
نئی دہلی (القمرآن لائن) بھارت کے ایک سینئرسائنسدان اور وائرالوجسٹ شاہد جمیل نے حکومت کی جانب سے کورونا وائرس کی اقسام کا پتہ چلانے کیلئے تشکیل دئے گئے سائنٹفک فورم کی سربراہی سے استعفی دے دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے استعفی کی وجوہات دینے کے پابند نہیں ہیں تاہم وہ کورونا سے نمٹنے حکومت کے اقدامات کو ناکافی قرار دیتے رہے ہیں۔ شاہد جمیل کا کہنا ہے کہ وہ اس بات پر فکرمند ہیں کہ حکومت پالیسی کو طے کرنے میں حقیقی امور پر توجہ نہیں دے رہی ہے ۔
ڈاکٹر جمیل نے حال ہی میں دی نیویارک ٹائمز میں ایک مضمون تحریر کیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ہندوستان میں سائنسدانوں کو "ثبوت پر مبنی پالیسی سازی کے حوالے سے شدید ردعمل کا سامنا ہے۔”انہوں نے ہندوستان کی COVID-19 مینجمنٹ ، خاص طور پر کم ٹیسٹنگ ، ویکسینیشن کی سست رفتار ، ویکسین کی قلت اور صحت کی دیکھ بھال کرنے والے عملے کی بڑی ضرورت کے معاملات کی نشاندہی کی تھی۔انہوں نے لکھا ، "ان تمام اقدامات کو ہندوستان میں میرے ساتھی سائنس دانوں کی وسیع حمایت حاصل ہے۔ لیکن وہ ثبوت پر مبنی پالیسی سازی کی مخالفت کا سامنا کر رہے ہیں۔”
القمرآن لائن کے مطابق ہندوستانی INSACOG ، SARS-CoV-2 جینیٹکس کنسورشیم کے ڈاکٹر جمیل نے ، مارچ کے اوائل میں ہی سرکاری عہدے داروں کو خبردار کیا تھا کہ ملک کو کورونا وائرس کے ایک نئے اور زیادہ متعدی میوٹینٹ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اس سے قبل ڈاکٹر جمیل نے رائٹرز کو بتایا تھا کہ انھیں خدشہ ہے کہ حکومت پالیسی مرتب کرتے وقت شواہد پر اتنی توجہ نہیں دے رہی ۔مرکزی حکومت کی طرف سے کورونا وائرس وبائی مرض سے نمٹنے میں وسیع پیمانے پر تنقید کی جارہی ہے ۔ صحت کی دیکھ بھال کا نظام درہم برہم ہو چکا ہے اور لوگ ہسپتالوں کے بیڈز ، آکسیجن اور علاج کے لئے بھیک مانگ رہے ہیں۔
