English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

تجزیہ 73

القمر

اسرائیل  کی فلسطین میں پر تشدد کاروائیاں  ایک بار پھر غزہ، القدس اور دریائے اُردن کے مغربی کنارے پر زور پکڑ رہی ہیں۔

سیتا  سیکیورٹی تحقیقاتی  ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر مراد یشل طاش کا اس موضوع پر جائزہ ۔۔۔۔

اسرائیل خاصکر  غزہ کی پٹی پر  سینکڑوں شہریوں کے ہلاک اور ہزاروں کے زخمی ہونے والے حملوں کے مزید ایک نئے سلسلے کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس عمل کے عقب میں   فلسطین پر قبضے اور اس قبضے  کے تمام تر اثرات  پر پردہ ڈالنے اور اس معاملے کو غزہ کا ایک معاملہ ہونے   کا روپ دینے کی حکمت  ِعملی  کارفرما ہے۔ اسرائیل کےقیام سے لیکر ابتک  فلسطین پرمرحلہ وار  قبضے کے عمل میں اورحملہ آور پالیسیوں میں بنیاد بنائے جانے والے مشروطیت   کے اسباب سے متعلق  متعدد عناصر کو  پیش کیا جانا ممکن ہے۔ تا ہم ان میں سے  خاصکر تین عوامل نمایاں ہیں۔

پہلا  معاملہ دوسری جنگِ عظیم کے دوران  پیش آنے والی یہودی نسل کشی    کے عمل سے مؤثر طریقے سے استفادہ کرنا ہے۔  در حقیقت  جرمنی   کی  طرف سے کی گئی نسل کشی  کے بعد  یہودی مخالف  دشمنی  کی ممانعت  نے زور پکڑا اور  دوبارہ اس قسم کے واقعات کا سامنا نہ کرنے کے لیے خاصکر   یورپی ممالک میں وسیع پیمانے پر شعور اور آگاہی کا ماحول قائم کیا گیا ۔ تاہم اسرائیل  نے  اپنے قیام سے لیکر یہودی مخالف دشمنی  کے نظریے کو وسعت دیتے ہوئے  عمل درآمد کردہ سخت گیر پالیسیوں کو جائز قرار دینے کی زمین ہموار  کرنی شروع کر دی۔ اسرائیل نے فلسطین میں عمل درآمد کردہ پالیسیوں پر چھوٹی موٹی تنقید کو بھی اسی زمرے میں شامل کرنا  شروع کر دیا اور  اسرائیل پر  تقریبا تمام تر نکتہ چینیوں کو  تل ابیب انتظامیہ نے یہودی  دشمنی   کے  طور پر بیان کرنے کے عمل کو شروع کر دیا۔

اس چیز کا اہم پہلو  اسرائیل  کے اس چیز کو داخلی پالیسیوں کے لیے استعمال کرنے کا کچھ حد تک سمجھا جا سکتا ہے، لیکن یہودی دشمنی کے لیبل کو سرعت سے امریکہ اور یورپی ممالک  میں پذیرائی ملی اور  اس   حساسیت کو اسرائیلی  حکام سے پہلے  متعلقہ ممالک کے اعلی حکام کی جانب سے  زیر ِ لب لایاجانے لگا۔  اس وساطت سے اسرائیل کی قابض پالیسیاں اور  اس سلسلے میں تمام تر عمل درآمد تقریباً ناقابل  بحث ماہیت اختیار کر گئے۔

اسرائیل کے فلسطین پر قبضہ جمانے کی پالیسیوں میں  کس قدر جرات مندی کا مظاہرہ کرنے  میں مؤثر ہونا والا ایک دوسرا عنصر  بلا مشروط امریکہ کی اسرائیل لابی  ہے۔  اسرائیل کو اس کے اعلانِ قیام کے  11 منٹ بعد امریکہ کی جانب سے تسلیم کرتے ہوئے  شروع سے ہی امریکی سیاسی حمایت   حاصل ہے۔ امریکی سیاسی حمایت  ابتدائی  طور پر مرحلہ وار شروع ہوئی ، علاقائی ممالک سے کسی قسم کا رد عمل سامنے نہ آنے کے مشاہدے کے بعد  سن 1967 کے بعد خطے میں ’اسرائیل کی فوجی بالا دستی‘ کا اصول اساس بن گیا۔

جو بائڈن کے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد اسرائیل کو دی گئی بلا مشروط حمایت   میں ایک مختلف مؤقف کی توقعات نے جنم لیا۔  کیونکہ جو بائڈن نے انتخابی مہم کے دوران  اسرائیل کے تحفظ  کی پشت پناہی کرنے کا عندیہ دیا تھا تو  اس کے ساتھ ساتھ عالمی اداروں اور انسانی حقوق کو بھی اہمیت دینے کا دو ٹوک الفاظ میں اظہار کیا تھا۔ تاہم بائڈن انتظامیہ کے اسرائیل  کی حالیہ ایام میں جارحیت  کے برخلاف رد عمل کو مد ِ نظر رکھنے سے  ٹرمپ کے بعد فلسطین کے معاملے میں توقعات کے  بے سود ثابت ہونے کا واضح طور پر مشاہدہ ہورہا ہے۔

اسرائیلی جارحیت  میں زمین ہموار کرنے والا اور فلسطین  پر قابض پالیسیوں میں اس حد تک جرات مند  کاروائیاں    کرنے میں مؤثر ہونے والا تیسرا عنصر  علاقائی توازن اور اداکاروں  کے مختلف مفادات  کا حساب کتاب کرنے سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ عنصر مسئلہ فلسطین کے منظر عام پر آنے  اور پیش آنے والی عرب۔اسرائیل جنگوں  کے بعد سے  ابتک نمایاں ہے۔  اسرائیل خطے کے ممالک کے مختلف مفادات کے باعث  اور  ان کے ہم آہنگی سے کام نہ لینے کے نتیجے میں پوری   فلسطینی سرزمین پر قبضہ جمانے میں کامیاب ہوا ہے۔

علاقائی توازن  نے خاصکر گزشتہ 10 برسوں میں اسرائیل کی جانب اپنا پلڑا بھاری کیا ہے، حتی ٰ اسرائیل کو اس تبدیلی کی خاطر کثیر رقوم بھی خرچ کرنی پڑیں۔ اس  اعتبار سے مصر میں صدر حسنی مبارک کی حکومت کا تختہ الٹائے  جانے کے بعد کیمپ ڈیوڈ   نظام میں بگاڑ آنے کے  احتمال کے باعث  شدید خدشات کے شکار اسرائیل  نے سال 2013  میں اس ملک میں ہونے والی بغاوت کے بعد اور شام میں  خانہ  جنگی کے زور پکڑتے ہوئے  جاری رہنے پر سکھ کا سانس لیا تھا۔ اس نے   خطے میں تبدیلی۔صورتحال کو برقرار رکھنے  کی  جدوجہد میں بحالتِ موجودہ بلاک  کے ساتھ ڈھکا چھپا تعاون قائم کیا اور  امریکی حمایت کی بدولت  فلسطین پر قبضہ کرنے کی پالیسیوں  پر باآسانی عمل درآمد کرنے کا موقع حاصل کیا۔ 

ان تمام تر عوامل  میں یا پھر کم از کم کسی ایک میں آنے والی تبدیلیاں اسرائیل  کے اب کے بعد کے فلسطین میں اقدامات کو بھی متاثر کرنے  میں بارآور ثابت ہوسکتی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے