امریکہ میں 100 ملین سے زائد افراد کوویکسین لگائی جا چکی ہے جبکہ پوری دنیامیں کرونا کے کیسز میں کمی دکھائی دے رہی ہے مگر دوسری جانب بھارت کا نظام صحت کرونا کی دوسری لہر کے ہاتھوں تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے اور اموات کی شرح آئے روز بڑھتی جارہی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے حالیہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ہفتے دنیا بھر میں مصدقہ کیسز کی تعداد دو ملین سے زائد ہے جن میں سے آدھے مصدقہ کیسز صرف بھارت میں موجودہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارت دنیا بھر میں کرونا وائرسز کی تیاری اور درآمد میں صف اول کے ممالک میں شامل ہے اور جنوری کے وسط سے واقی حکومت نے برطانوی ویکیسن آسٹرا زنیکا کی منظوری کے ساتھ ساتھ اپنی مقامی ویکسین کو ویکسین کی تیاری کا عمل بھی جاری رکھا ہوا ہے اور حکومت کا ٹارگٹ ہے کہ موسم گرما کے اختتام کے 300 ملین افراد کو یہ ویکسین لگائی جائے ۔ اس طرح بھارت دنیا بھرمیں سب سے زیادہ ویکسی نیشن کا ریکارڈ بنانے کے منصوبہ بندی کررہا تھا تاہم بھارت ویکسی نیشن کا ریکارڈ تو نہ بنا سکا البتہ کرونا وائرس کیسز کا ریکارڈ بنا چکا ہے اور بھارت میں روزانہ کی بنیاد پر کروناکیسز کی تعداد چار لاکھ تک پہنچ چکی ہے اور مئی کے وسط تک یہ تعداد چار لاکھ سے بھی اوپر جانے کا خدشہ ہے۔
بھارتی حکام کی جانب سے مؤثر اور محفوظ ویکسین کی تیاری اور اس کا استعمال ہی وہ حکمت عملی تھی جس کے ذریعے کرونا منتقلی کے اس وسیع سلسلے کو روکا جاسکتا تھا تھا تاہم اس سال کے آغاز پر ویکسی نیشن مہم کے آغاز کے دعووں کے باوجود بھارت تمام تر ریاستوں میں ویکسین فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے اگر چہ مدافعت کی یہ مہم دنیا کی سب سے بڑی مہم تھی تاہم بھارت اس کو پورا کرنے میں بری طرح ناکام رہا ہے۔ جونہی ملک میں کرونا کے کیسز کی تعداد بڑھی لوگ ویکسی نیشن کی رجسٹریشن کے لیے تیزی سے دوڑے تاہم بہت ساری ریاستوں میں ویکسین کی کمی دیکھنے کو آئی اور ملک بھر میں بہت بڑی تعداد میں ویکسی نیشن مراکز نے لوگوں کو ویکسین لگائے بغیر واپس بھیجنا شروع کردیا ۔ اگرچہ بھارت دنیا بھر میں کرونا ویکسین کی تیاری والا سب سے بڑا ملک ہے اور اس کی ماہانہ صلاحیت 70 ملین خوراکیں ہیں ، تاہم اب یہ ملک بھی ویکسین کی درآمد پر مجبورہوگیا ہے کیونکہ مقامی سطح پر ویکسین کی تیاری کو شدید چیلنجز کا سامنا ہے۔ بھارت کی ویکسی نیشن مہم آگے بڑھنے کی بجائے تیزی سے ناکامی کا شکار ہے ۔ ایک طرف تو موجودہ تباہی نے دنیا بھر میں کرونا ویکسین کی فراہمی کو دباؤ کا شکار کر دیا ہے جس کے نتیجے میں کم اور درمیانی آمدن والے ممالک اس سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں کیونکہ ان میں سے بیشتر ممالک کا انحصار بھارت کی ادویات ساز انڈسٹری پر تھا۔
