English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ن سے ش اور پی ٹی آئی کی ٹی

القمر

 آخر کار جہانگیر ترین گروپ کا سر عام اعلان ہو ہی گیا اور وہ تمام خوش فہمیاں کہ ترین گروپ اور عمران خان میں بالآخر کوئی مفاہمت ہو ہی جانی ہے، دم توڑ گئیں۔  جہانگیر ترین گروپ میں اس وقت 30 اراکین ہیں اور اب اس گروپ نے اپنے قومی اور پنجاب کی صوبائی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈران کا بھی اعلان کر دیا ہے۔ یہ اہم اعلان جہانگیر ترین کی جانب سے اراکین اسمبلی کے اعزاز میں دیئے گئے عشائیے میں کیا گیا۔ ہم خیال گروپ نے راجہ ریاض کو قومی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر مقرر کر دیا ہے جبکہ سعید اکبر نوانی پنجاب اسمبلی میں قیادت کریں گے۔ رکن قومی اسمبلی راجہ ریاض کا کہنا ہے کہ مزید 8 رکن صوبائی اور قومی اسمبلی ہمارے ساتھ مل چکے ہیں لیکن ابھی ان کا نام سامنے نہیں لایا جائے گا۔ کچھ عرصہ قبل تک جہانگیر ترین عمران خان کے قریب ترین ساتھی تھے۔ ان کے جہازوں میں بھر کر آزاد امیدواروں کو پاکستان تحریکِ انصاف میں شمولیت کے لئے لایا جاتا تھا۔ اس وقت PTI کے سپورٹر انہیں بڑا پسند کرتے تھے۔ انہیں پیارے پیارے القابات دیتے تھے، عمران خان کا بہترین دوست کہا کرتے تھے۔  پھر وقت نے پلٹا کھایا۔ واقعہ کچھ یوں ہوا کہ عمران خان کا یہ قریبی دوست ان کی نئی اہلیہ بشریٰ بی بی کو پسند نہیں آیا۔ اپنے 9 اپریل 2020 کے بی بی سی کے لئے لکھے گئے کالم میں معروف صحافی سہیل وڑائچ نے لکھا کہ خان اور ترین کے درمیان فاصلے اس وقت بڑھے جب دونوں خاندانوں کی خواتین میں بن نہ سکی۔ اس کی ایک وجہ فرسٹ لیڈی کی روحانی کرامات کے حوالے سے ترین خاندان کی خواتین کی غیر محتاط گفتگو بھی بتائی جاتی ہے۔

مارچ 2018 میں انگریزی اخبار دی نیوز میں شائع ہونے والی عمر چیمہ کی ایک خبر کے مطابق جہانگیر ترین نے عمران خان کو ان کی شادی کی مبارکباد نہیں دی تھی جس کا عمران خان کو افسوس تھا۔ اس پر عمران خان ایک بار ان سے بات بھی کر چکے تھے۔ کچھ دنوں کے بعد عمران خان نے ایک مرتبہ پھر فون کرکے ترین سے شکایت کی کہ انہوں نے شادی پر مبارکباد نہیں دی اور پھر یہ بات کہی کہ یہ کام الیکشن میں کامیابی کیلئے کیا ہے۔ ترین کا کہنا تھا کہ کوئی ٹیلی فونک تبادلہ نہیں ہوا بلکہ انہوں نے مجھے میسیج بھیجا تھا۔ ’’چاہے جو بھی، یہ نجی میسیج تھا اور مستقبل کے الیکشنز کا کوئی ذکر نہیں ہوا تھا۔‘‘  بعد میں ترین کی بشریٰ بی بی کے ساتھ ولیمہ کے دوران بالمشافہ بات چیت ہوئی۔ تقریب میں شامل ایک شخص کے مطابق، جس وقت عمران خان اپنی بیگم کو مہمانوں سے ملوا رہے تھے اس وقت ترین کے ساتھ تعارف کے موقع پر بشریٰ بی بی کا کہنا تھا کہ ’’میں آپ کو بتانا چاہتی ہوں کہ میں کوئی جادوگرنی نہیں ہوں۔‘‘ ایک اندرونی ذریعے نے کہا کہ ترین کے ان کے بارے میں خیالات مختلف تھے اور بشریٰ چاہتی تھیں کہ انہیں اس بارے میں علم ہو کہ وہ جانتی ہیں۔ افواہیں گرم رہیں کہ جہانگیر ترین اور ان کی اہلیہ کی جانب سے کسی نجی محفل میں بشریٰ بیگم سے متعلق کچھ ایسی بات کی گئی تھی جو کسی طرح خاتون اول تک بھی پہنچ گئی۔  خیر، یہ سب تو ماضی کے قصے ہیں۔ اس وقت عمران خان کے جو سر پر آن پڑی ہے وہ تو یہ اراکین اسمبلی کی لمبی فہرست ہے جو قومی کے ساتھ ساتھ پنجاب کی صوبائی حکومت بھی گرانے کے لئے کافی ہے۔ وقت کی ستم ظریفی دیکھیے کہ جو جہانگیر ترین عمران خان کے لئے اراکین بھر کر لایا کرتے تھے، اب وہ اراکین بھر کر لے جا رہے ہیں۔ یہی ہوتا ہے جب آپ اپنی سیاست بینظیر بھٹو صاحبہ کے الفاظ میں چمک کی بنیاد پر اٹھاتے ہیں۔

