بہت سی مائیں اپنے بچوں کو تلاش کرتے کرتے خود اس دنیا سے رخصت ہو گئیں
حافظ محمد ہارون عباس قمر
دنیا بھر کی طرح اتوار کو مقبوضہ جموں کشمیر میں بھی ماں کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں ماوں کا عالمی دن ایک ایسے موقع پر منایاجارہا ہے جب ہزاروں مائیں بھارتی فورسزکی حراست میں لاپتہ بچوں کی واپسی کا انتظار کر رہی ہیں۔
گزشتہ30 برس میں بھارتی فورسز کی حراست میں تقریبا 8ہزار کشمیری نوجوان لاپتہ ہو گئے ہیں۔ لاپتہ ہونے والے شہریوں کے لواحقین کی تنظیم اے پی ڈی پی کے مطابق 8ہزار کشمیری نوجوانوں کے لواحقین بالخصوص ان کی مائیں ان کا انتظار کر رہی ہیں۔ بڑی تعداد میں ایسی خواتین بھی ہیں جن کے شوہر دوران حراست لاپتہ ہو گئے اور وہ نیم بیوگی کی حالت میں زندگی بسر کر رہی ہیں۔
مقبوضہ 1989 سے مئی 2021 تک بائیس ہزار خواتین بیوہ ہو گئیں۔ ان کے شوہر بھارتی فوج کے ہاتھوں مارے گئے۔
قابل ذکر امر یہ ہے کہ کشمیری خواتین کی تنظیم دختران ملت کی سربراہ 57 سالہ آسیہ اندرابی ان کی نائب فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین کو بھی جعلی مقدمے میں جیل میں ڈالا گیا ہے۔ تینوں خواتین ان دنوں نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں قید ہیں۔
ماوں کا عالمی دن 1914 سے مئی کے ہر دوسرے اتوار کو منایا جاتا ہے۔
ایسا منظر صرف کشمیر میں ہی دیکھنے کو ملے گا جہاں ایک ماں، جس کا بیٹا سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ہلاک ہوا ہو، سوگواروں سے صبر و تحمل برتنے کی اپیل کرتی ہو۔
روز روز کی ہلاکتوں اور خون ریزی نے نہ صرف کشمیری عورت کی زندگی بدل ڈالی ہے بلکہ اس کے لیے معاشرتی اور مذہبی ترجیحات بھی تبدیل ہوتی جا رہی ہیں۔
اب مائیں اپنے شہید بیٹوں کے جلوس کی قیادت کرتی ہیں، قبرستان تک لے جاتی ہیں اوران کے جنازے میں شامل ہوتی ہیں۔ چند دہائیوں پہلے تک کشمیری عورت محال ہی سڑکوں پر نظر آتی تھی، قبرستان جانا تو دور کی بات۔ اسے مذہبی طور پر بھی جائز تصور نہیں کیا جاتا تھا۔

24 اپریل 2019کی رات کی جب اننت ناگ کے باگندر محلے میں بھارتی فورسز نے چھاپے کے دوران دو نوجوانوں کو مکان سمیت بارود سے اڑا دیا۔ان میں ایک برہان الدین گنائی تھے جنہیں لوگ ڈاکٹر برہان کے طور پر جانتے تھے۔
ڈاکٹر برہان کی والدہ ظریفہ نے ان کے لاپتہ ہونے کے 11 ماہ بعد جب اپنے بیٹے کی میت دیکھی تو سوگواروں کے ایک بڑے مجمعے سے مخاطب ہو کر کہا: برہان کی ہلاکت پر کوئی ماتم نہیں کرے گا۔ اس نے اپنے لیے جو راستہ اختیار کیا تھا وہ اس پر ثابت قدم رہا۔ انجانے میں اگر اس نے کسی کو کوئی گزند پہنچائی ہو تو اللہ کے واسطے اسے اس غلطی کے لیے بخش دینا۔
والدہ کی بات سن کر وہاں ماتم شروع ہو گیا اور وہ خاموشی سے دیکھتی رہیں۔ نہ کوئی سینہ کوبی، نہ کوئی اف اور نہ کوئی گلہ… بس پتھر کا جگر رکھنے والی ماں آخری رسم میں شامل ہو گئی۔
مقبوضہ کشمیر میں شروع ہونے والی جدوجہد میں آغاز سے ہی کشمیری خواتین آسیہ اندرابی دختران ملت،زمردہ حبیب تحریک خواتین، یاسمین راجہ مسلم خواتین مرکز، فریدہ بہن جی ماس مومنٹ جموں وکشمیر اور پروینہ آہنگر اے پی ڈی چلا رہی ہیں۔
ان خواتین کی تنظیموں میں سینکڑوں خواتین ممبرز بھی موجود ہیں جو نہ صرف عام کشمیری کو آزادی کی اہمیت سے آگاہ کرتی ہیں۔ بلکہ 90 کے دہائی میں جب درندہ صفت بھارتی فوجیوں نے خواتین کی عزتیں پامال کرنا شروع کیں تو آسیہ اندرابی نے آگاہی مہم کے دوران خواتین کو اپنے پاس چاقو رکھنے اور دفاع کے طورپر اس کو استعمال کرنے کے طریقے بھی سیکھائے ۔
کشمیر مین خواتین کا پہلا احتجاجی مظاہرہ 1990 میں دختران ملت کی کال پر ہوا اور اس وقت خواتین نے مسجد میں جاکر نعرہ لگائے۔ اب وادی میںکشمیری خواتین کا اپنے رشتہ داروں کی تلاش اور کیسیز کی پیروی کے لیے دہلی کی عدالتوں اور تہاڑ جیل کے چکر لگانا معمول بن چکا ہے ۔

چیئرپرسن جموں کشمیر ماس موومنٹ فریدبہن جی کہتی ہیں کہ میرے بھائی بلال پر پاکستان سے وابستگی کا الزام لگا کر گرفتار کیا گیا بعدازاں دہلی دھماکوں کے بعد بھارتی فوجیوں نے نہ صرف مجھے گرفتار کیا بلکہ پانچ سال کے لیے تہاڑ جیل بھیج دیا اور 2001 میں جیل سے رہا ہوئی تو بھارت کی جیلوں میں قید کشمیری قیدیوں کی قانونی مددکا بیڑہ اٹھایا۔

زمردہ حبیب تحریک خواتین کشمیر کی چیئرپرسن ہیں ۔
وہ 1992 سے آزادی کی تحریک میں متحرک ہیں اور اسی پاداش میں 5 سال کے لیے تہاڑ جیل بھی کاٹ چکی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ مقبوضہ کشمیر کی خواتین کے قربانیاں گواہ ہیں کہ کشمیری عورت کو ڈرایا یا دھمکایا نہیں جاسکتا۔

مسلم خواتین مرکز کی چیئرپرسن یاسمین راجہ جو غلام نبی بٹ کی بیٹی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ بچپن سے ہی پاکستان کی نغمے گاتی تھی۔
ایک مرتبہ پاکستانی قومی ترانہ پڑھنے پر مجھے سکول سے نکال دیا گیا۔ مگر میری پاکستان کے ساتھ لگن کم نہیں ہوئی۔ اس دوران کئی بار جیل گئی ہوں اور رہا ہوئی ہوں۔ تحریک آزادی کشمیر کی ان چند نمایاں خواتین کے علاوہ دیگرکشمیری خواتین کا بھی آزادی کی جدوجہد میں کلیدی کردار رہا ہے۔

ایک اور ماں 60 سالہ پروینہ آہنگر اپنے نوجوان بیٹے اور دیگر لاپتہ افراد کی جنگ بڑی بہادری سے لڑ رہی ہیں۔
نوے کی دہائی کے اوائل تک پروینہ آہنگر بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی دیگر ماں کی طرح ایک عام سی ماں تھیں۔ پھر ایک دن بھارتی سکیورٹی فورسز نے ان کے سب سے بڑے بیٹے 27سالہ جاوید کو گھر سے اٹھا لیا۔ وہ اس وقت ایک ہائی اسکول کا طالب علم تھا اور پروینہ آج تک اپنے بیٹے کو دوبارہ نہیں دیکھ پائیں۔ جاوید آہنگر کا شمار ان ہزاروں کشمیری نوجوانوں میں ہوتا ہے، جنہیں سکیورٹی فورسز یا پھر نقاب پوش افراد نے اٹھایا اور پھر وہ دوبارہ کبھی اپنے گھروں میں قدم نہ رکھ سکے۔
