وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان انسانی ہمدردی کی بنیاد پر فلسطین کی طبی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے امداد بھیجے گا۔
اسلام آباد میں کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا کو آگاہ کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا کہ پاکستان وہ پہلا اسلامی ملک تھا جس نے فلسطین کے مسئلے پر سخت اور واضح مؤقف اپنایا اور آج بھی اس پر قائم ہے، عمران خان فلسطین کے حوالے سے قائد اعظم کی پالیسی کے امین ہیں۔
انہوں نے کہا کہ فلسطین کے نمائندوں اور ترک صدر طیب اردوان نے بھی فلسطین کے حوالے سے پاکستان کے کردار کو سراہا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم انسانی ہمدردی کی بنیاد پر فلسطین کو نہ صرف کووڈ کے لیے امداد بھیجیں گے بلکہ اس کے علاوہ جو حالیہ طبی ایمرجنسی کی صورت حال ہے اس پر ہم فلسطین کو امداد بھیجیں گے۔
انہوں نے کہا کہ انقرہ میں پاکستان، ترکی، فلسطین اور سوڈان کے وزیر خارجہ موجود ہیں اور انڈونیشیا کے وزیرخارجہ پہنچ رہے ہیں اور 5 ملکوں کے وزرائے خارجہ اکٹھے نیویارک جائیں گے۔
‘رنگ روڈ اسکینڈل میں وزیر یا مشیر ملوث نہیں’
رنگ روڈ اسکینڈل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ رنگ روڈ کے حوالے سے اخبارات میں بھی رپورٹس آئی ہیں اور حکومت پنجاب کی جانب سے جو رپورٹ دی گئی تھیں، اس سے کابینہ کو آگاہ کردیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی ہی حکومت ہے اور وزیراعظم عمران خان کی جرات ہے کہ وہ ہمارے ایسے معاملات پر بھی دلیرانہ اقدامات کرتے ہیں جو عمومی حکومتیں ہوتیں تو نہ کرتیں۔
انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی یا مسلم لیگ (ن) کی حکومت ہوتی تو میڈیا کے چیخ چیخ کر گلے بیٹھ جاتے لیکن سوال پیدا نہیں ہوتا کہ کوئی تحقیقات ہوتیں اور کسی کے خلاف کوئی ایکشن ہوتا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ اس حکومت میں کسی اسکینڈل کی بات آتی ہے تو بڑے اعلیٰ سطح پر تحقیقات ہوتی ہیں اور ذمہ داروں کے تعین کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جاتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کا نکتہ نظر ہے کہ لوگ چاہے جتنے طاقت ور ہوں انہیں قانون کے سامنے آنا ہے اور قانون کے برابر آنا ہے اور اس پر جس طرح وزیراعظم نے عمل درآمد کیا ہے اس کی کوئی اور مثال نہیں ملتی۔
رنگ روڈ منصوبے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ بڑا اچھا ہے کہ راولپنڈی میں ہیوی ٹریفک شہر کے اندر نہ آئے، 2017 میں یہ منصوبہ بنا، جنوری 2018 میں ابتدائی الائنمنٹ کی منظوری دی گئی۔
انہوں نے کہا کہ یہ اسکینڈل اس وقت شروع ہوا جب اس منصوبے پر کام کرنے والے ایک انجینئر نے وزیراعظم کو لکھا کہ اس منصوبے کی الائنمنٹ کو تبدیل کردیا گیا ہے اور خصوصاً سنگجانی کے پوائنٹ پر تنگ کردیا گیا ہے اور اس سے حادثے بڑھیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ شکایت پر وزیراعظم نے پوچھا تو کہا گیا کہ کوئی الائمنٹ تبدیل نہیں کی گئی، وزیراعظم نے ایک آزادانہ تحقیقات کا فیصلہ کیا۔
فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ فیکٹ شیٹ میں آیا کہ نہ صرف الائمنٹ تبدیل کی گئی بلکہ 29 کلومیٹر اٹک کی طرف بڑھا دیا گیا ہے اور اس کا مقصد تھا کہ ہاؤسنگ سوسائیٹیز کو اس میں شامل کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ اسکینڈل کے نتیجے میں اربوں روپے کھانے سے بچالے گئے اور یہ اسکینڈل بھی یہی ہے کہ اربوں روپے کو کھانے سے پہلے ہی بچالیا گیا کیونکہ اس کو اٹک رنگ روڈ بنایا گیا اور 23 ارب روپے کی نئی زمین شامل کی جانی تھی اور اٹک کی زمین شام کی جانی تھی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ اس رپورٹ میں غلام سرور خان اور زلفی بخاری کا نام نہیں ہے لیکن سوشل میڈیا کے اوپر وزرا کے نام لیے گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ زلفی بخاری سمندر پار پاکستانی ہیں اور ان کی ننھیال توقیر شاہ صاحب کی زمین اس سے فائدہ اٹھاتی ہے لیکن زلفی بخاری کا تعلق نہیں ہے کیونکہ توقیر شاہ سے اس طرح کا کوئی رابطہ نہیں ہے کہ ان کو کوئی فائدہ پہنچا سکیں۔
انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود زلفی بخاری نے استعفیٰ دیا کہ جب تک تحقیقات مکمل نہیں ہوتیں مجھے وہاں رہنا مناسب نہیں ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ غلام سرور خان کہتے ہیں اس پوری جگہ پر میری ایک انچ بھی زمین دکھادیں تو میں اس کا ذمہ دار ہوں، اس لیے ابھی تک کی تحقیقات واضح ہے کہ پیسے کھانے سے بچالیا گیا اور حکومت کے اربوں روپے بچا لیے گئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی تحقیقات میں ہمارے کسی وزیر یا مشیر کا نام نہیں آتا، زلفی بخاری نے اخلاقی معیار پر استعفیٰ دیا اور وہ اس میں سرخرو ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ اینٹی کرپشن اور دیگر ادارے اس کی مکمل تحقیقات کرنے جارہے ہیں اور اس کے مطابق معاملہ آگے بڑھے گا۔
حکومت نے قومی اسمبلی میں انتخابی اصلاحات پر بحث شروع کرنے کا فیصلہ کرلیا
اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کی رپورٹ 2020-2019 کو قومی اسمبلی میں پیش کرکے انتخابی اصلاحات کے عمل کو شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
وزیر اعظم عمران خان کی زیرصدارت کابینہ کے اجلاس میں متنازع راولپنڈی رنگ روڈ منصوبہ بھی زیربحث آیا اور وزیر اعظم نے اس پر برہمی کا اظہار کیا کہ وزیر ایوی ایشن غلام سرور خان نے اس معاملے پر صحافیوں سے بات کیوں کی؟
کابینہ کے اراکین کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب سے قبل وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے سرکاری دورے سے مسلم ریاستوں سے آگاہ کیا گیا جہاں وہ بے گناہ فلسطینیوں کے قتل پر اسرائیل کے خلاف مسلم دنیا میں غم و غصے کا اظہار کریں گے۔
کابینہ کے اجلاس کے بعد انتخابی اصلاحات کے اقدام کی تفصیلات میڈیا کے ساتھ شیئر کرتے ہوئے وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ حکومت ای سی پی کی رپورٹ 2020-2019کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے جا رہی ہے کیونکہ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے لیے مجوزہ انتخابی اصلاحات اہم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر حزب اختلاف اس میں حصہ نہیں لیتی ہے تو بھی ہم پیر سے بحث شروع کردیں گے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت نے اگلے عام انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں (ای وی ایم) کو ای سی پی کی جانب سے استعمال کرنے کے لیے پہلے ہی ایک آرڈیننس جاری کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ اس ہفتے قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر اور پارلیمانی امور کی وزارت پارلیمنٹ کے صحافیوں اور رہنماؤں کو ای وی ایم کی جانچ پڑتال کے لیے مدعو کرے گی۔
فواد چوہدری نے کہا کہ اس سے انہیں یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ یہ آلہ مستقبل میں انتخابات میں دھاندلی کی روک تھام کے لیے کس طرح موثر ثابت ہوں گے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ 2018 کے عام انتخابات کے بعد حزب اختلاف نے اپنی شکست کا نتیجہ رزلٹ ٹرانسمیشن سسٹم (آر ٹی ایس) کے خاتمے کا الزام لگایا تھا لیکن بعد میں انہوں نے کچھ اداروں کے اہلکاروں پر ووٹنگ پرچی جاری کرنے کا الزام عائد کیا اور آخر کار انہوں نے فارم کی عدم فراہمی کا دعوی کیا۔
فواد چوہدری نے کہا کہ اس کے برعکس انتخابی اصلاحات کی ضرورت نہیں ہے اور یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ عام انتخابات میں صرف پری پول دھاندلی ہوئی ہے۔
انہوں نے اپوزیشن سے کہا کہ وہ اپنا موقف واضح کرے کہ آیا وہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینا چاہتی ہے یا نہیں۔
حالیہ مہینوں میں ڈسکہ اور کراچی میں ہونے والے ضمنی انتخابات سے متعلق تنازعات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے ملک میں شفاف انتخابات کو یقینی بنانے کے لیے ای ووٹنگ سسٹم کو حتمی حل قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ اس سے پولنگ کے 20 منٹ بعد کسی حلقے کے انتخابی نتائج کا اعلان کرنے میں مدد ملے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کبھی بھی شفاف انتخابات کے ذریعے اقتدار میں نہیں آئی تھی کیونکہ 1990 میں عدالت عظمی نے اعلان کیا تھا کہ پارٹی نے انتخابات میں کامیابی کے لیے منظم دھاندلی کی ہے۔
منبع: ڈان نیوز