اگرچہ خود جہانگیر ترین نے بھی بدھ کی صبح لاہور کی ایک عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم سب پی ٹی آئی کا حصہ تھے، ہم سب پی ٹی آئی کا حصہ ہیں اور ہم سب انشا اللہ پی ٹی آئی کا حصہ رہیں گےتاہم ایک پورے پریشر گروپ کی تشکیل اور پھر نامزدگیاں اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ وہ زیادہ دیر تک تحریک انصاف کا ساتھ نہیں دے پائیں گے۔ ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہمارا گروپ کل نہیں بنا بلکہ تین مہینے پہلے بنا تھا، یہ تاثر غلط ہے کہ یہ گروپ کل بنا۔  انہوں نے کہا کہ جب وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ جہانگیر ترین کے ساتھ کوئی انتقامی کارروائی نہیں ہوگی اور انصاف ملے گا تو مجھے ان پر پورا یقین تھا۔وزیر اعظم عمران خان انصاف پسند انسان ہیں اور انصاف کے تقاضے پورا کریں گے۔ جہانگیر ترین نے الزام لگایا کہ ‘اس کے بعد یہ ہوا کہ پنجاب حکومت نے میرے ساتھیوں کے ساتھ انتقامی کارروائیاں شروع کردیں۔ اس دباؤ کے پیش نظر میرے ساتھیوں نے فیصلہ کیا کہ پنجاب میں آواز اٹھائیں گے۔اس کی تمام تر ذمہ داری پنجاب حکومت پر تھی جو بالکل غلط رویہ تھا اور انہوں نے افسران کے تبادلے کرنا شروع کردیے تھے۔ جہانگیر ترین کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان کی پالیسی کے خلاف میرے ساتھیوں پر ڈباؤ ڈالا جارہا ہے اور صوبائی اسمبلی میں اس دباؤ کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے ضروری تھا کہ ہم ایک رکن صوبائی اسمبلی کو نامزد کرتے تاکہ وہ رہنمائی کریں۔ جہانگیر ترین نے کہا کہ یہ اتنی سے بات تھی لیکن میڈیا نے اسے ‘فارورڈبلاگ’ قرار دے دیا۔

اس کے بعد پی سے پارٹی کی باری ہے اورسب جانتے ہیں کہ جس طرح پارٹی کے غبارے میں ہوا بھری گئی تھی وہ آہستہ آہستہ نکلنا شروع ہو گئی ہے اور آئندہ انتخابات تک رہ جائے گی آئی اور آئی سے مطلب عمران خان ہیں جو واپس 2013 کی اسی پوزیشن پر چلے جائیں گے جہاں سے انہوں نے تبدیلی کا سفر شروع کیا تھا۔ کیونکہ آئندہ انتخابات میں دیگر تمام سیاسی جماعتوں کو  یقین دہانی کرا دی گئی ہے کہ ان کو فری اینڈ فیئر الیکشن ملے گا جو جیتے گا وہ حکومت بنائے گا۔ اس وعدے کے تناظر میں دیکھیں تو سندھ اور پنجاب میں تحریک انصاف کے ساتھ جو ہونا ہے وہ سنجیدہ سیاسی حلقے بہتر سمجھتے ہیں۔ مطلب یہ کہ اتنے شاندار اور زریں عہد حکمرانی کے بعد دوبارہ حکمرانی کا خواب کسی دیوانے کا خواب ہی ہو سکتا ہے۔ خیر اب تبدیلی کی حالت مزید دگرگوں ہوگی کیونکہ بلوچستان میں بھی ایک گروپ تحریک انصاف کو خیر باد کہننے کے لیے تیار بیٹھا ہے۔۔ یہ کیا ہوا کہ ن سے ش نکالتے نکالتے پی ٹی آئی کی ٹی نکل گئی۔

بدھ، 19 مئی 2021

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے