اقوام متحدہ نے اسرائیل پرزور دیا ہے کہ وہ مقبوضہ مشرقی یروشلم میں جبری بےدخلی کا سلسلہ بند کردے، ساتھ ہی خبردار کیا کہ اس کے اقدامار ‘جنگی جرائم’ کے مترادف ہیں۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق دفتر کے ترجمان روپَرٹ کولوِلے نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا کہ ‘ہم اسرائیل سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فوری طور پر جبری بےدخلی کا سلسلہ بند کرے’۔
ان کا یہ بیان مشرقی یروشلم میں چار فلسطینی خاندانوں کی بےدخلی کے خطرے کے باعث پولیس سے جھڑپوں کے بعد 15 فلسطینیوں کی گرفتاری کے بعد سامنے آیا۔
یروشلم کے پرانے شہر کے قریب شیخ جراح میں فلسطینی مہاجرین اور یہودی آباد کاروں کے درمیان زمین کی ملکیت کے تنازع پر مسلسل دوسری رات کشیدگی رہی۔
4 فلسطینی خاندانوں کے گھروں کی زمین پر یہودیوں کے ملکیت کے دعوے کا قانونی کیس طویل عرصے سے چل رہا ہے اور اب یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔
روپرٹ کولولے نے کہا کہ ‘ہم ایک بار پھر زور دینا چاہتے ہیں کہ مشرقی یروشلم، مقبوضہ فلسطینی وادی کا حصہ رہے گا جہاں بین الاقوامی انسانی قوانین کا اطلاق ہوتا ہے’۔
انہوں نے کہا کہ ‘قابض طاقت مقبوضہ وادی میں نجی جائیداد پر قبضہ نہیں کر سکتی، شہری آبادی کو مقبوضہ وادی میں منتقل کرنا بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی اور جنگی جرائم کے مترادف ہے’۔
انہوں نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ حالات کو مزید کشیدہ بنانے والے یا جبری منتقلی باعث بننے والے اقدامات کو فوری روکے۔
روپرٹ کولولے نے کہا کہ ‘ہم اسرائیل سے یہ مطالبہ بھی کرتے ہیں کہ وہ اس جبری بےدخلی خلاف احتجاج کرنے والوں سمیت اسمبلی میں آزادی اظہار کا احترام کرے اور طاقت کے استعمال میں زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرے’۔
ہلال احمر کے مطابق شیخ جراح میں بدھ کو کشیدگی کے بعد جھڑپوں میں 22 فلسطینی زخمی ہوگئے تھے، جبکہ پولیس نے 11 افراد کو گرفتار کرنے کی تصدیق کی تھی۔
رواں سال کے اوائل میں یروشلم کی ضلعی عدالت نے دہائیوں قبل خریداری کا حوالہ دیتے ہوئے حکم دیا تھا کہ یہ گھر قانونی طور پر یہودی خاندانوں کی ملکیت ہیں۔
یہودیوں کا دعویٰ ہے کہ ان کے خاندانوں نے اس جنگ میں اس زمین کی ملکیت کھو دی تھی جس کے نتیجے میں 1948 میں اسرائیل وجود میں آیا تھا۔
کیس میں فریق فلسطینی خاندانوں نے یہ گھر اردنی انتظامیہ سے حاصل کرنے کے ثبوت پیش کیے، جو 1948 سے 1967 تک مشرقی یروشلم کو کنٹرول کرتی تھی۔
عَمان نے بھی فلسطینیوں کے دعوؤں کے حق میں دستاویزات پیش کی تھیں۔
اسرائیل کا قانون یہودیوں کو یہ اجازت دیتا ہے کہ وہ ثبوت پیش کرنے کے بعد 1948 سے قبل ان کی ملکیتی جائیدادیں واپس لے سکتے ہیں، لیکن فلسطینیوں کو یہ حق نہیں دیا جاتا۔
روپرٹ کولولے نے مزید کہا کہ ‘اسرائیل، مشرقی یروشلم سمیت مقبوضہ وادی میں اپنے قوانین کا اطلاق نہیں کر سکتا’۔
اسرائیل نے مشرقی یروشلم پر 1967 میں قبضہ اور بعد میں الحاق کر لیا تھا جس کو عالمی برادری کے بڑے حصے کی جانب سے تسلیم نہیں کیا جاتا۔
زمین کے حوالے سے عدالتی حکم کے بعد شیخ جراح میں فلسطینی طیش میں آگئے اور ان کا کہنا تھا کہ یہ عربوں کو مشرقی یروشلم سے بے دخل کرنے اور یہودیوں کی آباد کاری کی جانب ایک اور قدم ہے۔
مسجد اقصیٰ میں فلسطینیوں، اسرائیلی پولیس کے درمیان جھڑپ میں سیکڑوں افراد زخمی

