صدارتی ترجمان ابراہیم قالن نے فلسطینی شہریوں کے خلاف اسرائیل کے تشدد سے متعلق امریکہ کے صدر رجب طیب اردوان کے بیانات پر ردعمل کا اظہار کیاہے۔
اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر اپنے بیان میں قالن نے اس بات پر زور دیا کہ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ترک قوم نے ہمیشہ ہی مظلوموں کے ساتھ دیا ہے۔اور کہا ہے کہ صدر ایردوان کسی بھی صورت اسرائیل کے مظلوم فلسطینیوں پر حملوں پر خاموشی اختیار نہیں کرسکتے۔
انہوں نے کہا کہ امریکی انتظامیہ نے اسرائیل کے جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی پامالیوں کو روکنے کے بجائے ہمارے صدر پر ، جو مظلوموں کے حقوق کا دفاع کرتے ہیں کے خلاف ناجائز الزامات لگانے میں مصروف ہے۔
انہوں نے کہا کہ پنے صدر کے مظلوم فلسطینی عوام کا ساتھ دینا اور اسرائیل کے قانونی اور غیر انسانی رویوں کو یہود ی دشمنی قرار دینا ایک افسوسناک نقطہ نظر ہے۔ ہر با ضمیر شخص فلسطین میں ہونے والے ظلم و ستم سے آگاہ ہے۔
ہم امریکی محکمہ خارجہ کے بیان کی مذمت اور ان کو مسترد کرتے ہیں ، جس کا حقیقت سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ یہودیوں کی نسل کشی اور ترکی میں یہودی برادری کے حقوق کے تحفظ دونوں پر ہمارے صدر کی حساسیت واضح ہے۔ اس کا سب سے بڑا گواہ ترکی میں یہودی برادری کے نمائندے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ "ہم امریکہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بے بنیاد الزامات لگانے کی بجائے فلسطین کے ساتھ اس کے غیر منصفانہ رویے کا محاسبہ کرے ۔
صدارتی اطلاعاتی مشیر فخر الدین آلتون نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر بیان دیا کہ صدر اردوان کے بارے میں امریکی بیان بالکل ناقابل قبول ہے
انہوں نے کہا کہ جو لوگ بچوں کے قتل کی مذمت کرنے کی ہمت اور شفقت نہیں رکھتے ہیں ان میں کسی کو بھی تعلیم دینے کا اخلاقی موقف نہیں ہے۔
جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کے ترجمان عمر چیلک نے کہا کہ امریکی محکمہ خارجہ نے صدر رجب طیب اردوان کو دیئے گئے بیان کی شدید مذمت کی ہے۔
اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر دیئے گئے ایک بیان میں چیلک نے کہا کہ صدر ایردوان پر یہودیتانٹی یہودی ازم کا الزام لگانا ایک غیر معقول اور غلط طریقہ ہے
امریکہ میں ترک یہودی برادری نے امریکی محکمہ خارجہ کے ایردوان کے یہودی مخالف بیانات بھی شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے ۔
