English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

وزیر اعظم کے دل میں تارکین وطن کی محبت

القمر

وزیر اعظم نے 19 ممالک میں تعینات افسران سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے سمندرپار تعینات پاکستانی سفارتکاروں کی ‘چونکا دینے والی بے حسی’ دیکھی ہے۔ وزیراعظم بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں موجود سفارتی مشنز پر تنقید کر رہے تھے جہاں بڑی تعداد میں سمندر پار پاکستانی کمیونٹی رہتی ہے، لیکن جس طرح بیان دیا گیا وہ پوری فارن سروس کی مذمت کرتا نظر آیا۔  وزیراعظم نے افسران کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ‘لاتعلق رویہ ناقابلِ معافی اور ناقابل قبول ہے، اپنی نوآبادیاتی دور کی ذہنیت چھوڑیں اور تارکین وطن کے ساتھ اچھا سلوک کریں’۔ وزیر اعظم کا یہ بیان حکومت کی جانب سے سعودی عرب میں تعینات سفیر راجا اعجاز کو پاکستانی کمیونٹی کی مناسب طرح خدمت نہ کرنے اور نااہلیت پر معطل کرنے اور ان سمیت 6 سفارتی اہلکاروں کو وطن واپس بلانے کے بعد سامنے آیا۔  تاہم وزیراعظم کے اس کے بیان سے فارن سروس کے افسران میں غصے اور حوصلہ شکنی کی لہر دوڑ گئی، ایک افسر کا کہنا تھا کہ ‘تذلیل کرنے والے بیان’ پر غصہ انتہائی شدید ہے جس نے خاموش رہنے والوں کو بھی بات کرنے پر مجبور کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بات سے انکار نہیں ہے سمندر پار رہنے والے افراد کو سفارتخانوں میں مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن ان مسائل پر وزیر اعظم کی اپنی پریزینٹیشن معاملات کی سمجھ کے فقدان کو ظاہر کرتی ہے اور انہوں نے پہلے مسائل کا جائزہ لینے کے بجائے صرف شکایتوں پر انحصار کیا۔ چونکہ حاضر سروس افسران پیشہ ورانہ نظم و ضبط کی وجہ سے کھلے عام ردِعمل نہیں دے سکے لیکن سابق فارن سیکریٹریز نے سوشل میڈیا پر وزیر اعظم کے تبصرے کی مذمت کرنے میں پیش قدمی کی۔

خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کی شکایات ملنے کے بعد پاکستان کے سعودی عرب میں سفیر سمیت سفارتی عملے کے چھ افسران کو بھی واپس بلا لیا گیا تھا اور ان کی جگہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) بلال اکبر نے بطور سفیر چارج سنبھال لیا تھا۔ پاکستان کے سابق سفیر اور سیکریٹری خارجہ شمشاد احمد نے وزیراعظم عمران کے پاکستانی سفیروں سے خطاب پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کو کسی صورت زیب نہیں دیتا کہ وہ اس طرح ساری دنیا کے سامنے پاکستانی سفیروں کی تذلیل کریں۔ ’اس خطاب میں ایسی کوئی بات نہیں تھی جو بند کمرے میں نہیں ہو سکتی تھی اور جسے ساری دنیا کے سامنے کرنا ضروری تھا۔‘ ’اگر وزیر اعظم بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی مسائل کو حل کرنا چاہتے ہیں تو وہ پہلے ملک کے اندر گورننس کے مسائل حل کریں کیونکہ بیرون ملک بیٹھا سفیر پاکستانیوں کے مسائل کے حل کے لیے ملک میں مختلف وزارتوں سے رابطہ کرتا ہے اور ان کی جانب سے تاخیر کی بنا پر بہت سے کام نہیں ہو پاتے۔‘پاکستان کے دفتر خارجہ کی سابق ترجمان تسنیم اسلم کا کہنا تھا کہ ’یہ لوگ اس ملک کے سفیر ہیں اور بیرون ملک پاکستان کی نمائندگی کرتے ہیں۔ وزیراعظم کی جانب اس طرح اپنے سفیروں کو سب کے سامنے شرمندہ کرنا اور اسے براہ راست نشر کرنا مایوس کن بات ہے۔ وزیر اعظم نے جو شکایات پڑھ کر سنائیں ان کا نہ سر تھا نہ پیر۔‘

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے