے کہ وہاں کرونا کی صورتحال خطرناک ہوگئی ہے۔ مارچ کے وسط سے مقبوضہ وادی میں کرونا کا پھیلاؤ شروع ہوچکا ہے ۔ 15 مارچ کو ان کیسز کی تعداد 94 تھی جو 20 مارچ تک بڑھ کر 140 ہوچکی تھی اور 28 مارچ تک یہی تعداد 309 کے ہندسے کو چھو رہی تھی اور پھر جیسے جیسے کرونا کے عفریت نے سر اٹھانا شروع کیا ان کیسز کی تعداد ہزاروں تک سینکڑوں سے نکلتی دکھائی دی تاہم بھارتی حکام نے وادی کو نظر انداز کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔

24 مارچ کو جب بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی نے لوگوں کو سرینگر کے ٹیولپ گارڈن میں دعوت دی اس وقت جموں کشمیر میں نئے رجسٹرڈ کیسز کی تعداد 195 تھی جو کہ دس دن قبل کی تعداد کا دوگنا تھا  اور اپریل 4 کو یعنی صرف دس دن بعد جب سری نگر کے مئیر جنید اعظم متو نے لوگوں کو ٹیولپ گارڈن کی دعوت دی تو اس کے ساتھ ہی نئے کرونا کیسز کی تعداد 573 تک ریکارڈ کی گئی۔ یہ نمبر نہ صرف خطرناک ہیں بلکہ یہ ظاہر کرتے ہیں کہ مقبوضہ وادی کرونا کی دوسری لہر کی جکڑ میں ہے۔ اگرچہ ناقدین اور ماہرین نے اس پر حکومت کو جگانے کی کوشش کی مگر ان کی بات بے سود رہی اور حکومت نے وادی میں سیاحت کو فروغ دینے کے لیے چھ دن کا ٹیولپ فیسٹول منعقد کروادیا جس سے وادی میں کرونا کیسز کی تعداد 835 تک جا پہنچی۔

سیاحت کے نام پر

مقبوضہ کشمیر کے ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر اور انفلوئنزا کے ماہر ڈاکٹر نثار الحق حسن کے دل میں کرونا کی دوسری لہر کی آمد کے بارے میں کوئی شکوک و شبہات نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب ہم دیکھ رہے ہیں کہ کرونا کی دوسری لہر ہمارے دروازے پر دستک دے رہی ہے تو ہمیں ان افراد کا وادی میں داخلہ بند کر دینا چاہیے جو کہ خطرناک ویرینٹ اپنے اندر لیے پھرتے ہیں۔ ہمیں سیاحوں کے لیے داخلہ سختی سے بند کر دینا چاہیے تھا۔  نثار کا کہنا تھا جیسے ہی وادی میں وائرس پھیلنے کی علامات سامنے آئیں، انتظامیہ کو اس کے لیے بھرپور تیاری کر لینی چاہیے تھی ، انتظامیہ کو پابندیاں عائد کر دینی چاہیے تھیں اور ویکسینیشن کے عمل کو تیز کر دینا چاہیے تھا۔ ایمانداری کی بات یہ ہے کہ جب انہوں نے سکول بند کیے اس وقت باہر کیسز کی تعداد بڑھ رہی تھی ویسے ویسے وادی میں سیاحوں کی آمد میں اضافہ ہورہا تھا۔ ان سیاحوں میں کئی کے اندر کرونا ویرینٹ موجود تھا اور یہ ویرینٹ آہستہ آہستہ وادی میں بھی داخل ہوگیا کیونکہ یہ سیاح گروہوں کی شکل وادی میں داخل ہورہے تھے۔

نام نہ بتانے کی شرط پر سری نگر کے سری مہاراجہ ہری سنگھ ہسپتال کے ایک ملازم نے جو کہ گزشتہ سال سے کرونا کے مریضوں کا علاج کر رہے ہیں بتایا کہ وادی میں سیاحوں کی آمد کا کرونا کیسز میں اضافے سے براہ راست تعلق ہے ۔ جب ایک سیاح کشمیر میں آتا ہے تو وہ بہت سارے افراد سے ملتا ہے ، وہ شاپنگ کے لیے جاتا ہے اور مختلف جگہوں کا دورہ کرتا ہے ۔ جو درحقیقت ایک چین ہے جو کرونا کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

