اسرائیل امریکہ اور مغربی دنیا مین تیزی سے عوامی حمایت کھو رہا ہے۔اسرائیل کے خلاف عوامی رائے میں تبدیلی خاص طور پر امریکہ یورپ میں، مشرق وسطی کے ممالک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا سکتی ہے۔ اسرائیل ایک طویل عرصے سےمغربی حکومتوں اور ان کی عوام کیجانب سےحمایت حاصل رہی ہے۔ حالیہ کشیدگی میں بہت ساری مغربی حکومتوں بنیادی طور پر امریکہ نے تل ابیب کی پشت پناہی کی ہے۔ تاہم اب یہ بات مغربی دنیا کے لیے ہرگز نہیں کہی جاسکتی کیونکہ امریکہ اور یورپی ممالک کے مختلف شہروں جیسا کہ لندن،برسلز، برلن ، میڈرڈ ، پیرس اور ڈبلن میں ہزاروں لوگ اسرائیل کے غزہ پر حالیہ حملے کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اسی طرح کینیڈا اور نیوزی لینڈ کے کئی شہروں میں اسرائیل کی حالیہ جارحیت کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں۔ ایک فلسطینی امریکی پروفیسر سمیع الآرائیں کا کہنا ہے کہ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ فلسطینی اس وقت تن تنہا مزاحمت کر رہے ہیں اور اس مزاحمت سے دنیا کے ضمیر کو اپنی تکالیف کے لیےجگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
آرائیں کا مزید کہنا تھا کہ آج ہم دنیا کے بہت سارے دارالحکومتوں میں تبدیلی دیکھ رہے ہیں خاص طور پر نوجوان طبقے کے مابین جو کہ اس صیہونی اپارتھائیڈ حکومت اور فلسطینیوں کی نسل کشی کو رد کر دیا ہے اور یہ بڑی امید افزا بات ہے میں امید کرتا ہوں کہ بالاخر فلسطینی عوام صیہونیوں کی نسل پرست پالیسیوں پر فتح حاصل کریں گے ۔ اسرائیلی جارحیت پر مسلسل مغربی حمایت اور فلسطینیوں کی نہ رکنے والی نسل کشی پر پوری دنیا کی جانب سے فلسطینی حمایت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اسرائیل ایک سخت گیر وزیر اعظم نتین یاہو کی سر براہی میں ایک بڑی حمایت سےمحروم ہو رہی ہے اور منصوبہ سازی کی قلت کا شکار ہے۔پرنسٹن یونیورسٹی میں بین الاقوامی قانون کے ماہر رچرڈ فالک نے اسرائیل کا سابقہ اپارتھائہڈ حکومت جنوبی افریقہ سے موازنہ کرتے ہوئے کہا نظریات کی جنگ میں شکست اسرائیل کے لیے ایک تباہ کن جھٹکا ثابت ہو سکتی ہے۔
فالک جنوبی افریقہ کی حالیہ اپارتھائیڈ ریاست کا حوالہ دیتے ہوئے ایک آرٹیکل میں لکھتے ہیں کہ اپارتھائیڈ کے ظالمانہ نظام کی مدد سے افریقی کی اکثریتی آبادی پر موثر کنٹرول ہونے کے باوجود، نسل پرست حکومت اندرونی مزاحمت اور بین الاقوامی دباو کے مشترکہ وزن کے نیچےدب کر پارہ پارہ ہوگئی۔ فالک نے یاد دلایا کہ اسرائیل بہت سارے حوالوں سے جنوبی افریقہ نہیں ہے تاہم گزشتہ ہفتوں میں فلسطینیوں کی مزاحمت اور ان کے ساتھ اظہار یکجہتی میں ڈرامائی انداز میں اضافہ ہوا ہے۔سابقہ سفید فام جنوبی افریقی رہنماوں کی طرح نتین یاہو جو کہ بدعنوانی کے کئی الزامات کا سامنا کر رہے ہیں وہ اس تناو میں اضافہ کر کے سیاسی مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ گزشتہ دو برسوں میں اسرائیل میں چار انتخابات ہو چکے ہیں مگر وہ دائیں بازو کی حکومت کے قیام کے لیے حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں جو اسرائیل کے اندرونی اختلافات کو ظاہر کرتا ہے۔ پروفیسر فالک کا کہنا تھا کہ اسرائیل پہلے ہی اخلاقی اور قانونی دلائل میں شکست کھا چکا ہے اور گزشتہ پانچ دہائیوں سے فلسطین کی مقدس سرزمین پر قابض ہونے کے باوجود بین الاقوامی برادری اس کے اقدامات کو غیر قانونی گردانتی ہے۔ اسی طرح اسرائیل کے لیے ایک او پریشان کن اشارہ بین الاقوامی کریمنل کورٹ کی جانب سے اسرائیل کے فلسطینیوں کے خلاف جنگی جرائم کی تفتیش بھی ہے۔
اگرچہ واشنگٹن اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کی جانب سے اسرائیلی اقدامات پر اسے مورد الزام ٹھہرانے کے عمل کو روک دیتا ہے تاہم بین الاقوامی ادارے کے پیچھے ایک مضبوط اخلاقی اکثریت موجود ہے جو اسرائیلی اقدامات کو غیر اخلاقی اور غیر قانونی قرار دیتی ہے۔ چند سال قبل بھی اقوام متحدہ نے ایک ایسی ہی رپورٹ جاری کی تھی جس کے مطابق اسرائیل نے فلسطین میں اپارتھائیڈ ریاست قائم کی ہوئی ہے اور فلسطینیوں کے خلاف جنگی جرائم کا مرتکب ہوا ہے ۔ اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ اسرائیل غیر انسانی سیاسی عمل کے ذریعے فلسطین میں یہودی اکثریت کے حصول کے لیے کوشاں ہے۔ اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کے علاقے شیخ جراح سے فلسطینیوں کی بے دخلی اس کا حالیہ مظاہرہ ہے۔ اس حوالے سے مہاتما گاندھی کا مشہور قول یاد رکھنا چایے کہ ” پہلے وہ تمہیں نظر انداز کرتے ہیں، پھر وہ تمہاری تذلیل کرتے ہیں ، پھر وہ تم سے جنگ کرتے ہیں اور پھر تم جیت جاتے ہو”۔
امریکہ میں اسرائیل اور فلسطین تنازعے کے بارے میں حالیہ برسوں میں بہت ساری چیزیں واضح ہوئی ہیں۔ اور مختلف پولز سے یہ بات پتا چلی ہے کہ ایک وقت میں جو امریکی عوام اسرائیل کی حمایت کرتی تھی وہ اب اسرائیل کو غاصب قوت سمجھتی ہے۔ ایک گیلپ سروے کے مطابق جو کہ دو ماہ قبل مارچ میں کیا گیا تھا سے پتا چلتا ہے کہ فلسطین کی حمایت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے جبکہ سابقہ برسوں میں اسرائیل کے ساتھ ہمدردی کہیں زیادہ تھی جو اب کم ہوکر فلسطینی حمایت میں بدل چکی ہے۔2019 میں ہونے والی ایک عوامی رائے کے مطابق 60 فیصد امریکی چاہتے ہیں کہ امریکہ اس تنازعے میں کسی بھی فریق کی حمایت نہ کرے۔ اسی طرح مارچ 2019 میں ہونے والے ایک سروے کے اعدادو شمار اسرائیل کے لیے پریشان کن ہیں کیونکہ اس کو ایک وقت میں امریکی عوام کی مکمل حمایت حاصل تھی۔یہ عوامی سروے امریکی عوام کے اسرائیل کی جانب رویے میں بڑی تبدیلی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ یہ پول یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ مستقبل میں امریکی جمہوریت پسند برابر کی تعداد میں اسرائیل اور فلسطین کے مسئلے پر تقسیم دکھائی دے رہے ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ جمہوریت پسند یہ چاہتے ہیں کہ امریکہ اس تنازعے کو غیر جانبدار رہ کر حل کرے۔ حالیہ امریکی انتخابات سے بھی ایسے اشارے ملے ہیں کہ جمہوریت پسند اسرائیل کی سیاست سے پریشان ہیں جس کی وجہ سے جمہوریت پسندوں کے اندر سے اسرائیل کے خلاف آوازیں اٹھنا شروع ہو گئی ہیں۔
منگل، 18 مئی 2021
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com
