وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کیلئے دباؤ ڈالے جانے کا انکشاف کردیا۔ اسلام آباد میں تقریب سے خطاب میں شیریں مزاری کا کہنا تھاکہ بہت دباؤ آئے کہ اسرائیل کو تسلیم کرلیا جائے لیکن پاکستان نےکہاکہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کا سوال ہی نہیں ہوسکتا اور فلسطین کو انصاف ملنے تک اسرائیل سے متعلق سوچا بھی نہیں جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ افسوس ہے کہ او آئی سی میں فلسطین اورکشمیر کیلئے آواز نہیں اٹھائی جاتی جبکہ پاکستان نے ماضی میں ہر مسلمان ملک کے انصاف کیلئے آواز اٹھائی، ماضی میں مسلم امہ کی مسلمان ممالک کے انصاف کیلئے کھڑے ہونا روایت رہی ہے۔ شیریں مزاری کا کہنا تھاکہ بھارت اور اسرائیل نے انسانی حقوق کے قوانین کی دھجیاں اڑادی ہیں، لگتا ہے امریکا میں صدر جو بائیڈن کے آنے سے خاص تبدیلی نہیں آئے گی، فلسطین سے متعلق ڈونلڈ ٹرمپ اورجو بائیڈن کے درمیان فرق نظر نہیں آرہا۔یاد رہے کہ آج سے چھ ماہ قبل وزیراعظم عمران خان نے بھی یہ اعتراف کیا تھا کہ پاکستان کو امریکا کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے شدید دباؤ کا سامنا ہے بالخصوص متعدد عرب ممالک کے تل ابیب کے ساتھ امن معاہدوں کے تناظر میں، لیکن ایسا اس وقت تک ممکن نہیں ‘جب تک ایسا تصفیہ نہ ہو جو فلسطین کو مطمئن کرسکے’۔ پاکستانی وزیر اعظم نے اس وقت تسلیم لیا تھا کہ’ٹرمپ کے دور میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے دباؤ غیر معمولی تھا’۔
نومبر 2020 میں واشنگٹن پوسٹ کے سعودیہ میں اسرائیلی وزیر اعظم کی خفیہ آمد اور تعلقات کی بحالی پر بات چیت کی خبروں کے بعد سے پاکستان میں اسرائیل سے تعلقات کے موضوع پر بحث نے ایک بار پھر سے جنم لیا۔ مبشر لقمان ایک اسرائیلی ٹی وی پر جلوہ افروز ہوئے اور وہاں انہوں نے اسرائیل کی تعریفیں کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل ایک عظیم ملک ہے اور اسرائیلی ایک اہم قوم ہے۔ وہ سروائیورز ہیں۔ اسی طرح پاکستان بھی ایک عظیم ملک ہے اور پاکستانی بہت ہی مضبوط اورعظیم قوم ہیں۔ اس لئے یہ دونوں کے فائدے میں ہے کہ یہ اپنے تعلقات قائم کریں۔ اس پر میزبان کے سوال پر کہ کیایہ سب کرنا پاکستانی حکومت و ریاست کے لئےآسان ہوگا، انکا کہنا تھا کہ یہ ستر سالوں کی دشمنی کی داستان ہے جو کہ پلک جھپکتے میں ختم نہیں ہوگی۔ پاکستانی اسرائیل کے بارے میں سوائے منفی باتوں کے کچھ نہیں جانتے، نہ ہی اسرائیلی پاکستان کے بارے میں کچھ اور جانتے ہیں۔ ہمیں عوام کو شعور دینا ہوگا انہیں اس معاملے کا دوسرا زاویہ دکھانا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور اسرائیل جب بھی ہاتھ ملائیں انہیں یہ براہ راست کرنا چاہیے۔ کسی تیسری ریاست کو بیچ میں نہیں پڑنا چاہیے۔
اس حوالے سے اہم ترین بات یہ ہے کہ اچانک سے حکومت کے حامی صحافی اسرائیل کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کے حق میں دلائل دینا شروع کر چکے ہیں۔ سینیئر اینکر کامران خان نے سعودیہ کے اس مبینہ خفیہ دورے کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ پاکستان کو بھی اپنی اسرائیل پالیسی پر نظر ثانی کرنی چاہیے جیسا کہ خدام الحرمین شریفین اور ہمارے دیگر عرب بھائیوں کی جانب سے اشارہ دیا گیا ہے۔ جبکہ ایک سخت مذہبی جماعت کے مذہبی رہنمامولانا شیرانی کا کہنا تھا کہ فلسطین خلافت عثمانیہ کی ملکیت تھی اس نے اسرائیل کو تسلیم کرلیا ہے، عربوں کا مقدمہ تھا انہوں نے بھی مان لیا ہے لیکن ہزاروں کلومیٹر دور اس مسئلے پر خوامخواہ کی جذباتی باتیں کی جارہی ہیں جو غیر معقول ہیں۔ مولانا شیرانی کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے ساتھ تنازع عرب کا ہے یا عجم کا؟ اگر دو فریق آپس میں بیٹھ رہے ہیں تو پھر کسی اور کو شرائط رکھنے کی کیا ضرورت ہے۔ مولانا محمد خان شیرانی کا کہنا تھا کہ ’بے مقصد کی خون ریزی اور جنگ کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ میں اس بات کے حق میں ہوں کہ اسرائیل کو تسلیم کیا جانا چاہیے کیونکہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کا مسئلہ مذہبی نہیں بلکہ سیاسی اوربین الاقوامی ہے۔‘