کرونا کی دوسری لہر نے بھارت کو اپریل کے وسط میں جکٹرا اور بھارت کا حکومتی نظام صحت دنیا کے سب سے بڑے کرونا بحران سے نمٹنے میں مکمل طور پر ناکام دکھائی دیا۔ جیسے جیسے کرونا کے کیسز کی تعداد بڑھی نظام صحت پر دباؤ بڑھتا گیا، بڑے شہروں میں بہت سارے ہسپتال شدید متاثر مریضوں کو بھی داخل کرنے سے انکار کر رہے ہیں کیونکہ انکے پاس بستر ہی موجود نہیں ، جب کہ طبی آلات کی کمی خاص طورپر آکسیجن کی فراہمی، شعبہ انتہائی نگہداشت میں بستروں کی قلت، ٹیسٹ کٹس کا نہ ہونا، ذاتی حفاظتی سامان اور وینٹی لیٹرز کی شدید کمی نے بھی نظام صحت کی ناکامی کو کھول کر بیان کر دیا ہے۔ مزید برآں اموات کی بہت بڑی تعداد کی وجہ سے قبرستانوں اور شمشان گھاٹوں میں بھی جگہ کم پڑ گئی ہے۔ -جیسے جیسے اموات کی شرح میں اضافہ ہورہا ہے ، اضافہ قبرستان اور شمشان گھاٹوں کی تعمیر کی ضرورت بھی پیش آگئی جن کو تعمیر کیا گیا خاص طور پر سب سے زیادہ متاثر شہروں اور ریاستوں میں۔ مزید برآں بھارت حکومت نے یکم مئی سے 18 سال کی عمر کے افراد کی ویکسی نیشن کا عمل بھی شروع کر دیا ہے ۔ بدقسمتی سے روس اور چین کے ہمراہ بھارت وہ ملک تھا جس نے اپنی تیاری کردہ ویکسین دیگر ممالک کو بھی فراہم کرنا شروع کر دی جبکہ اس کی اپنی آبادی کا صرف 3 فیصد ہی ویکسی نیشن کے عمل سے گزرا تھا۔ عالمی وبا کے دوران بھارت نے ویکسین کی بڑے پیمانے پر تیاری کی وجہ سے یہ ویکسین جنوی مشرقی ایشیائی ممالک، مشرق وسطی، افریقہ اور کم اور درمیانی آمدن والے ممالک کو ویکسین فرینڈ شپ پروگرام کے تحت فراہم کرنا شروع کر دی ۔
بھارت کی جانب سے یہ سلسلہ 2021 کے آغاز میں شروع کیا گیا جس کا مقصد ویکسین کی فراہمی کے ذریعے تعاون کو فروغ دینا تھا۔ درحقیقت ترقی پذیر دنیا میں اثرورسوخ کے حصول کی جنگ میں بھارت نے اپنے لوگوں کی ضرورت کو پورا کیے بغیر اور ملکی ضروریات کو مدنظر رکھے بغیرکرونا کی کئی لاکھ خوارکیں غریب ممالک کو فراہم کیں اور اب طبی ذرائع کی کمی کی وجہ سے بھارت میں کرونا سے متاثرہ افراد کی تعداد آئے روز بڑھتی دکھائی دیتی ہے ۔ پس اس سارے عمل سے بھارت کی جانب سے نہ صرف اپنے لوگوں کو ویکسین کی فراہمی متاثر ہوئی بلکہ دیگر ممالک کو بھی ویکسین سے محرومی کا سامنا کرنا پڑا۔ ان ممالک میں چالیس کے قریب ممالک بشمول، روس، یورپی پوینین، چین اور امریکہ سمیت دنیا بھر کے کئی خیراتی ادارے بھی شامل تھے۔دنیا بھر میں کرونا کی وجہ سےبہت ساری تقریبات اور خاص طور پر مذہبی میلوں پر پابندی لگا دی گئی تاہم کرونا کے بدترین خطرےکے باوجود بھارت کے مختلف مقامات پر مذہبی میلے اور دیگر مذہبی اجتماعات اسی طرح جاری رہے ۔ پھر اس کے ساتھ ساتھ وزیر اعظم نریندرا مودی نے اس عرصے میں 23 سیاسی جلسوں کی قیادت بھی کی جس میں ان کے لاکھوں حمایتی بغیر کسی حفاظتی اقدامات کے اکٹھے تھے۔ اس پر وفاقی حکومت نے کرونا کی وجہ سے پابندیاں لگانے میں بھی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا۔
بلاشبہ بھارت دنیا کا تیسرا ملک ہے جس نے اب تک 130 ملین افراد کو ویکسین لگائی ہے جو کہ امریکہ اور چین کے بعد تیسری بڑی تعداد ہے لیکن 3۔1 بلین افراد کے لیے یہ تعداد بہت کم ہے اور اس کے لیے بڑے وسیع پیمانے پر ویکسی نیشن کی ضرورت ہے۔ اگرچہ بہت سارے ممالک کی جانب سے بھارت میں جانے والی اور آنے والی پروازوں کو روک دیا گیا تاہم دنیا کے بہت سارے ممالک میں بھارتی قسم بی-1617 کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے۔ بھارت کے کرونا بحران سے دنیا بھر یں یہ خدشہ پیدا ہوگیا ہے کہ بہت سارے ممالک بھارت کی طرف کے کرونا بحران کا سامنا کر سکتے ہیں۔ کرونا کا حالیہ بحران یہ ظاہر کرتا ہے کہ کوئی بھی ملک کرونا کے نشانے پر آسکتا ہے اس لیے ہر ملک ممکنہ طور پر اس کی تیاری رکھے اور سخت اقدامات کرے۔
ہفتہ، 8 مئی 2021
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com