یہودی آباد کاروں کی طرف سے فلسطینیوں کو گھروں سے بے دخل کرنے پر غم و غصے میں اضافے کے پیش نظر مسجد اقصیٰ کے باہر ہونے والے احتجاج میں اسرائیلی پولیس نے فلسطینی نوجوانوں کی طرف ربڑ کی گولیاں چلائیں اور اسٹن گرینیڈ فائر کیا جبکہ فلسطینی نوجوانوں نے اسرائیلی پولیس پر پتھراؤ کیے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق دین اسلام کی تیسرے سب سے مقدس ترین مقام اور مشرقی یروشلم میں رات کے وقت ہونے والی جھڑپ میں اسرائیلی پولیس اور فلسطینی صحت ورکرز نے بتایا کہ کم از کم 205 فلسطینی اور 17 اسرائیلی پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔
رمضان کے مقدس مہینے کے دوران یروشلم اور مقبوضہ مغربی کنارے میں کشیدگی پھیل رہی ہے، مشرقی یروشلم کے علاقے شیخ جراح میں رات کے وقت جھڑپیں ہوئیں۔
یہ ایک ایسا علاقہ ہے جہاں ایک طویل عرصے سے جاری قانونی کیس میں متعدد فلسطینی خاندان کو بے دخل کیا گیا ہے۔

امریکا اور اقوام متحدہ کی طرف سے تشدد میں کمی کا مطالبہ سامنے آیا جبکہ یورپی یونین اور اردن سمیت دیگر نے ممکنہ بے دخلی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
جمعے کے روز سینکڑوں فلسطینی مسجد اقصیٰ کے ارد گرد پہاڑی کے احاطے میں نماز جمعہ کے لیے اکٹھے ہوئے جس کے بعد بہت سے لوگ شہر میں بے دخلی کے خلاف احتجاج کے لیے وہیں موجود رہے۔
لیکن شام کے وقت افظار کے بعد مسجد اقصیٰ میں اور شیخ جراح کے قریب چھوٹی چھوٹی جھڑپیں شروع ہوگئیں جو قدیم شہر کے مشہور دمشق گیٹ کے قریب ہے۔
پولیس نے بکتر بند گاڑیوں پر نصب واٹر کینن کا استعمال کئی سو مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے کیا جو ممکنہ بے دخلی کا سامنا کرنے والے خاندانوں کے گھروں کے قریب جمع تھے۔
مظاہرے میں شامل 23 سالہ بشار محمود کا کہنا تھا کہ ’اگر ہم یہاں ان لوگوں کے ساتھ کھڑے نہیں ہوئے تو (بے دخلی) میرے گھر، اس کے گھر، اس کے گھر اور یہاں رہنے والے ہر فلسطینی کے گھر آئے گی۔
مسجد اقصیٰ کے ایک اہلکار نے مسجد کے لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے کمپاؤنڈ میں لوگوں کو پرسکون ہونے کی اپیل کی۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘پولیس کو فوری طور پر نمازیوں پر اسٹن گرینیڈ فائر کرنے بند کرنا چاہیے اور نوجوانوں کو پرسکون ہوکر خاموش ہونا چاہیے’۔
پیر کے روز جہاں اسرائیل کی یہودی آبادی یوم یروشلم منارہی ہوگی وہیں اسرائیل کی سپریم کورٹ شیخ جراح کی بے دخلیوں پر سماعت کرے گی۔
فلسطین کی ہلال احمر ایمبولینس سروس نے بتایا کہ زخمی ہونے والے 108 فلسطینیوں کو اسپتال لے جایا گیا، متعدد افراد کو اسٹیل پر ربڑ چڑھی گولیوں سے نشانہ بنایا گیا تھا۔
ہلال احمر کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں سے ایک کی آنکھ ضائع ہوئی، دو کو سر پر شدید زخم آئے اور دو کے جبڑے ٹوٹ گئے۔

دوسری جانب اسرائیلی پولیس کے ایک ترجمان نے بتایا کہ فلسطینیوں نے پتھراؤ، آتش بازی اور دیگر سامان افسران کی طرف پھینکا جس سے 17 کے قریب نصف زخمی ہوئے جنہیں ہسپتال میں طبی امداد کی ضرورت ہے۔
ترجمان نے کہا کہ ‘ہم اپنے افسران کو نقصان پہنچانے والے ہنگامہ آرائی کرنے والوں کو آڑھے ہاتھوں لیں گے اور اور ذمہ داروں کو ڈھونڈنے کے بعد اہلکاروں کو انصاف دلانے کے لیے کام کریں گے’۔
فلسطین کے صدر محمود عباس نے ‘اسرائیل کو مقدس شہر میں ہونے والی خطرناک واقعے اور گنہگار حملوں کا ذمہ دار ٹھہرایا’ اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے اس مسئلے پر فوری اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ کیا۔
پولیس نے بتایا کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں بھی تشدد میں اضافہ ہوا ہے جہاں گزشتہ روز اسرائیلی اڈے پر فائرنگ کے بعد دو فلسطینی ہلاک اور تیسرا شدید زخمی ہوگیا۔
اس واقعے کے بعد اسرائیل کی فوج کا کہنا تھا کہ وہ مغربی کنارے میں اضافی جنگی فوج بھیجے گی۔
شیخ جراح کے رہائشی بھاری اکثریت سے فلسطینی ہیں تاہم اس کے پڑوس میں ایک مقام موجود ہے جس کے بارے میں یہودیوں کا ماننا ہے کہ یہاں ایک قدیم اعلی کاہن سائمن جسٹ کی قبر موجود ہے۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر کے ترجمان نے کہا ہے کہ ‘اگر حکم دیا گیا اور اس پر عمل درآمد کیا گیا تو بین الاقوامی قوانین کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی ہوگی’۔
ترجمان رابرٹ کولویلے نے کہا کہ ‘ہم اسرائیل سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ تمام جبری بے دخلیاں فوری طور پر رکوائے جن میں شیخ جراح بھی شامل ہے، اور ایسی کسی بھی سرگرمی کو روکے جس سے مزید پیچیدہ ماحول پیدا ہو اور زبردستی منتقلی کا خطرہ ہو’۔
امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان جیلیانا پورٹر نے کہا کہ ‘واشنگٹن کو یروشلم میں بڑھتی کشیدگی پر سخت تشویش ہے’۔
انہوں نے کہا کہ ‘ہم آنے والے دنوں میں ایک حساس دور کی طرف جارہے ہیں، یہ فریقین کے لیے ضروری ہے کہ وہ امن کو یقینی بنائیں اور تناؤ میں اضافے اور پرتشدد تصادم سے بچنے کے لیے ذمہ داری کے ساتھ کام کریں’۔
یورپی یونین، اردن اور 6 رکنی خلیجی تعاون کونسل نے ممکنہ بے دخلی پر تشویش کا اظہار کیا۔
اردن کے وزیر خارجہ ایمن صفادی نے کہا کہ اردن نے فلسطینی اتھارٹی کو یہ دستاویزات دی تھیں کہ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ شیخ جراح کے فلسطینی اپنے گھروں کے ‘جائز مالک’ ہیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بیان جاری کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘مقبوضہ بیت المقدس میں اشتعال انگیز اقدامات اور فلسطینیوں کے حقوق کی خلاف ورزی، بشمول شیخ جراح کے لوگوں کے گھروں کے حقوق مجروح کرکے اسرائیل آگ سے کھیل رہا ہے’۔
اسرائیل کی وزارت خارجہ نے جمعہ کے روز کہا ہے کہ فلسطینی ‘بیت المقدس میں تشدد کو ہوا دینے کے لیے نجی جماعتوں کے درمیان ایک غیر منقولہ جائیداد کے تنازع کو قوم کا تنازع بنا کر پیش کررہے ہیں’۔
فلسطینیوں نے اس الزام کو مسترد کردیا۔
ادھر دفتر خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان ‘اسرائیلی قابض فورسز کی جانب سے مسجد اقصی میں معصوم نمازیوں پر حملوں کی شدید مذمت کرتا ہے’۔
کہا گیا کہ اس طرح کے حملے، خاص طور پر رمضان المبارک کے مقدس مہینہ کے دوران، تمام انسانی اقدار اور انسانی حقوق کے قوانین کے منافی ہیں۔
دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ ‘ہم زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعاگو ہیں اور ہم فلسطینی مقصد کے لیے اپنی مستقل حمایت کا اعادہ کرتے ہیں اور عالمی برادری سے ایک بار پھر مطالبہ کرتے ہیں کہ فلسطینی عوام کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات اٹھائے’۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے ہم ایک بار پھر 1967 سے پہلے کی سرحدوں کے ساتھ اقوام متحدہ اور او آئی سی کی قراردادوں کے
مطابق دو ریاستوں کے حل کی ضرورت پر زور دیتے ہیں اور القدس الشریف آزاد اور متصل فلسطینی ریاست کا قابل عمل دارالحکومت ہے۔
منبع: ڈان نیوز
