وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے جمعے کی شب سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ملاقات کی ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان کئی معاہدوں پر بھی دستخط ہوئے ہیں جبکہ دیگر اہم علاقائی امور پر تبادلہ خیال بھی کیا گیا۔ سعودی خبر رساں ادارےایس پی اے کے مطابق سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور وزیراعظم پاکستان عمران خان نے قصر السلام جدہ کے ایوان شاہی میں مذاکرات کیے جن میں پاکستان اور سعودی عرب کے دو طرفہ تعلقات کے استحکام کے موضوع پر بات چیت کی گئی۔ سعودی پاکستانی اعلیٰ رابطہ کونسل کے معاہدے پر دستخط کیے گئے جبکہ دونوں رہنماؤں کی موجودگی میں پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان دو معاہدوں اور دو مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط بھی کیے گئے ہیں۔ قبل ازیں وزیراعظم پاکستان عمران خان سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی دعوت پر تین روزہ سرکاری دورے پر جمعے کی شب سعودی عرب پہنچے تھے۔ پاکستانی سفارتخانے کے مطابق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے ایئرپورٹ پر وزیر اعظم کا استقبال کیا۔مذاکرات کے دوران پاکستان اور سعودی عرب کے گہرے تعلقات تعاون کا دائرہ وسیع کرنے کی اہمیت، تعاون بڑھانے اور مختلف شعبوں میں دو طرفہ یکجہتی کو فروغ دینے پر زور دیا گیا جبکہ دونوں ملکوں کی دلچسپی کےعلاقائی و بین الاقوامی امور و مسائل پر امن و استحکام کے فروغ کے حوالے سے نکتہ ہائے نظر کا تبادلہ کیا گیا ہے۔
دونوں ممالک کے مابین گزشتہ برس شاہ محمود قریشی کے بیان سے کشیدگی پیدا ہوگئی تھی جسکے جواب میں قرض پر ملنے والے تیل سے محروم ہونا پڑا۔ اور ساتھ ہی خصوصی طور سے عبوری قرض کے طور پر دیے گئے دو ارب ڈالر بھی فوری طور سے واپس مانگ لئے گئے تھے۔ اس ناگہانی صورت حال میں پاکستان کو چین سے مہنگے سود پر قرض لے کر سعودی ڈالر واپس کرنا پڑے تھے اور پاکستانی وزیر اور سفارت کار یہ وضاحتیں دیتے رہے تھے کہ سعودی عرب کو بھی کورونا وائرس اور تیل کی عالمی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے مالی مشکلات درپیش ہوں گی۔ دو ملکوں کے درمیان قرض واپس طلب کرلینا معمول کی بات ہے۔ تاہم پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کی نوعیت کے پیش نظر یہ ہرگز معمول کی بات نہیں تھی کیوں کہ عام طور سے سعودی عرب پاکستان کو جو قرض دیتا ہے، نہ صرف اس کی مدت میں توسیع کردی جاتی ہے بلکہ اکثر صورتوں میں اسے گرانٹ میں تبدیل کر کے ’معاف‘ بھی کر دیا جاتا ہے۔ اسی قسم کی سہولت گزشتہ دنوں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے متحدہ عرب امارات سے بھی حاصل کی ہے جس نے پاکستان کے زر مبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنے کے لئے تین ارب ڈالر فراہم کیے ہوئے ہیں اور اب اس مدت میں توسیع پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
