English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

شطرنج کی اگلی چال کیا ہوگی؟

القمر

پاکستان میں دو روز سے حکمراں جماعت پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے ناراض رہنما جہانگیر ترین کی جانب سے بنائے جانے والے ‘ہم خیال گروپ’ اور اس کے حکومت پر ممکنہ اثرات پر تبصروں اور تجزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ ترین گروپ کی زیادہ توجہ پنجاب پر ہے اور وہ جب چاہیں یہاں تبدیلی لا سکتے ہیں۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب تک ملک کے مقتدر حلقے نہیں چاہیں گے اس وقت تک تبدیلی نہیں آ سکتی۔ جہانگیر ترین نے بدھ کو صبح لاہور کی بینکنگ کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو میں کہا تھا کہ پنجاب میں اُن کے ہم خیال پارٹی رہنماؤں کے خلاف انتقامی کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں۔تاہم، جمعرات کو وفاقی وزیرِ داخلہ شیخ رشید احمد سے ملاقات کے دوران پنجاب کے وزیرِ اعلٰی عثمان بزدار نے کہا کہ پنجاب میں کسی کے خلاف بھی انتقامی کارروائی نہیں ہو رہی۔ وزیر اعلٰی پنجاب نے ترین گروپ کے متحرک ہونے کے بعد اراکینِ پنجاب اسمبلی سے ملاقاتیں بھی شروع کر دی ہیں۔ ترجمان وزیرِ اعلٰی کے مطابق عثمان بزدار نے دو روز میں 50 سے زائد ارکان سے ملاقاتیں کی ہیں۔ ایسا لگ رہا ہے جیسے پنجاب میں کچھ ہونے والا ہے۔

تاہم یہ بات کسی صورت رد نہیں کی جاسکتی کہ پنجاب میں کوئی بھی تبدیلی ن لیگ کے بغیر ہرگز ممکن نہیں ہے۔ ن لیگ اگر آج چاہے تو وہ پنجاب میں تبدیلی لا سکتی ہے مگر وہ ہرگز ایسا نہیں کرے گی اور شاید ایسا نہ کرنے کی وجہ سے ہے مقتدرہ کو جہانگیر ترین کی شکل میں ایک مضبوط گروپ پنجاب میں اتارنا پڑا۔ اور اب یہ ممکن ہے کہ ن لیگ جہانگیر ترین گروپ سے ڈیل کرنے کی کوشش کرے اور ترین گروپ ن لیگ کے ساتھ مل کر چلنے پر تیار ہوجائے مگر اس شرط پر کہ ن لیگ پنجاب میں تبدیلی کے لیے ترین گروپ کا ساتھ دے۔  یہ بات تو طے ہے کہ  پاکستان کی سیاست میں ایسا ممکن نہیں ہے کہ اسٹیبلشمنت کی مدد کے بغیر کوئی بھی اتنا بڑا گروپ بنا لے۔ لہذٰا، کہیں نہ کہیں سے ڈوریاں ہلائی جا رہی ہیں۔  در پردہ اگر کچھ نہ چل رہا ہوتا تو جہانگیر ترین گروپ کبھی بھی وجود میں نہ آتا مگر ایسا لگ رہا ہے کہ پس پردہ کچھ نہ کچھ چل رہا ہے اور جہانگیر ترین گروپ کو مقتدرہ کی اگر مکمل نہیں تو کچھ نہ کچھ حمایت ضرور حاصل ہے۔ اگر ن لیگ اسٹیبلشمنٹ کا ساتھ نہیں بھی دیتی تب بھی جہانگیر گروپ کا یہ دعوٰی کہ ان کے پاس 33 اراکین کی حمایت ہے تو ساتھ ق لیگ اور پیپلز پارٹی مل کر اگر بزدار حکومت کو گرا نہیں سکتے تب بھی کم از کم حکومت کے لیے سخت مشکلات ضرور پیدا کر سکتے ہیں۔

تاہم پاکستانی عوام کے لئے یہ کوئی نیا کھیل نہیں ہے۔ ماضی کی تاریخ ایسے سیاسی جوڑ توڑ اور ریشہ دوانیوں سے بھری پڑی ہے۔ پہلے ایک پارٹی کے سر پر ہاتھ رکھ کر اسے اقتدار تک لایا  جاتا ہے پھر اسے اطاعت شعار بنائے رکھنے کے لئے دباؤ کے مختلف ہتھکنڈے اختیار کئے جاتے ہیں۔ جب تک اپوزیشن پارٹیاں حکومت اور عمران خان کو کمزور کرنے کے لئے سیاسی جوڑ توڑ کررہی تھیں، اس وقت تک بھی بات سمجھ میں آتی تھی۔ عمران خان کا سخت گیر اور سیاسی انتقام پر مبنی رویہ اور اپوزیشن کو سیاسی سپیس دینے سے انکار نے ملک کی دونوں بڑی پارٹیوں کو نالاں کیا ہؤا تھا جس کے نتیجے میں پاکستان جمہوری تحریک کے قیام کے علاوہ ایسے احتجاجی جلسوں تک بات پہنچی جن میں دھؤاں دار تقریریں کی گئیں اور حکومت کے علاوہ اس کے ’سرپرستوں‘ کو چلتا کرنے کا اعلان کیا گیا۔ پھر درون خانہ نہ جانے کون سے قیامت ٹوٹی کہ عمران خان کی کرسی کھینچنے والے ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے لگے۔ نتیجتاً لانگ مارچ اور احتجاجی تحریک کا قصہ تمام ہؤا اور لگنے لگا کہ ابھی ایک پیج میں جان باقی ہے۔

تحریک انصاف میں بڑھتے ہوئے اختلافات، گزشتہ دنوں رنگ روڈ اسکینڈل میں نام آنے پر عمران خان کے قریبی دوست اور معاون خصوصی زلفی بخاری کا استعفی اور اسی اسکینڈل میں وفاقی وزیر غلام سرور پر الزامات اور ان کی وضاحت پر وزیر اعظم کا اظہار ناراضی، کسی مستحکم حکومت کے اشاریے ہیں۔ حکومت اور پارٹی میں بڑھتے ہوئے اختلافات دراصل یہ واضح کرتے ہیں کہ عمران خان کی قیادت میں قائم ہونے والی حکومتیں اہداف حاصل کرنے میں ناکام ہیں۔ داخلی معاشی مسائل اور دباؤ سے قطع نظر خارجہ امور میں حکومت واضح طور سے بے یقینی و بے عملی کا شکار ہے۔ وزیر اعظم کو اپنی اتھارٹی بحال رکھنے اور حکومت کو فعال بنانے کے لئے پارلیمنٹ سے مکمل تعاون کی ضرورت ہے اور اپوزیشن کے ساتھ اشتراک عمل وسیع کرنا اہم ہے۔ اس کے برعکس عمران خان کشمیر کے بعد فلسطین کے سوال پر بیان بازی، شہباز شریف کی بیرون ملک روانگی کو ناکام بنانے میں صلاحیت صرف کرنے اور انتخابی قوانین میں من پسند ترامیم ٹھونسنے کا جتن کرکے ایک بہتر، انصاف پسند اور مضبوط لیڈر کا امیج بنانے کی کوشش کررہےہیں۔ عمران خان ابھی تک یہ سمجھنےمیں ناکام ہیں کہ ان کی حکومت کا اصل مسئلہ معیشت کی دگرگوں حالت ہے۔ عوام بیروزگاری اور مہنگائی سے تنگ ہیں اور فوج مسلسل دفاعی اخراجات میں کمی پر سر پکڑے بیٹھی ہے۔ وزیر اعظم کو البتہ معیشت اڑان بھرتی دکھائی دیتی ہے کیوں کہ ترسیلات زر میں اضافہ ہورہا ہے۔ حالانکہ جس طرح کوئی بھی معیشت حقیقی معنوں میں نہ تو قرض اٹھا کر ترقی کرسکتی ہے، اسی طرح تارکین وطن کی ترسیلات زر کو معاشی احیا کی بنیاد نہیں کہا جاسکتا۔

جمہوری جماعتوں، اپوزیشن جماعتوں اور حکومتی جماعتوں میں اس طرح کے اتحاد اور فارورڈ بلاک بنتے رہتے ہیں مگر تحریک انصاف کے لیے اس فارورڈ بلاک کی موجودگی اس لیے خطرناک ہے کہ پارتی کی اپنی کارگردگی نہ ہونے کے برابرہ ہے اور اگر اس کے خلاف کوئی بھی غیر آئینی یا آئینی قدم بھی اٹھایا جاتا ہے تو عوام بجائے حکومت کی حمایت کرنے کے شکر کا کلمہ ادا کریں گے۔ یہاں یہ بات بھی ہرگز نہیں بھولنی چاہیے کہ سیاست کے کھیل میں جس قدر کھلاڑی زیادہ ہوں گے شطرنج کے کھلاڑیوں کو کھیل کا اتنا ہی مزہ آئے گا۔ اگر تحریک انصاف کی حکومت پانچ سال پورے کر جاتی ہے تو سیاست کے کھیل سے ہمیشہ کے لیے اس کی چھٹی ہوجائے گی اس لیے یہ بھی ممکن ہے کہ اس کو سیاسی شہید بنانے کے لیے کوششیں کی جارہی ہوں اور جہانگیر ترین گروپ کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جانے کا امکان ہو کیونکہ تحریک انصاف کی بدترین کاکردگی کے بعد اب اس جماعت کے نہ صرف حصے بخرے ہوجائیں گے بلکہ شاید ہی یہ اقتدار کا مزہ دوبارہ چکھ سکے۔ اس لیے اگر عمران خان کو سیاست میں زندہ رکھنا ہے تو اس کے لیے ایک ہی جواز ہے اور وہ سیاسی شہادت ہے اور شطرنج کے کھلاڑی اگلی چال کیا چلیں گے کوئی نہیں جانتا۔

جمعتہ المبارک، 21 مئی 2021

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے