اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے عید الفطر کے روز بھی غزہ میں بلند و بالا عمارتوں اور دیگر مقامات پر مزید فضائی حملے کیے، جس کے نتیجے میں پیر سے اب تک جاں بحق افراد کی تعداد 83 تک پہنچ گئی ہے جس میں 17 بچے بھی شامل ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق پیر کی رات سے شروع ہونے والے فضائی حملوں میں غزہ کی وزارت صحت کے مطابق 17 بچوں سمیت 83 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں اور 480 سے زائد فلسطینی زخمی ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ متعدد مقامات سے اسرائیل کی جانب سے سیکڑوں راکٹ فائر کیے گئے جس کے نتیجے میں 7 اسرائیلیوں کے ہلاک اور متعدد کے زخمی ہونے کا دعیویٰ کیا گیا ہے۔
اسرائیلی فوج نے بتایا کہ انہوں نے غزہ کے مشرقی علاقوں کے قریب فوج کو تعینات کردیا ہے۔
دوسری جانب اسرائیل کے اندر متعدد شہروں میں بھی یہودیوں اور فلسطینیوں کے درمیان پُرتشدد تصادم کی خبریں سامنے آئی ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق غزہ کے میڈیکل ورکرز کا کہنا تھا کہ تازہ فضائی حملوں میں اسرائیل نے غزہ کے مرکزی علاقے میں 6 منزلہ عمارت کو تباہ کردیا۔
علاوہ ازیں اسرائیلی فورسز کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس کے مشرقی علاقے جراح اور بعد ازاں غزہ میں فلسطینیوں پر کیے جانے والے حالیہ حملوں کے بعد یہودیوں اور عرب اقلیت کے درمیان تشدد کی نئی لہر اسرائیل کے دیگر شہروں تک پھیل گئی ہے۔
غزہ میں طبی ماہرین کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس وبا کے دوران پہلے سے ہی شدید دباؤ کا شکار ہسپتالوں کو مزید مشکلات کا سامنا ہے۔
اسرائیل نے غزہ کی سرحد کے ساتھ فوج تعینات کردی ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ وہ ‘زمینی کارروائیوں کی تیاری کے مختلف مراحل’ میں ہے۔
ایک فوجی ترجمان نے کہا کہ یہ اقدام 2014 اور اس سے قبل 2008-2009 میں اسرائیل کے غزہ میں حملوں کی یاد کو تازہ کرے گا۔
لیفٹیننٹ کرنل جوناتھن کونریکس نے کہا کہ ‘چیف آف اسٹاف ان تیاریوں کا معائنہ کر رہے ہیں اور رہنمائی فراہم کر رہے ہیں’۔
غزہ میں صحت حکام نے بتایا کہ وہ راتوں رات متعدد افراد کی اموات کی تحقیقات کر رہے ہیں جو مبینہ طور پر زہریلی گیس کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔
انہوں نے بتایا کہ لاشوں سے حاصل کیے جانے والے نمونوں کی جانچ کی جارہی ہے اور ان کے پاس ابھی کوئی حتمی نتیجہ سامنے نہیں آیا ہے۔
جہاں ایک جانب اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان تشدد مزید بے قابو ہونے کے خطرات منڈلارہے ہیں وہیں واشنگٹن نے اسرائیل اور فلسطینیوں کے ساتھ بات چیت کے لیے ایک ایلچی، ہیڈی امر کو بھیجنے کا منصوبہ بنایا ہے۔
امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ لڑائی ‘بہت جلد ختم ہوجائے گی’،ایک برطانوی وزیر نے اسرائیل اور حماس پر زور دیا کہ وہ اس تصادم سے ‘ پیچھے ہٹیں’۔
اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نتن یاہو نے ‘حماس اور کی فوجی صلاحیتوں اور غزہ کی دیگر تنظیموں پر حملے جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
واضح رہے کہ حماس کو امریکا اور اسرائیل ایک دہشت گرد گروہ کے طور پر مانتے ہیں۔