انتظامیہ نے بروقت ایکشن کیوں نہ کیا؟

جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے رہنما سید روح اللہ مہدی کا کہنا یے کہ انتظامیہ کو احتساب کا ڈر نہ ہونا ہی اس بد انتظامی کی بڑی وجہ ہے جب وادی کشمیر میں کرونا کسیز میں اضافہ ہونا شروع ہوا تو انتظامیہ نئی دہلی میں اپنے افسران کو خوش کر نے کے لیے لوگوں کو اکٹھا کرنے میں مصروف تھے۔ 5 اگست 2019 کے بعد سے جب سے مقبوضہ وادی وفاق کے زیر انتظام آئی ہے تب سے بھارتی حکومت نے مقبوضہ وادی میں اپنے من پسند افسران کا تعین کرنا شروع کر دیا ہے ۔ پس مقامی انتظامیہ اور منتخب حکومت سرے سے کہیں نظر نہیں آتی اور تمام تر اختیارات بیوروکریسی کے اختیار میں ہیں۔ بھارتی حکومت کے نقاد اور مقبوضہ کشمیر کی انتظامیہ یں موجود چند افراد کا کہنا ہے کہ نئی دہلی میں بیٹھی بیوروکریسی اور سیاسی جماعتیں یہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہی ہیں کہ مقبوضہ وادی میں سب کچھ معمول کے مطابق ہے۔ سید روح اللہ کا کہنا ہے کہ بھارت کی قومیت پسند حکومت مودی کی سربراہی میں دنیا کو یہ باور کرانا چاہتی ہے کہ مقبوضہ وادی میں سب شانتی اور امن ہے اور بھارت مقبوضہ وادی کے حقوق کا پوری طرح خیال کر رہا ہے۔

اگرچہ نئی دہلی میں بیٹھی انتظامیہ کا یہ مؤقف ہے کہ ہزاروں لوگوں کے روزگار کے لیے وادی میں سیاحت کو فروغ دینا بہت زیادہ ضروری ہے وہیں پر سید روح اللہ کاکہنا ہے کہ سیاحت سے زیادہ کشمیر کو اپنی  بقا کے لیے امن کی ضرورت ہے۔ سید روح اللہ کی پارٹی کے ایک رکن عمران نبی ڈار جو کہ پارٹی کے ترجمان بھی ہیں کا کہنا تھاکہ انتظامیہ کے لیے یہ پیچیدہ صورتحال تھی کہ وہ سیاحت میں اضافے اور پابندیوں میں سے کسی ایک چیز کا انتخاب کرتے تاہم انسانی زندگیوں کی اہمیت اولین ہونی چاہیے تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ جب مقبوضہ وادی اور مہاراشٹرا میں کرونا کی تعداد میں اضافہ ہورہا تھا تو ایسے وقت میں اس طرح کی تقریبات کا انعقاد ایک بے وقوفانہ فعل تھا عمران نبی اس کو انتظامیہ کی طرف سے بلنڈر قرار دیتے ہیں کہ یہ عام فہم عقل کی بات تھی اور اس میں کوئی راکٹ سائنس نہیں تھی کہ کرونا کیسز میں اضافہ ہورہا ہے اور پھر بھارتی ویرینٹ کے خدشے کے باوجود اتنے سارے سیاحوں کو وادی میں داخل ہونے کی اجازت دے دی گئی۔ نثار کا کہنا ہے کہ ماہرین نے دوسری لہر کے بارے میں قبل ازوقت ہی آگاہ کر دیا تھا تاہم حکومت کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔

خامیوں سے بھرپور ٹیسٹنگ

ماہرین نے سری نگر ائیر پورٹ پر جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی ٹیسٹنگ کی حکمت عملی میں بہت ساری خامیوں کی نشاندہی کی ہے۔ جب مسافر ائیر پورٹ پر اترے ہیں تو وہ لازمی کرونا ٹیسٹ کے عمل سے گزرتے ہیں جس کے بعد انہیں اپنی منزل کی طرف سفر کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ ان ٹیسٹوں کے نتائج کے لیے کئی گھنٹے درکار ہوتے ہیں اور عام طور پر ان کے نتائج کا عرصہ 24 سے 48 گھنٹے تک محیط ہوسکتا ہے اور اس وقت تک ایک مسافر دیگر سیکڑوں مسافروں کے ساتھ گھل مل کر انہیں متاثر کر چکا ہوتا ہے۔ پہنچے ساتھ ہی ٹیسٹنگ کے عمل کے لیے مسافر اپنی فلائٹ کی تفصیل یعنی کے فلائٹ نمبر، سیٹ نمبر، نام، فون نمبر اور پتے بتاتے ہیں۔ ایسے میں کشمیر کے رہائشیوں کا پتایا لگایا جانا ممکن ہے اگر ان کے نتائج مثبت ہوں مگر ایسے سیاحوں کا پتا کیسے لگایا جاسکتا ہے۔

بہت سارے کیسز میں سیاح ٹیسٹنگ کے وقت میں جو فون نمبر دیتے ہیں وہ پری پیڈ فون نمبر ہوتا ہے اور اس کو ٹریس کرنا آسان نہیں ہوتا کیونکہ وہ کشمیر سے باہر رجسٹرڈ ہوتا ہے اور وادی میں کام نہیں کرتا۔ ڈاکٹرز اور ماہرین کاکہنا ہے کہ مسافروں کے لیے یہ لازم ہونا چاہیے کہ وہ کشمیر میں داخل ہونے سے قبل ٹیسٹنگ کا ثبوت ساتھ لے کر آئیں۔ ڈاکٹر نثار سمیت دیگر ڈاکٹروں کا بھی خیال ہے کہ خامیوں سے بھرپور ٹیسٹنگ کے عمل سے کرونا کی نئی قسم کا وادی میں داخل ہونے کا امکان بہت حد تک بڑھ چکا ہے۔

تیاری

جیسے جیسے کیسز کی تعداد میں اضافہ ہوا انتظامیہ نے سیاحتی مقامات ، بشمول ٹیولپ گارڈن کو بند کرنے کے احکامات جاری کر دیے ۔ انتظامیہ نے وادی میں کرونا کرفیو بھی نافذ کر دیا ۔ یہ کرفیو 29 اپریل کو لگایا گیا جس کی میعاد 10 مئی تک بڑھا دی گئی ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کو بہت سارے میڈیا نے یہ کہتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ وہ آنے والے حالات سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے دعوٰی کیا کہ آکسیجن کی دستیابی ضرورت سے دو گنا زیادہ ہے۔ انتظامیہ نے سکول بند کر دیے ہیں اور امتحان معطل کر دیے ہیں  جبکہ انتظامیہ مسلسل علما سے اپیل کر رہی ہے  وہ عوام کو اجتماعات سے روکیں۔ گزشتہ چند دنوں میں  وائرس کا رویہ ہی انتظامیہ کے مستقبل کے ایکشنز کا تعین کرے گا۔ ماہرین مئی کے وسط میں کرونا کے عروج کی پیشن گوئی کر رہے ہیں ، بہت سارے ماہرین کا خیال ہے کہ اس چین کو روکنے کے لیے لاک ڈاؤن لگایا جائے ۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ہندو کی امرناتھ یاترا کے لیے رجسٹریشن کے عمل کو بھی وقتی طور پر معطل کر دیا گیا ہے کیونکہ اس یاترا کے لیے ہزاروں کی تعداد میں ہندو زائرین اکٹھے ہو کر کشمیر کا رخ کرتے ہیں تاہم زیارات پر مکمل پابندی تاحال عائد نہیں کی گئی۔ سید روح اللہ کا کہناہے کہ انتظامیہ کو زائرین اور مقامی آبادی کی زندگیوں کو خطرےمیں نہیں ڈالنا چاہیے۔ اس موقع پر امرناتھ یاترا کا انعقاد بہت خطرناک ہے۔

جمعرات، 5 مئی 2021

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے