English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

بھارت: ہسپتال میں جنسی زیادتی کی شکار کووڈ مریضہ کی موت

After the woman narrated her ordeal to the doctor, a case was registered at the Nishatpura police station (Representative Image).

بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں بھوپال میموریل ہاسپیٹل اینڈ ریسرچ سینٹر (بی ایم ایچ آر سی)کے حکام نے جنسی زیادتی کے چوبیس گھنٹے کے اندر ہی ایک کووڈ مریضہ کی موت کے واقعے اور ملزم کی گرفتاری کے تقریباً ایک ماہ سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے بعد اب جا کر اس انسانیت سوز واقعے کا اعتراف کیا ہے۔

پولیس کے مطابق کووڈ انیس سے متاثرہ ایک 43 سالہ خاتون کو گزشتہ چھ اپریل کو بی ایم ایچ آر سی میں داخل کرایا گیا تھا۔ انہوں نے ایک وارڈ بوائے کے ذریعہ جنسی زیادتی کے بارے میں ہسپتال کی انتظامیہ کو شکایت کی اور ملزم کی شناخت بھی کرلی۔

پولیس کے مطابق جنسی زیادتی کا شکار ہونے کے بعدمریضہ کی حالت بگڑ گئی اور انہیں وینٹی لیٹر پر منتقل کرنا پڑا لیکن چند گھنٹوں کے اندر کی ان کی موت ہو گئی۔

سینیئر پولیس افسر ارشاد ولی کے مطابق متاثرہ خاتون کی شکایت کی بنیاد پر پولیس نے معاملہ درج کرکے ملزم سنتوش اہیروار نامی وارڈ بوائے کو گرفتار کر لیا۔ وہ فی الحال بھوپال سینٹرل جیل میں ہے۔

ارشاد ولی نے اس واقعے کے ایک ماہ گزر جانے کے بعد میڈیا کو اس کی اطلاع دینے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ متاثرہ خاتون نے اپنی شناخت اور اس واقعے کے بارے میں کسی کو نہیں بتانے کی درخواست کی تھی،”اس لیے تفتیشی ٹیم کے علاوہ کسی دوسرے کو اس کے بارے میں نہیں بتایا گیا تھا۔”

 ذرائع کا کہنا ہے کہ سنتوش اہیروار پر پہلے بھی ایک 24 سالہ نرس کے ساتھ جنسی زیادتی کا الزام ہے اور اس کے لیے اسے کچھ دنوں کے لیے ملازمت سے معطل بھی کر دیا گیا تھا۔

جنسی زیادتی کا شکار ہونے والی خاتون 1984کے بھوپال گیس سانحہ کی متاثرہ بھی تھیں۔ بھوپال گیس متاثرین کے لیے کام کرنے والی تنظیم نے مذکورہ واقعے پر ریاستی حکام کے نام ایک خط لکھ کر بی ایم ایچ آر سی میں کووڈ وارڈوں کی ابتر صورت حال کی جانب توجہ مبذول کرائی ہے۔

تنظیم نے لکھا ہے”بی ایم ایچ آر سی انتظامیہ نے اس انتہائی گھناؤنے اور مجرمانہ واقعے پر پردہ ڈالنے کے لیے اپنی پوری طاقت کا استعمال کیا حتی کہ جنسی زیادتی کی شکار خاتون کے گھر والوں کو بھی اس واقعے کی اطلاع نہیں دی گئی۔”

خط میں مزید کہا گیا ہے کہ بھوپال گیس سانحہ کے متاثرین کے کووڈ سے موت ہو جانے کا خدشہ عام مریضوں کے مقابلے میں سات گنا زیادہ ہے۔لیکن ہسپتال میں ایسے مریضوں کی مناسب دیکھ بھال کا کوئی انتظام نہیں ہے۔

بھوپال کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس نے ایک بیان جاری کرکے کہا ہے کہ متاثرہ خاتون نے ہسپتال انتظامیہ کو چھ اپریل کو ہی واقعے کی اطلاع دی تھی جس کے بعد ہسپتال نے پولیس کو آگاہ کیا تھا۔انہوں نے کہا،”واقعے کے بعد پولیس نے جنسی زیادتی کے دفعات کے تحت  کیس درج کیا اور ملزم کو چند گھنٹوں کے اندر ہی گرفتار کر لیا تھا۔اسے دوسرے دن عدالت میں پیش کیا گیا، جس کے بعد سے وہ جیل میں ہے اور پولیس اس کے خلاف قانونی کارروائی نیز متاثرہ کنبے کو انصاف دلانے کے لیے کوئی کسر باقی نہیں رکھے گی۔”

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے