بھارت کے صوبی مغربی بنگال کے انتخابات کو نہ صرف وزیر اعظم نریندرا مودی کے حمایتیوں بلکہ دیگر جماعتوں اور تنظیموں نے بہت قریب سے جانچا۔ ان انتخابات کے نتائج نے پورے بھارت کو چونکا دیا جب ماماتا بنیر جی کی جماعت ٹرینامول کانگریش نے 2 مئی کو ملک کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کو بدترین شکست سے دوچار کر دیا۔ نتائج کا اعلان ہوتے ہی صوبے بھر میں پرتشدد ہنگامے پھوٹ پڑے اور کم از کم نو افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ دونوں جماعتوں نے اس تشدد کے لیے ایک دوسرے پر الزام تراشی کی تاہم سوشل میڈیا پر پیش کی جانے والی کہانیوں سے لگتا ہے کہ دونوں اطراف اس تشدد کی ذمہ دار تھیں۔ بی جے پی کی سوشل میڈیا ٹیم نے یہ ثابت کرنے کے لیے پورا زور لگایا کہ وہ اس تشدد کا شکار ہوئے ہیں کیونکہ وہ ہندو تھے اور مغربی بنگال میں صدارتی راج کے نفاذ کا مطالبہ کر رہے تھے۔ تشدد کے ان واقعات کے بعد بہت سارے لوگ ٹوئٹر پر آئین کی شق 356 کے تحت صدارتی راج نافذ کرنے کا مطالبہ کرتے دکھائی دیے۔
اسی طرح عوامی مفاد کے حق میں ایک درخواست سپریم کورٹ میں بھی دائر کی گئی جس کا مقصد صدارتی راج کا نفاذ ہے۔ تاہم ایسا لگتا ہے کہ سپریم کورٹ اس پٹیشن کو خارج کر دے گی کیونکہ وہ صدر کو اس طرح کے اقدام کے لیے ہدایات نہیں دے سکتی۔ یہ حقیقت ہے کہ صدارتی راج کے نفاذ کے تمام تر اختیارات صدر صاحب کے پاس ہیں جو اس حوالے سے گورنر کی رپورٹ کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہے۔ اگر صدر کو یہ درست لگتا ہے تووہ کابینہ کے اجلاس کی ہدایات جاری کرتا ہے اور ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کیا جاتا ہے۔ عدالت صدر کو ان اقدامات کے لیے مجبور نہیں کرسکتی۔ عدالت اپنے دائرہ اختیار سے باہر نہ تو حکومت کو کوئی ہدایت دے سکتی ہے اور نہ ہی کوئی حکم تاہم صدر صاحب عدالت کو اس حوالے سے باخبر کرسکتے ہیں لیکن اس کے برعکس عدالت صدر کو اس کام کا نہیں کہہ سکتی۔
تو پھر اس طرح کے مطالبے کا کیا مطلب ہے؟ خاص طور پر جب بات بھارت کے قانونی نظام اور اس کے آئین کی آجائے تو؟ صدارتی اختیار وہ آئینی طاقت ہے جو کہ انتظامیہ کے پاس ہے اور اس کی مدد سے ریاستی حکومتوں کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے اور پھر کچھ عرصہ کے لیے اس ریاست پر کچھ عرصہ کے لیے مرکزی حکومت کو نافذ کر دیا جاتا ہے، یہ تمام چیزیں بھارت کے آئین کی شق نمبر 352 تا 360 تک واضح کر دی گئی ہے؟ اس طرح کی شق انڈیا ایکٹ 1935 میں بھی موجود ہے اور اس کی موجودگی پر کئی مرتبہ بحث ہوچکی ہے کیونکہ اس طرح کی شق مرکزی حکومت کو لامحدود اختیار دیتی ہے کہ ریاستوں کو اقتدار سے الگ کر دے۔ 1949 میں ڈاکٹر امبیڈیکر سے پوچھا گیا کہ کیا مرکز کی گڈ گورننس کی چھتری تلے وہ مرکز کو ریاستوں کے معاملات میں مداخلت کی اجازت دیں گے تو انہوں نے جواب دیا ہرگز نہیں۔ مرکز کو یہ اختیار نہیں دیا جاسکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کی شق کو کبھی بھی عمل میں نہیں لایا جاسکتا اور اس کے الفاظ محض مردہ الفاظ ہیں۔ اور اگر کبھی ان کو استعمال میں لانا مقصود بھی ہو تو میں امید کرتا ہوں کہ صدر صاحب جو تمام تر اختیارات کے مالک ہیں اس حوالے سے ضروری حفاظتی تدابیر ضرور اختیار کریں گے۔ انہوں نے اس آرٹیکل کو حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا استعمال اسی وقت کرنا چاہیے جب ہر گز کوئی اور صورتحال نہ ہوا۔ آرٹیکل 352 کے مطابق یہ شق کسی بھی مسلح بغاوت کی صورت میں استعمال کی جائے گی ۔ اس شق کے مطابق جب تک تباہی اس طرح کی نہ ہو کہ اس سے ملک کی سلامتی کو خطرہ آرٹیکل نہیں لگایا جاسکتا۔ بھارتی عدالت نے ایک اہم فیصلے ایس آر بومی بمقابلہ یونین آف انڈیا میں اسی طرح کا مؤقف اختیار کیا جس میں سپریم کورٹ نے یہ حکم دیا کہ صدارتی حکم کے نفآز کے لیے اندرونی گڑ بڑ اس قدر ہو کہ ملک کو مکمل طور پر افراتفری کا شکار کردے۔
اس صورتحال میں ہم یہ پوچھ سکتے ہیں کہ کیا مغربی بنگال میں کیا صورتحال اس قدر خراب ہے کہ صدارتی راج نافذ کر دیا جائے۔ زندگیوں کا نقصان بلاشبہ افسوس ناک ہے لیکن یہ قتل عام آئینی مشینری کی ناکامی کی وجہ سے نہیں ہوا بلکہ پولیس اور مقامی انتظامیہ کی ناکامی کی وجہ سے ہوا ہے۔ الیکشن کمشنر سے بالکل یہ سوال پوچھا چاہیے کہ کیا صدارتی راج کے لیے تمام شرائط پوری ہیں؟ صدارتی راج کے نفاذ سے مغربی بنگال میں صورتحال شاید ہی بہتر ہو مگر اس سے مرکز ریاستوں کی خودمختاری ضرور ختم ہوجائے گی اور یہ جمہوری نظام کے لیے بھی ایک بہت بڑاجھٹکا ثابت ہوسکتا ہے۔ اگر مودی حکومت اس طرح کا قدم اٹھاتی ہے تو یہ بھارت کی متنوع فطرت کو بھی شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔
بدھ، 19 مئی 2021
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com