اسرائیل سے متعلق عرب پالیسی تبدیل ہو رہی ہے۔ اور اس تبدیلی کے دو سے تین پہلو ہیں۔ ایک تو یہ کہ عرب ریاستوں کی آن بان شان اور کرو فر جس ایک اہم نکتے پر ٹکا تھا اس کا اثر ختم ہو رہا ہے۔ وہ نکتہ ہے تیل کے وسیع تر ذخائر۔ اس پر دنیا کا انحصار ختم ہو رہا تھا جسے کرونا کی وبا نے تیز تر کردیا۔ اسرائیل کی خطے میں طاقت و ہیت میں اضافہ ہوگیا ہے۔ اسرائیل کے سامنے عرب خطے کی کوئی طاقت ایسی نہیں ہے جو کہ کھڑی ہو سکے۔ ایسے میں عرب خطے کی سیاسی مجبوری ہے کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کریں جتنی پاکستان کی اہمیت ہے ، اتنی شاید ان مسلمان ممالک کی نہیں۔ عرب ممالک مکمل طور پر اسرائیل کے ساتھ دوستی کی زنجیر میں جکڑ چکے ہیں اور اسے تسلیم بھی کر رہے ہیں اور اس ناجائز ریاست کی پالیسیوں پر نہ صرف عمل پیرا ہو گئے ہیں بلکہ پاکستان کے اوپر بھی دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ کسی بھی طرح اسرائیل کو تسلیم کیا جائے۔ مگر پاکستان کے پاسپورٹ پر لکھا ہوا ہے کہ اسرائیل کے سوا ساری دنیا کے لئے قابل قبول ہے۔
کہا جا رہا تھا کہ اسرائیل اور دیگر ممالک کی کوشش تھی کہ پاکستان 2022 تک نہ صرف اسرائیل کو تسلیم کرے بلکہ اسلام آباد میں اسرائیلی سفارت خانہ قائم ہو اور تل ابیب میں پاکستانی سفارت خانہ تعمیر ہو۔ مگر پاکستانی قوم فلسطینی عوام کو کیسے دھوکا دے سکتی ہے۔ اسرائیل ناصرف فلسطینیوں کی کسی ریاست کے حق کو سرے سے تسلیم ہی نہیں کرنا چاہتا بلکہ وہ فلسطینیوں کو فلسطینیوں اور اسرائیلی شہریوں پر مشتمل ایک مشترکہ ریاست کا شہری بننے کا حق دینے کو بھی تیار نہیں۔پاکستانی قوم نہتے مظلوم فلسطینی عوام اور شہداء کے خون کا کیسے سودا کر سکتی ہے کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کرے اور بانی قائداعظم محمد علی جناح کی اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے جیسے بہادرانہ فیصلہ سے منہ موڑ لے۔ پاکستانی حکمرانوں کی سوچ پر شک کیا جا سکتا ہے مگر قوم کی سوچ کو تبدیل کرنا بہت مشکل ہے۔ ترکی نے جو پہلے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کیے تھے ، وہ بھی بحال ہو گئے ہیں اور ایک دوسرے کے ممالک میں اپنا اپنا سفیر بھی مقرر کیا گیا ہے۔عرب ممالک کے بعد پاکستان اور ایران ہی رہتے ہیں جو اسرائیل کو تسلیم نہیں کر رہے۔ سابق امریکی صدر ٹرمپ کا دور مکمل طور پر اسرائیلی دور حکومت تھا۔ اسرائیل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے سعودی عرب، دبئی ، یو اے ای ، قطر و دیگر ممالک کو مجبور کیا کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کریں بلکہ کوششں کے باوجود پاکستان نے اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا۔ درحقیقت یہ جو اسرائیل کو تسلیم کرنے کا سلگتا مسئلہ ہے اس کے پیچھے ایک مخصوص لابی ہے مگر نہ تو یہ لابی اور نہ ہی حکمران اس مقصد میں کامیاب ہوسکتے ہیں کیونکہ یہ تمام چیزیں پاکستان کی نظریاتی اساس میں شامل ہیں اس لیے تاریخ میں یا تو پاکستان نہیں ہوسکتا یا پھر پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کر سکتا۔
جمعرات ، 5 مئی 2021
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com