اس پس منظر میں دونوں ملکوں کے درمیان سپریم رابطہ کونسل کا قیام ان معنوں میں تو امید افزا ہے کہ ابھی تک دونوں ممالک اقتصادی تعاون پر راضی ہیں اور سعودی عرب نے پاکستان میں سرمایہ کاری سے دست کش ہونے کا فیصلہ نہیں کیا لیکن ان وعدوں پر عمل درآمد کا کوئی ٹائم فریم اور لائحہ عمل سامنے نہ ہونے کی وجہ سے ابھی تک یہ غیر واضح ہے کہ محض رابطہ کونسل کا قیام کس حد تک مالی مشکلات میں گھرے پاکستان کی مدد کرسکے گا۔ یہ ممکن ہے کہ اس سلسلہ میں بین السطور کچھ افہام و تفہیم ہوئی ہو اور آنے والے دنوں میں سعودیہ سے کچھ مالی امداد فراہم ہونے کی خبریں بھی موصول ہوں۔ عمران خان اور شہزادہ محمد بن سلمان کے درمیان ملاقات اور اعلیٰ سطحی رابطہ کے بعد یہ امید ضرور پیدا ہوئی ہے کہ پاک سعودی تعلقات میں پڑنے والی دراڑ کو کسی حد تک پاٹنے کی کوشش کی گئی ہے۔ مبصرین اسے یوں بیان کرتے ہیں کہ دونوں ملک نئے حالات میں اپنی پوزیشن پر قائم رہتے ہوئے ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات کو نئی شکل دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
پاکستان کے وزیرِ اعظم اور فوج کے سربراہ کا بیک وقت سعودی عرب کا دورہ کرنا خطے میں بدلتی ہوئی حالت میں زیادہ اہمیت کا حامل بن گیا ہے، لیکن ماہرین کا خـیال ہے کہ سٹریٹیجک معاملات میں دونوں کی پالیسیوں میں شاید ہی تبدیلی آئے، البتہ دونوں اب اپنے تعلقات کو ‘ری سیٹ’ (دوبارہ سے ترتیب) دینے کے لیے تیار نظر آتے ہیں۔ خطے کے امور سے واقف تجزیہ کاروں کا یہ بھی خیال ہے کہ امریکہ میں جو بائیڈن کی نئی انتظامیہ کا ایران سے جوہری منصوبے پر کیے گئے معاہدے کی کسی نئی صورت میں بحالی پر بات چیت اور چین کی ایران میں چار سو ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کا منصوبہ سعودی پالیسی میں تبدیلی کا سبب بنا ہے۔ پاکستان میں سرکاری حلقوں کا خیال ہے کہ وزیرِ اعظم عمران خان کے اس دورے میں وہ سعودی عرب کو چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) میں شمولیت کے حوالے سے ، سعودی عرب کے ایران کے ساتھ تعلقات کی بہتری کے لیے مدد اور گوادر میں آئل ریفائنری پر پیش رفت پر بات چیت کی گئی۔ یہاں یہ امر سب سے زیادہ اہم ہے کہ سعودی عرب چاہتا ہے کہ پاکستان ایران کے حوالے سے دونوں ممالک کے مابین مسائل کے حل کے لیے بنیادی کردار ادا کرے۔ اور پھر اس کے ساتھ ساتھ ایک اور اہم ترین مرحلہ امریکہ کا افغانستان سے انخلا ہے اور سعودی عرب اس موقع پر طالبان کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے پاکستان کی مدد چاہتا ہے۔
یہ دورہ سعودی عرب کی ماضی قریب میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر بہت زیادہ انحصار کرنے کے بعد روایتی سعودی پالیسی کی طرف واپسی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق، اس کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے ساتھ محمد بن سلمان اپنے آپ کو نظرانداز ہوتا ہوا محسوس کر رہے ہیں اور ان کو اپنے آپ کو اہم بنانے کے لیے اس خطے کے اہم کرداروں سے تعلقات بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔اس دوران سعودی عرب کے لیے افغانستان میں امریکہ کی فوجوں کے انخلا کے بعد جو نظام قائم ہوتا نظر آرہا ہے اُس میں بھی اپنے ایک کردار کا تعین کروانا ہے، یعنی سعودی عرب افغانستان کی تعمیرِ نو میں کس طرح کی اور کس طرح اقتصادی تعاون کرے گا۔ اس لحاظ سے سعودی عرب جو محمد سلمان کی حالیہ پالیسیوں کی وجہ سے اب اپنے آپ کو غیر متعلقہ محسوس کر رہا ہے، وہ واپس کس طرح اس خطے میں جنگوں کی قیادت کرنے کے بجائے ایک ‘پیس میکر’ کے طور پر مثبت کردار ادا کرنے کی کوشش میں پاکستان کے تعاون کا خواہاں ہے۔
