وزیراعظم عمران خان کراچی ایٹمی بجلی گھر کے دوسرے یونٹ کے ٹوکاافتتاح کررہےہیں11سومیگاواٹ کا کے ٹو نیوکلیئرپلانٹ سٹیٹ آف دی آرٹ جنریشن تھری نیوکلیئرپاورپلانٹ ہے جس میں سلامتی اور حفاظت کے سٹیٹ آف دی آرٹ انتظامات ہیں اور پلانٹ کا کام کرنے کاعرصہ ساٹھ سال ہے جس کومزیدبیس سال تک بڑھایاجاسکتاہے۔پلانٹ کی تعمیرنومبردوہزارتیرہ میں شروع ہوئی تھی ،پاکستان نیوکلیئرریگولیٹری اتھارٹی کی رسمی منظوری کے بعد گزشتہ سال یکم دسمبرکونیوکلیئرایندھن کی تنصیب کاکام شروع ہواتھا۔
پلانٹ کوعملی طورپرآزمانے کے بعدپیداوارمیں بتدریج اضافے کے لئے اس سال اٹھارہ مارچ کو اسے نیشنل گرڈسے منسلک کردیاگیا۔پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن کے زیرانتظام چھ ایٹمی بجلی گھرکام کررہے ہیں ان میں سے دوبجلی گھر کراچی کے ساحل کے قریب واقع ہیں جبکہ چاربجلی گھرچشمہ میں کام کررہے ہیں۔اب تک پاکستان میں ایٹمی ذرائع سے چودہ سومیگاواٹ بجلی حاصل کی جارہی ہے۔اس بجلی گھرسے نیشنل گرڈمیں گیارہ سومیگاواٹ بجلی شامل ہو گی، اسی صلاحیت کاکے تھری ایٹمی بجلی گھر اس وقت آخری مراحل میں ہے اورتوقع ہے کہ یہ اگلے سال کے شروع میں بجلی پیدا کرنے لگے گا۔