حماس کے رہنما اسمعٰیل ہانیہ کا کہنا تھا کہ ‘دشمن کے ساتھ محاذ آرائی کھلی ہوئی ہے’۔
فلسطینیوں پر اسرائیلی حملے
خیال رہے کہ رمضان المبارک کے آغاز سے ہی مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) میں اسرائیلیوں کی جانب سے فلسطینیوں پر حملوں اور دیگر پرتشدد کارروائیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا جبکہ اس دوران دنیا کے 3 بڑے مذاہب کے لیے انتہائی مقدس شہر میں کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس پر پاکستان نے شدید مذمت بھی کی ہے۔
مقبوضہ بیت المقدس میں جمعہ (7 مئی) سے جاری پرتشدد کارروائیاں سال 2017 کے بعد بدترین ہیں جس میں یہودی آبادکاروں کی جانب سے مشرقی یروشلم میں شیخ جراح کے علاقے سے متعدد فلسطینی خاندانوں کو بے دخل کرنے کی طویل عرصے سے جاری کوششوں نے مزید کشیدگی پیدا کی۔
یہ ایک ایسا علاقہ ہے جہاں ایک طویل عرصے سے جاری قانونی کیس میں متعدد فلسطینی خاندان کو بے دخل کیا گیا ہے، اس کیس میں فلسطینیوں کی جانب سے دائر اپیل پر پیر (10 مئی) کو سماعت ہونی تھی جسے وزارت انصاف نے کشیدگی کے باعث مؤخر کردیا تھا۔
اسرائیلی فورسز کی جانب سے فلسطینیوں پر حالیہ حملے 7 مئی کی شب سے جاری ہیں جب فلسطینی شہری مسجد الاقصیٰ میں رمضان المبارک کے آخری جمعے کی عبادات میں مصروف تھے اور اسرائیلی فورسز کے حملے میں 205 فلسطینی زخمی ہوگئے تھے۔
جس کے اگلے روز 8 مئی کو مسجدالاقصیٰ میں دوبارہ عبادت کی گئی لیکن فلسطینی ہلالِ احمر کے مطابق بیت المقدس کے مشرقی علاقے میں اسرائیلی فورسز نے پرتشدد کارروائیاں کیں، جس کے نتیجے میں مزید 121 فلسطینی زخمی ہوئے، ان میں سے اکثر پر ربڑ کی گولیاں اور گرنیڈز برسائے گئے تھے جبکہ اسرائیلی فورسز کے مطابق ان کے 17 اہلکار زخمی ہوئے۔
بعدازاں 9 مئی کو بھی بیت المقدس میں مسجد الاقصٰی کے قریب ایک مرتبہ پھر اسرائیلی فورسز کی پُر تشدد کارروائیوں کے نتیجے میں سیکڑوں فلسطینی زخمی ہوئے۔
10 مئی کی صبح اسرائیلی فورسز نے ایک مرتبہ پھر مسجد الاقصیٰ کے قریب پرتشدد کاررائیاں کیں، جس کے نتیجے میں مزید 395 فلسطینی زخمی ہوئے تھے جن میں سے 200 سے زائد کو علاج کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔
اسرائیلی فوج کے حملے کے نتیجے میں 300 فلسطینی شہریوں کے زخمی ہونے کے بعد حماس نے اسرائیل میں درجنوں راکٹس فائر کیے تھے جس میں ایک بیرج بھی شامل تھا جس نے بیت المقدس سے کہیں دور فضائی حملوں کے سائرن بند کردیے تھے۔
اسرائیل نے راکٹ حملوں کو جواز بنا کر جنگی طیاروں سے غزہ پر حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں حماس کے کمانڈر سمیت 25 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔
بعد ازاں 11 مئی کی شب بھی اسرائیلی فضائیہ نے ایک مرتبہ پھر راکٹ حملوں کو جواز بنا کر غزہ میں بمباری کی جس کے نتیجے میں 13 بچوں سمیت جاں بحق افراد کی تعداد 43 تک پہنچ گئی، یہ راکٹ حملے بھی حماس کی جانب سے کیے گئے تھے جس میں 5 اسرائیلیوں کے ہلاک اور متعدد کے زخمی ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔
غزہ کی وزارت صحت نے 12 مئی کو صورت حال سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی فضائی کارروائیوں میں جاں بحق افراد کی تعداد 48 ہوگئی ہے جن میں 14 بچے شامل ہیں اور زخمیوں کی تعداد 300 سے زائد ہوگئی ہے۔
دوسری جانب 6 اسرائیلی بھی ہلاک ہوئے جبکہ غزہ سے تقریباً1500 راکٹ فائر کیے گئے اور اسرائیل میں مختلف مقامات نشانہ بنائے گئے۔
اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق کے مطابق 7 سے 10 مئی تک مشرقی بیت المقدس میں اسرائیلی فورسز کی پُرتشدد کارروائیوں میں ایک ہزار فلسطینی زخمی ہوچکے تھے۔
مشرق وسطیٰ میں امن عمل کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی رابطہ کار نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کے فضائی حملوں اور حماس کے راکٹ کی وجہ سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی صورتحال ‘وسیع پیمانے پر جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے’۔
اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں پر پرتشدد کارروائیوں کے بعد عالمی برداری کی جانب سے ان حملوں کی نہ صرف مذمت کی گئی بلکہ تحمل کا مظاہرہ کرنے کا مطالبہ بھی سامنے آیا۔
مشرق وسطیٰ میں سب سے زیادہ حساس تصور کیے جانے والی مسجد الاقصیٰ اس وقت سے تنازع کی زد میں ہے جب 1967 میں اسرائیل نے بیت المقدس کے مشرقی حصے پر قبضہ کر لیا تھا اور اسے بعد میں اسرائیل کا حصہ بنا لیا تھا، اسرائیلی پورے بیت المقدس کو اپنا دارالحکومت اور یہودیوں کے عقائد کا مرکز قرار دیتے ہیں لیکن فلسطینی اسے اپنی مستقبل کی ریاست کا دارالحکومت قرار دیتے ہیں۔
اسرائیل کی غزہ کے سرحدی علاقوں میں فوجی دستے بھیجنے کی تیاری

رمضان المبارک کے آخری عشرے میں بیت المقدس اورغزہ میں ہونے والی کشیدگی کے بعد اسرائیل نے فلسطین میں غزہ کے سرحدی علاقوں میں فوجی دستے بھیجنے کی تیار کرلی ہے۔
غیرملکی خبررساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق اسرائیلی فوج کے کرنل نے جنگی تیاروں سے متعلق تصدیق کی۔
اسرا ئیلی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل جوناتھن کونریکس نے کہا کہ اسرائیل نے غزہ کی سرحد کے لیے جنگی فوج کی تیاریاں مکمل کرلی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ‘اسرائیلی فوج زمینی کارروائیوں کی تیاری کے مختلف مراحل’ میں ہے۔
ترجمان اسرائیلی فوج نے کہا کہ چیف آف اسٹاف ان تیاریوں کا معائنہ اور رہنمائی فراہم کررہے ہیں۔
یاد رہے کہ اسرائیلی فورسز کے نہتے فلسطینیوں پر حملے کے بعد صورتحال کشیدہ ہوگئی ہے۔
اس سے قبل مشرق وسطیٰ میں امن عمل کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی رابطہ کار نے خبردار کیا تھا کہ اسرائیل کے فضائی حملوں اور حماس کے راکٹ کی وجہ سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی صورتحال ‘وسیع پیمانے پر جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے’۔
علاوہ ازیں عالمی برادری نے غزہ میں اسرائیل کے حملوں کے نتیجے میں بچوں سمیت سیکڑوں افراد کے جاں بحق اور ہزاروں کے زخمی ہونے کی شدید مذمت کرتے ہوئے فریقین سے تشدد میں کمی کا مطالبہ کیا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کے ترجمان نے کہا تھا کہ سیکرٹری جنرل کو غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں اور غزہ سے داغے گئے راکٹوں سے بچوں سمیت معصوم فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کی ہلاکت پر افسوس ہے۔
یورپی یونین کا کہنا تھا کہ اسرائیل پر فلسطینی راکٹ حملے سراسر ناقابل قبول ہیں اور انہوں نے تمام فریقین سے مطالبہ کیا کہ وہ اشتعال انگیزی کو ختم کریں تاکہ مزید شہری ہلاکتوں سے بچا جا سکے۔
بورس جانسن نے کہا کہ بڑھتے ہوئے تشدد اور شہری ہلاکتوں پر برطانیہ کو شدید تشویش ہے اور ہم کشیدگی میں فوری کمی دیکھنا چاہتے ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں وسیع پیمانے پر جنگ کے خطرات منڈلا رہے ہیں، اقوام متحدہ

مشرق وسطیٰ میں امن عمل کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی رابطہ کار نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کے فضائی حملوں اور حماس کے راکٹ کی وجہ سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی صورتحال ‘وسیع پیمانے پر جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے’۔
سماجی روابط کی ویب سائٹ پر ٹورویننس لینڈ نے کہا کہ ‘اس آگ کو فورا روکنا ہوگا کیونکہ ہم ایک وسیع پیمانے پر جنگ کے آغاز کی طرف بڑھ رہے ہیں’۔
اقوام متحدہ کے مندوب نے تمام فریقین کو عدم استحکام کی ذمہ داری قبول کرنے پر زور دیتے ہوئے مزید کہا کہ غزہ میں جنگ کی قیمت تباہ کن ہے اور اس کے نتائج عام لوگ ادا کررہے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ اقوام متحدہ امن کی بحالی کے لیے تمام فریقوں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے اور اب یہ تشدد بند ہونا چاہیے۔
اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی امور (او سی ایچ اے) نے بریفنگ میں کہا کہ اقوام متحدہ اسرائیل اور مقبوضہ فلسطینی علاقے میں تشدد کے پھیلنے پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے اور ‘بچوں اور عام فلسطینی شہریوں کی پریشان کن تصاویر منظر عام پر آرہی ہیں’۔
اقوام متحدہ کی ایجنسی یو این آر ڈبلیو اے جو مشرق وسطی میں فلسطینی مہاجرین کی مدد کرتی ہے، نے بچوں پر اسرائیلی فوجیوں کے مظالم کے اثرات پر ‘گہری تشویش’ کا اظہار کیا اور فریقین سے زیادہ سے زیادہ پرسکون رہنے کا مطالبہ کیا۔
یو این آر ڈبلیو اے نے ایک بیان میں کہا کہ بچوں کو بین الاقوامی قانون کے تحت ان کی حفاظت کی جانی چاہیے اور ان کی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کرنے والے ذمہ داروں کو واضح شواہد کی بنیاد پر مکمل طور پر جوابدہ ہونا چاہیے۔
او سی ایچ اے نے یہ بھی کہا کہ خطے میں اسرائیل کی جانب سے بڑھتی ہوئی کشیدگی سے ‘پہلے ہی کی ناقص انسان دوست’ کی حالت خراب ہونے کا خطرہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ خاص طور پر غزہ میں جہاں صحت کے شعبے کو کووڈ 19 وبائی امراض کا سامنا ہے۔
اس میں کہا گیا کہ فوری طور پر تشویش کی بات یہ ہے کہ غزہ کا واحد پاور پلانٹ اس ہفتے کے آخر تک ایندھن کی کمی کی وجہ سے بند ہوجائے گا جس سے اہم خدمات کی فراہمی کے منفی نتائج برآمد ہوں گے۔
خیال رہے کہ 7 مئی کو مقبوضہ بیت المقدس میں مسجد الاقصیٰ میں دوران عبادت رات کے وقت اسرائیلی فورسز کے حملے میں 205 فلسطینی زخمی ہوگئے تھے۔
بعدازاں 9 مئی کو بھی بیت المقدس میں مسجد اقصٰی کے قریب ایک مرتبہ پھر اسرائیلی فورسز کی پُر تشدد کارروائیوں کے نتیجے میں سیکڑوں فلسطینی زخمی ہوگئے۔
مسجد الاقصیٰ میں اسرائیلی فوج کے حملے کے نتیجے میں سیکڑوں فلسطینی شہریوں کے زخمی ہونے کے بعد حماس نے اسرائیل میں درجنوں راکٹس فائر کیے تھے جس میں ایک بیرج بھی شامل تھا جس نے مقبوضہ بیت المقدس سے کہیں دور فضائی حملوں کے سائرن بند کردیے تھے۔
اسرائیل نے راکٹ حملوں کو جواز بنا کر جنگی طیاروں سے غزہ پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں حماس کے کمانڈر سمیت 25 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔
اسرائیل کی جانب سے خان یونس، البوریج کیمپ اور الزیتون کے علاقوں کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔
اسرائیلی حملوں سے متعلق فلسطینی محکمہ صحت نے بتایا تھا کہ اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والوں میں 9 بچے بھی شامل ہیں جبکہ 106 افراد زخمی ہوئے ان میں سے زیادہ تر بچے آپس میں رشتہ دار ہیں۔
علاوہ ازیں غزہ پر اسرائیلی بمباری تاحال جاری ہے اور خبر فائل ہونے تک 13 بچوں سمیت جاں بحق فلسطینیوں کی تعداد 43 ہوگئی تھی۔
مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) میں جمعہ (7 مئی) سے جاری پرتشدد کارروائیاں سال 2017 کے بعد بدترین ہیں جس میں یہودی آبادکاروں کی جانب سے مشرقی یروشلم میں شیخ جراح کے علاقے سے متعدد فلسطینی خاندانوں کو بے دخل کرنے کی طویل عرصے سے جاری کوششوں نے مزید کشیدگی پیدا کی۔
اس کیس میں فلسطینیوں کی جانب سے دائر اپیل پر پیر کو سماعت ہونی تھی جسے وزارت انصاف نے کشیدگی کے سبب مؤخر کردیا تھا۔
عالمی برادری فلسطینیوں پر اسرائیلی تشدد کے خلاف ہم آواز

عالمی برادری نے غزہ میں اسرائیل کے حملوں کے نتیجے میں بچوں سمیت 56 افراد کے جاں بحق اور سیکڑوں افراد کے زخمی ہونےکی شدید مذمت کرتے ہوئے فریقین سے تشدد میں کمی کا مطالبہ کیا ہے۔
خبر ایجنسی رائٹرز کے مطابق اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی پر سیکڑوں فضائی حملے کیے جبکہ فلسطینیوں کی جانب سے بھی ایک ہزار سے زیادہ راکٹ فائر کیے گئے جس کے نتیجے میں دونوں فریقین کے درمیان 7 سال کے بعد بدترین تشدد نے جنم لیا ہے۔
اقوام متحدہ اور دیگر اداراں سمیت کئی ممالک کے رہنماؤں نے تشدد کی مذمت کرتے ہوئے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس
انتونیو گوتریس کے ترجمان نے کہا کہ سیکرٹری جنرل کو غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں اور غزہ سے داغے گئے راکٹوں سے بچوں سمیت معصوم فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کی ہلاکت پر افسوس ہے۔
سیکریٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے کہا کہ اسرائیلی سیکیورٹی فورسز کو تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور اپنی طاقت کے استعمال کے عمل کو جانچنا چاہیے، اسرائیلی آبادی کے مراکز کی جانب اندھا دھند راکٹ اور مارٹر فائر کیا جانا ناقابل قبول ہے۔
امریکا
وائٹ ہاؤس کی ترجمان جین پساکی نے کہا کہ اسرائیل کا یہ جائز حق ہے کہ وہ حماس کے راکٹ حملوں سے اپنا دفاع کرے لیکن مقبوضہ بیت المقدس(یروشلم) کو باہمی احترام کا حامل مقام ہونا چاہیے، صدر جو بائیڈن اسرائیل کی سلامتی کے ساتھ ساتھ وہاں کے عوام کے جائز حق کے دفاع کی حمایت پر کبھی بھی نہیں ڈگمگائیں گے۔
یورپی یونین
یورپی یونین کا کہنا تھا کہ اسرائیل پر فلسطینی راکٹ حملے سراسر ناقابل قبول ہیں اور انہوں نے تمام فریقین سے مطالبہ کیا کہ وہ اشتعال انگیزی کو ختم کریں تاکہ مزید شہری ہلاکتوں سے بچا جا سکے۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزیپ بوریل نے مشرقی یروشلم سے فلسطینی خاندانوں کی بے دخلی کی بھی مذمت کرتے ہوئے انہیں غیر قانونی قرار دیا اور کہا کہ اس اقدام سے صرف تناؤ میں اضافہ ہوا ہے۔
برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن
بورس جانسن نے کہا کہ بڑھتے ہوئے تشدد اور شہری ہلاکتوں پر برطانیہ کو شدید تشویش ہے اور ہم کشیدگی میں فوری کمی دیکھنا چاہتے ہیں۔
جرمنی کے وزیر خارجہ ہیکو ماس
جرمن وزیر خارجہ نے کہا کہ اسرائیل پر راکٹ حملہ بالکل ناقابل قبول ہے اور اسے فوری طور پر ختم ہونا چاہیے، اسرائیل کو اس صورتحال میں اپنے دفاع کا حق حاصل ہے، تشدد میں اضافے کو نہ تو برداشت کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی قبول کیا جاسکتا ہے۔
عرب لیگ
عرب لیگ کے سربراہ احمد ابوالغیط نے کہا کہ اسرائیلی فضائی حملے غیر ذمہ دارانہ ہیں، اسرائیل مقبوضہ بیت المقدس میں اشتعال انگیزی میں خطرناک حد تک اضافے کا ذمہ دار ہے اور انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ تشدد کو روکنے کے لیے فوری طور پر کردار ادا کرے۔
ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای
آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ صہیونی طاقت کی زبان کے سوا کچھ نہیں سمجھتے لہٰذا فلسطینیوں کو اپنی طاقت اور مزاحمت میں اضافہ کرنا چاہیے تاکہ وہ مجرموں کو ہتھیار ڈالنے اور مزاحمت پر مجبور کر سکیں۔
ترکی
ترکی کی وزارت خارجہ نے کہا کہ اسرائیلی حکومت کو آخر کار یہ سمجھنا چاہیے کہ وہ بلاامتیاز طاقت کا استعمال کرکے فلسطین کے عوام کے جائز حقوق اور مطالبات کو دبانے میں کامیاب نہیں ہو گی۔
اسلامی تعاون تنظیم
اسلامی تعاون تنظیم نے مقبوضہ بیت المقدس میں موجود فلسطین کے عوام کے غیرمتزلزل عزم اور استحکام اور مقدس مقامات پر اسرائیلی حملوں کے خلاف ان کے ردعمل کی تعریف کی۔
ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی
مشرق وسطیٰ کے ڈائریکٹر فبریزیو کاربونی نے کہا کہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین شہریوں کے خلاف بلااشتعال حملوں کی ممانعت کرتے ہیں، کسی بھی حملے کا ایک تناسب ہونا ضروری ہے اور شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے تمام ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں۔
ترکی،پاکستان کا فلسطین کےخلاف اسرائیلی حملے روکنے کیلئے عالمی برادری کو متحرک کرنے کا فیصلہ

وزیرِ اعظم عمران خان اور ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے اسرائیل کی جانب سے غزہ اور مسجد اقصیٰ میں مسلمانوں پر حملے کے معاملے پر عالمی برادری کو متحرک کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
وزیر اعظم آفس سے جاری ایک پریس ریلیز میں کہا گیا کہ وزیر اعظم خان کو ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کی جانب سے ٹیلی فون کال موصول ہوئی جس میں دونوں رہنماؤں نے اسرائیلی حملوں کو روکنے میں بالخصوص اقوام متحدہ اور بالعموم عالمی برادری کو مشترکہ طور پر متحد و متحرک کرنے کی کوشش کو جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