پروینہ آہنگر بھی گزشتہ تیس برسوں سے اپنے بیٹے کی تلاش میں ہیں۔وہ کہتی ہیں میں پولیس اسٹیشنوں میں گئی، میں نے آرمی کیمپوں کا سفر کیا، جنگلوں میں گئی، دیہات میں، ہر اس جگہ جہاں میں جا سکتی تھی۔ میں اپنے بیٹے کی تلاش میں ہر اس مقام پر گئی، جہاں جانے کا کبھی سوچا تک نہیں تھا۔ میں صبح سویرے بغیر کچھ کھائے گھر سے نکل پڑتی تھی۔
پروینہ کی تکلیف، دکھ اور احساس نے انہیں ان والدین کے ساتھ رابطوں پر مجبور کیا، جن کے بچے بالکل اسی طرح لاپتہ ہو چکے ہیں اور آج تک واپس نہیں لوٹے، مجھے پتا چلا میں تنہا اپنے بچے کی تلاش میں نہیں ہوں۔ نوے کی دہائی کے آغاز پر اردو زبان میں شائع ہونے والے اخباروں میں اکثر لاپتہ بچوں سے متعلق اشتہارات دیکھنے کو ملتے تھے۔ میں ان اخبارات کے تراشے سنبھال کر رکھ لیتی تھی تاکہ متاثرہ والدین کے دیہات تک پہنچا جا سکے۔
اسی طرح دن گزرتے گئے اور لاپتہ نوجوانوں کے زیادہ سے زیادہ والدین پروینہ کے ساتھ شامل ہوتے گئے، یہاں تک کہ انہوں نے سن انیس سو چورانوے میں لاپتہ افراد کے والدین کی ایسوسی ایشن آف پیرنٹس(اے پی ڈی پی)کی بنیاد رکھی۔ اس تنظیم کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت تقریبا آٹھ ہزار کشمیری لاپتہ ہیں۔ اس تنظیم کے مطابق، ”لاپتہ ہونے والے زیادہ تر افراد نوجوان ہیں لیکن ان میں کم عمر نوجوان بھی شامل ہیں۔ اسی طرح دیگر شعبوں کے ہر عمر کے افراد بھی شامل ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر کا کبھی کسی مسلح اپوزیشن گروپ سے کوئی تعلق رہا ہی نہیں تھا۔
پروینہ آہنگر بتاتی ہیں، ”بہت سی مائیں تو اپنے بچوں کو تلاش کرتے کرتے خود اس دنیا سے رخصت ہو گئیں۔ جبری گمشدگیاں موت سے زیادہ درد ناک ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا، ”اگر کوئی وفات پا جاتا ہے تو اسے قبر نصیب ہوتی ہے۔ اس کی فیملی جسم دیکھ سکتی ہے، چہرے کو چھو سکتی ہے، کم از کم آپ کے جذبات کو سکون ملتا ہے۔ لیکن جب آپ کے بچے کو اٹھا لیا جاتا ہے اور غائب کر دیا جاتا ہے تو پھر یہ سمجھ نہیں آتی کہ کیا کرنا ہے۔ آپ آزرو اور امید کے درمیان بھٹکتے رہتے ہیں۔ آپ نہیں جانتے کہ وہ کہاں ہے، کیا کر رہا ہے یا اس کے ساتھ کیا ہوا ہے؟ آپ صدمے سے دوچار ہو جاتے ہیں، اندر ہی اندر طوفان برپا ہوتے رہتے ہیں۔
پروینہ کی زندگی کا مقصد اب دیگر خاندانوں کے بچوں کی تلاش میں تبدیل ہو چکا ہے، ”یہ خواتین، مائیں یا بیویاں، جنہوں نے اپنے بچوں یا شوہروں کو کھو دیا ہے، یہ اب میری فیملی ہیں۔ میں نے ان سے وعدہ کر رکھا ہے کہ اب میں ان کے لیے لڑوں گی۔ ہم متاثرین کا وہ خاندان ہیں، جنہیں اب بھی اپنے رشتہ داروں کا انتظار ہے۔
پروینہ آہنگر کی جدوجہد ابھی تک ناکام ہی رہی ہے۔ سن دو ہزار سات تک وہ قانونی جنگ لڑتی رہیں لیکن انہیں انصاف نہ ملا۔ جبری گمشدگیوں کے ہزاروں کیس عدالتوں میں لٹکے ہوئے ہیں اور کسی کا کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ وہ بتاتی ہیں، قانونی نظام، عدلیہ اور کورٹس میرے جیسے متاثرین کو کوئی انصاف مہیا نہ کر سکے۔ ہم صرف اپنے بچوں کے لیے نہیں لڑ رہے بلکہ اس بات کی یقین دہانی چاہتے ہیں کہ کسی دوسرے کے ساتھ ایسا نہ ہو۔ ان کا مزید کہنا تھا، ”ہم حکومت سے پوچھتے ہیں کہ ہمارے بچے کہاں غائب ہو گئے؟ ہم چاہتے ہیں کہ وہ ہمارے مقدمات کی تحقیقات کریں۔
گزشتہ سال تک پروینہ اور دیگر متاثرین سری نگر کے عوامی پارک میں باقاعدگی سے جمع ہوتے تھے تاکہ گمشدگیوں کے حوالے سے احتجاج ریکارڈ کروایا جا سکے۔ لیکن اب کشمیر میں ایسا کوئی بھی اجتماع ناممکن سی بات لگتی ہے ۔
پروینہ آہنگر کو 2007میں نوبل امن انعام کے لیے نامزد کیا گیا تھا اور2017میں انہیں انسانی حقوق کے رافتو ایوارڈ سے بھی نوازا گیا تھا۔
‘بہت سی مائیں تو اپنے بچوں کو تلاش کرتے کرتے خود اس دنیا سے رخصت ہو گئیں۔ جن میں مہتابہ، مسرہ بیگم، حمیدہ پروین، زونہ بیگم ، حلیمہ، رحتی بیگم اور حسینہ بیگم شامل ہیں
ضلع بڈگام کے علاقے کائوسہ کی 65سالہ رحتی بیگم کے اکلوتے بیٹے محمد رمضان کو بھارتی فوجیوں نے 1994میں حراست میں لیا تھا جس کے بعد وہ آج تک گھر واپس نہیں لوٹا۔
حسینہ بیگم کا بیٹا سید انور شاہ پیشے سے ایک رنگساز تھااور بھارتی فوجیوں نے انہیں 21جولائی 2000ء کو سرینگر میں گرفتارکرکے لاپتہ کردیا۔
کشمیر کے دوردراز علاقے کرہامہ سے تعلق رکھنے والی مہتابہ بیگم اپنے بیٹے محمد یعقوب کی راہ تکتے تکتے چل بسیں جس کو بھارتی فوجیوں نے 1990ء میں ایک کریک ڈائون کے دوران گرفتارکیا تھا۔
بمنہ سرینگر کی بوٹ مین کالونی کی رہائشی مسرہ بیگم اپنے اکلوتے بیٹے شبیر حسین گاسی کو یاد کرتے کرتے وفات پاگئیں،جسے بھارتی فوجیوں نے 21جنوری 2000ء گرفتارکیاتھا۔حمیدہ پروین اپنے بیٹے کو اس امید میں ہرجگہ تلاش کرتی رہیں کہ ایک دن ان کا بیٹا واپس آئے گا بیٹا واپس تو نہ آیا البتہ وہ خود 2012ء میں انتقال کرگئیں۔ ان کا بیٹا عابد حسن ایک طالب علم تھا۔
راج باغ سرینگر سے تعلق رکھنے والی زونہ بیگم کے بیٹے کو مئی 1996ء میں بھارتی فورسز نے گھرپر چھاپے کے دوران گرفتار کیا تھا۔ ان کابیٹا امتیاز احمد محکمہ جنگلات میں کام کرتا تھا۔ زونہ اپنے بیٹے کا انتظارکرتے کرتے 2011ء میں اس دنیا سے کوچ کرگئیں۔
بٹہ مالو سرینگر کی حلیمہ بیگم فروری2010 میں انتقال کرگئیں۔وہ اپنے بیٹے بشارت احمد شاہ کو 24سال تک تلاش کرتی رہیں۔ بشارت علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کررہا تھا۔ اس کو بھارتی پیرا ملٹری سینٹرل ریزرو پولیس فورس نے 7جنوری 1990ء کو سوپور سے گرفتار کیا تھا۔