اعلامیے کے مطابق عمران خان اور طیب رجب اردوان نے اتفاق کیا کہ دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ بین الاقوامی سطح پر فلسطین کا معاملہ اٹھانے کے لیے مل کر کام کریں گے۔
دونوں رہنماؤں نے علاقائی سلامتی کی صورتحال پر بھی بات چیت کی۔
اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے ترکی کے کردار کو سراہتے ہوئے افغانستان سے غیر ملکی افواج کے ذمہ دارانہ انخلا کی اہمیت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان، افغانستان میں پائیدار امن و استحکام کے لیے سیاسی حل کے سلسلے میں کی جانے والی کوششوں کے ضمن میں ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا۔
دونوں رہنماوں نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا۔
انہوں نے اتفاق کیا کہ پاکستان اور ترکی کے درمیان اعلیٰ سطح پر روابط کا سلسلہ جاری رہے گا۔
علاوہ ازیں دونوں رہنماوں نے ایک دوسرے کو عید الفطر کی مبارکباد بھی دی۔
خیال رہے کہ چند روز پہلے وزیر اعظم خان نے شہریوں کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو کے دوران غزہ میں اسرائیل کے فضائی حملوں کی شدید مذمت کی تھی جس کے نتیجے میں بچوں سمیت متعدد بے گناہ فلسطینی جاں بحق اور زخمی ہوگئے تھے۔
انہوں نے فلسطینیوں کی بنیادی آزادیوں اور مسجد اقصیٰ پر حملوں اور فلسطینیوں پر پر بڑھتی ہوئی پابندیوں کو ایک ‘قابل مذمت کارروائی’ قرار دیا۔
خیال رہے کہ 7 مئی کو مقبوضہ بیت المقدس میں مسجد الاقصیٰ میں دوران عبادت رات کے وقت اسرائیلی فورسز کے حملے میں 205 فلسطینی زخمی ہوگئے تھے۔
بعدازاں 9 مئی کو بھی بیت المقدس میں مسجد اقصٰی کے قریب ایک مرتبہ پھر اسرائیلی فورسز کی پُر تشدد کارروائیوں کے نتیجے میں سیکڑوں فلسطینی زخمی ہوگئے۔
مسجد الاقصیٰ میں اسرائیلی فوج کے حملے کے نتیجے میں سیکڑوں فلسطینی شہریوں کے زخمی ہونے کے بعد حماس نے اسرائیل میں درجنوں راکٹس فائر کیے تھے جس میں ایک بیرج بھی شامل تھا جس نے مقبوضہ بیت المقدس سے کہیں دور فضائی حملوں کے سائرن بند کردیے تھے۔
اسرائیل نے راکٹ حملوں کو جواز بنا کر جنگی طیاروں سے غزہ پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں حماس کے کمانڈر سمیت 25 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔
اسرائیل کی جانب سے خان یونس، البوریج کیمپ اور الزیتون کے علاقوں کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔
اسرائیلی حملوں سے متعلق فلسطینی محکمہ صحت نے بتایا تھا کہ اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والوں میں 9 بچے بھی شامل ہیں جبکہ 106 افراد زخمی ہوئے ان میں سے زیادہ تر بچے آپس میں رشتہ دار ہیں۔
علاوہ ازیں غزہ پر اسرائیلی بمباری تاحال جاری ہے اور خبر فائل ہونے تک 13 بچوں سمیت جاں بحق فلسطینیوں کی تعداد 43 ہوگئی تھی۔
مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) میں جمعہ (7 مئی) سے جاری پرتشدد کارروائیاں سال 2017 کے بعد بدترین ہیں جس میں یہودی آبادکاروں کی جانب سے مشرقی یروشلم میں شیخ جراح کے علاقے سے متعدد فلسطینی خاندانوں کو بے دخل کرنے کی طویل عرصے سے جاری کوششوں نے مزید کشیدگی پیدا کی۔
اس کیس میں فلسطینیوں کی جانب سے دائر اپیل پر پیر کو سماعت ہونی تھی جسے وزارت انصاف نے کشیدگی کے سبب مؤخر کردیا تھا۔
منبع: ڈان نیوز
